بجلی کا نیا فلیٹ ریٹ پھر بڑھی بنکروں کی بےچینی
بجلی کا نیا فلیٹ ریٹ پھر بڑھی بنکروں کی بےچینی ! !
تحریر: جاوید اختر بھارتی
بنکروں کے اندر ایک بار پھر بے چینی بڑھی چھوٹے مزدور بنکروں کے سامنے روزی روٹی کے لالے پڑ گئے بچوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کرنے میں جہاں دشواری کا سامنا ہے وہیں بے روزگاری بھی دامن پسارتی جارہی ہے آج بنکر اکثریتی علاقوں میں بہت سے ایسے گھر ہیں کہ چولھے میں آگ نہیں جل پاتی اور بچوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوپاتی
ایک طرف اترپردیش کی حکومت نے اٹل بہاری واجپئی بجلی فلیٹ ریٹ اسکیم کے تحت بنکروں کے لیے فی پاور لوم 400 روپیہ ماہانہ بجلی بل کی شرح متعین کردیا ہے یعنی فی کلو واٹ 800 روپیہ ماہانہ بجلی کا بل بنکروں کو دینا ہوگا جبکہ حالت یہ ہے کہ بنکر کسی بھی حالت میں اسے ادا نہیں کرپائے گا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ قرضدار ہو جائے گا
آرسی کٹے گی اور اس کا جینا دوبھر ہوجائے گا،، جیسے اترپردیش حکومت کا یہ فرمان جاری ہوا تو بجلی محکمہ فوراً حرکت میں آگیا بجلی چیکنگ، اضافی لوڈ، بقایا کے نام پر کنکشن کاٹنے کا سلسلہ شروع ہوگیا مقدمات درج کرانے کی دھمکیاں دے کر ناجائز وصولی بھی کی جانے لگی آج حالت یہ ہے کہ بنکروں کے اندر پولیس محکمہ کا اتنا ڈر نہیں ہے جتنا کہ بجلی محکمہ کا ڈر ہے اور ساری مار گھوم پھر کر چھوٹے بنکروں پر پڑ رہی ہے
ا سی وجہ سے بنارس، گورکھپور مئو ائمہ، بارہ بنکی، میرٹھ،ٹانڈہ، جلال پور، اعظم گڑھ، مبارکپور، محمدآباد گوہنہ،ولیدپور بھیرہ، سنت کبیر نگر، جونپور، بھدوہی، امرڈوبھا، مہراج گنج، بستی، بڑہل گنج، خیرآباد، ادری، گھوسی، پورہ معروف، کوپا گنج وغیرہ علاقوں میں خود میں نے جاکر دیکھا ہے لوگ حکومت کے اس فیصلے اور اعلان کی مخالفت کررہے ہیں اس بیچ صرف ایک بنکر اکثریتی علاقہ ہے جو خاموش ہے اور اس کی وجہ نہ جانے کیا ہے لیکن اداسی تو وہاں پر بھی نظر آتی ہے،، اترپردیش میں مغرب سے لے کر مشرق تک، شمال سے لے کر جنوب تک بنکروں کے چہرے افسردہ ہیں ان کے بچوں کے لبوں پر تبسم کے بجائے آنکھوں میں خون کے آنسو ہیں
دوسرا مسلہ یہ ہے کہ بڑے بنکروں نے جنہیں سیٹھ اور گرہست کے نام سے جانا جاتا ہے انہوں نے بھی چالیس چالیس روپے تک مزدوری گھٹا دی ہے کیونکہ یہی ان کے نزدیک سب سے آسان راستہ ہے اس بحران سے نمٹنے کا چاہے بھلے ہی مزدور بنکر بھوکا مرے ایک اور مسلہ یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں بجلی محکمہ و بنکروں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوتی جارہی ہے
بنارس، ٹانڈہ، سنت کبیرنگر، محمدآباد گوہنہ، جہانا گنج، خیرآباد کی بنکر کمیٹیوں کے ذمہ داران اس کوشش میں مصروف ہیں کہ بنکروں اور بجلی محکمہ کے درمیان ٹکراؤ سے بچا جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ ان بنکر کمیٹیوں کے ذمہ داران کا اترپردیش کی حکومت سے یہی مطالبہ ہے کہ ماہانہ بجلی کا بل فی پاور لوم 400 روپے کے بجائے فی کلو واٹ 400 روپیہ کردیا جائے اسی سے بنکروں کا بھلا ہوگا نہیں تو ایک بار پھر بنکر تحریک چلانے پر مجبور ہوگا کیونکہ آج جو صورت حال ہے ایسے میں تو خاموش رہ کر یا گھر بیٹھ کر بھی زندہ رہنا مشکل ہے
اب آئیے ذکر کرتے ہیں بنکر تحریک کا حال میں بلدیاتی انتخابات اختتام پذیر ہوا ہے بہت سے بنکر نمائندوں کے اندر سے ہار جیت کی خوشی اور خمار ابھی تک نکلا نہیں ہے اس لیے عام بنکروں کے سامنے یہ مسلہ ہے کہ بنکر تحریک کی قیادت کون کرے گا
حالاں کہ یہ بھی ایک مسلہ اور المیہ ہے کہ عام بنکر کس کی قیادت تسلیم کرے کیوں کہ ایک ضلع میں کئی کئی بنکر تنظیمیں ہیں اور سب ایک دوسرے سے اختلاف رکھتی ہیں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں بھی مصروف رہتی ہیں، کل ملا کر دیکھا جائے تو بنکر لیڈران بنکروں کے مسائل کے حل کے لیے کم اور اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے کے لیے زیادہ فکر مند رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں،،ایک دوسرے کی شکایت بھی کرتی ہیں اور الزامات بھی عائد کرتی ہیں،، بنکر تنظیموں کے ذمہ داران کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا ہے کہ سیاسی اور سماجی تحریک میں فرق ہوتا ہے،،
سیاسی تحریک میں ایک دوسرے پر تنقید کی جاتی ہے اس لیے کہ ووٹ کا معاملہ ہوتا ہے مگر سماجی تحریک میں شکایت، غیبت، چغلی، الزام تراشیاں کرنے کی گنجائش نہیں ہے پھر بھی ایسا کیا جاتا ہے تو یہ آپسی بغض و حسد ہے اور بغض و حسد اپنے ہی کو کھاتا ہے اور آج چاہے نتیجہ کہئیے یا مثال وہ سامنے ہے،، یقیناً تجارت بہت عمدہ کام ہے بلکہ سنت رسول بھی ہے مگر اس میں جھوٹ شامل کردیا جائے گا تو یہ سنت رسول کی توہین ہوگی اور اس کے بعد بھی بے حیائی پر آمادگی ظاہر کی جائے گی تو اس کا بھیانک خمیازہ بھگتنا پڑے گا
اور یہ بھی سچائی ہے کہ ہم نے تجارت کے نام پر اپنے کاندھوں پر جھوٹ اور دھوکا دہی کی گٹھری ڈھونا شروع کردیا تھا اور آج بھی یہ کام ہو رہا ہے،، بجلی کا فلیٹ ریٹ نئے فرمان کے مطابق پریشان کن تو ہے ہی علاوہ ازیں تیار مال کی بکری نہ ہونا اور میٹریل کا مہنگا ہونا
اس سے بھی بنکروں کی کمر ٹوٹ رہی ہے جب کہ ویسے ہی روز مرہ کی زندگی کی ضروریات پر دیکھا جائے تو کھانے پینے کے جو سامان ہیں وہ بھی صدا بلند کررہے ہیں کہ پیسہ پھیک تماشہ دیکھ،، ایسی حالت میں بنکروں کے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہے
خود دوسروں کا تن ڈھکنے والا بنکر آج اپنا تن ڈھکنے کے لیے پیوند لگانے کے لیے مجبور ہے بنکروں کے سر پر اتنا شدید بحرانیت کا بادل چھایا ہوا ہے پھر بھی سیاسی پارٹیوں کی خاموشی تو یہی ظاہر کرتی ہے کہ بنکروں کے روشن مستقبل کی فکر کسی بھی پارٹی کو نہیں ہے اگر حکومت نے بنکروں کے مسائل پر توجہ نہیں دیا اور سیاسی پارٹیوں نے اپنی خاموشی کو نہیں توڑا اور بنکروں نے سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھتے ہوئے اپنا رہ نما پیدا نہیں کیا تو پاور لوم فروخت کرنے کا دن بھی آسکتا ہے، پشتینی پیشہ تنائی بنائی جیسی صنعت دم توڑدے گی ملک کے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور پونجی پتیوں کا بول بالا ہوئے گا اور بنکروں میں چاہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا سب کو ان پونجی پتیوں کی غلامی کرنی پڑے گی ویسے ہی بہت حد تک ہماری صنعت پر وہ قابض ہیں اور اس بات کو محسوس کرنے والوں نے محسوس کیا ہے
اسی وجہ سے وستر ادیوگ سنگھ اور ہندو بنکر واہنی کے لوگ بھی احتجاج و مظاہرہ کر رہے ہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بنکروں کی بھی ساری چھوٹی بڑی کمیٹیا سر جوڑ کر بیٹھیں اور مضبوط لائحہ عمل تیار کریں اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی صنعت کو بچانے کے لیے امن و سکون کے ساتھ احتجاج کریں اور اترپردیش کی حکومت سے مطالبہ کریں کہ بجلی کی نئی شرح سے متعلق فرمان کو رد کیا جائے فلیٹ ریٹ کو کم کیا جائے
اور بنکروں کا استحصال بند کیا جائے اور بنکر بھی یقین کرلے کہ آج جو حالات ہیں اس سے نمٹنے کے لیے صرف ایک راستہ ہے اور اس راستے کا نام سیاست ہے، منزل کا نام حصہ داری ہے کیوں کہ سیاست ہی ماسٹر چابی ہے جب سیاست سے دلچسپی ہوگی تب بنکر مزدوروں کے بہتے ہوئے پسینے میں ان کے ارمان اور جذبات کو محسوس کرنے والوں کی بڑی تعداد بھی نظر آئے گی اور ان کے ارمان اور جذبات کی ترجمانی کرنے والے بھی نظر آئیں گے مگر پہلے خود بنکروں کو سیاست کے شامیانے میں آناہوگا اس کے بعد بول بالا ہوگا نہیں تو پھر سارے ارمان پسینے کے ساتھ بہہ جائیں گے کوئی محسوس کرنے والا نہیں ہوگا اور فی الحال ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے
جاوید اختر بھارتی
سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
موبائل: 8299579972