مصنوعی ذہانت کا انقلاب

Spread the love

مصنوعی ذہانت کا انقلاب : کیا مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی؟

از قلم: توصیف شیخ
پی جی اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی،کیرالا

تاریخِ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے ہمیشہ اپنے تمدن کی عمارت اپنی ایجادات کے پتھروں سے تعمیر کی ہے۔ آگ کی دریافت سے لے کر پہیے کی ایجاد تک، اور چھاپہ خانے سے لے کر انٹرنیٹ کے جادو تک، ہر دور کی ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے ڈھانچے کو نئے معنی دیے۔ لیکن آج ہم جس ”مصنوعی ذہانت” کے عہدِ نو میں قدم رکھ چکے ہیں، وہ پچھلے تمام انقلابات سے اپنی فطرت میں یکسر مختلف اور کہیں زیادہ پراسرار ہے۔

یہ محض مشینوں کی رفتار یا کارکردگی میں اضافے کا قصہ نہیں، بلکہ یہ مشینوں کے ”بااختیار” اور ”صاحبِ ادراک” ہونے کا آغاز ہے۔ اب مشینیں صرف وہ نہیں کرتیں جو انہیں حکم دیا جائے، بلکہ وہ اب ہمارے اشاروں کو سمجھنے، ہمارے طرزِ عمل سے سیکھنے اور آزادانہ طور پر فیصلے کرنے کی جرات کر رہی ہیں۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں انسان نے پہلی بار ایک ایسی ”مصنوعی عقل” تخلیق کر لی ہے جو خود اس کے اپنے ہی وجود کے لیے ایک چیلنج بن کر ابھر رہی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے عروج نے دنیا بھر میں ایک لرزہ خیز بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا انسان اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی معزولی کا سامان تیار کر رہا ہے؟ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے کہ ایک بے جان مادہ (Silicon) انسانی اعصاب کی طرح کام کرنے لگے اور وہ تخلیقی و تجزیاتی کام سیکنڈوں میں کر ڈالے جن کے لیے انسان کو برسوں کی ریاضت درکار ہوتی تھی۔ شعور کی اس نئی لہر نے جہاں سہولتوں کے انبار لگا دیے ہیں، وہیں ایک ایسا نفسیاتی اور وجودی خوف بھی پھیلا دیا ہے جس نے ماہرینِ معاشیات سے لے کر عام مزدور تک سبھی کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ کیا یہ ٹیکنالوجی انسانی صلاحیتوں کو نئی وسعتیں دے گی یا ہمیں اپنے ہی بنائے ہوئے شاہکاروں کے سامنے بے بس اور غیر ضروری کر دے گی؟ یہ محض ایک سائنسی سوال نہیں، بلکہ اس دور کا سب سے بڑا انسانی المیہ ہے جس کا جواب ڈھونڈنا ہماری نسل کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت نے عالمی منڈی اور روزگار کے ڈھانچے میں جس تیزی سے نقب لگائی ہے، اس نے معاشی ماہرین اور عام طبقے دونوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ وہ شعبے جو کبھی خالصتاً انسانی ذہانت اور باریک بینی کے مرہونِ منت تھے، آج وہاں مشینوں کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ڈیٹا انٹری، بینکنگ، اکاؤنٹنگ اور گرافک ڈیزائننگ جیسے میدانوں میں AI نے ایک ایسا انقلاب برپا کر دیا ہے جس نے پرانے طریقوں کو قصہ پارینہ بنا دیا ہے۔ سیکنڈوں میں پیچیدہ حساب کتاب کرنا، ہزاروں صفحات کا عمیق تجزیہ کرنا، اور انسانی جذبات کو سمجھ کر ان کے مطابق بصری خاکے (Visuals) تیار کرنا اب مشینوں کے لیے محض ایک الگورتھم کی بات ہے۔ اس صورتحال نے اس ”وائٹ کالر” طبقے میں ایک گہرا ارتعاش پیدا کر دیا ہے جو اپنی ڈگریوں اور روایتی مہارتوں پر تکیہ کیے بیٹھے تھے۔


اس یلغار کا سب سے حساس پہلو وہ میدان ہیں جن کا تعلق زبان اور بیان سے ہے، جیسے کہ ترجمہ نگاری (Translation) اور تخلیقی تحریر۔ شعبہ ترجمہ و موازنہ ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تبدیلی اور بھی نمایاں ہے۔ ماضی میں ایک زبان سے دوسری زبان میں متن کی منتقلی کو ایک مقدس فن سمجھا جاتا تھا جس میں مترجم اپنی روح پھونکتا تھا، مگر آج ”نیورل مشین ٹرانسلیشن” (NMT) نے زبانوں کی دیواریں گرا دی ہیں۔ اگرچہ مشین ابھی تک انسانی تخلیق کے جوہر تک نہیں پہنچ سکی، مگر اس کی رفتار اور درستی نے پیشہ ورانہ مترجمین کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اب مقابلہ صرف علم کا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی کا ہے؛ یعنی اب صرف وہ مترجم یا قلمکار مارکیٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکے گا جو AI کو حریف سمجھنے کے بجائے اسے ایک ”اسمارٹ ٹول” کے طور پر استعمال کرنا جانتا ہو۔


روزگار کے اس بدلتے ہوئے نقشے میں سب سے بڑا خطرہ ان لوگوں کو ہے جو اپنی مہارتوں کو وقت کے ساتھ اپ گریڈ (Upgrade) کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ جدید معیشت اب ”ڈگری” سے زیادہ ”مستقل سیکھنے کی صلاحیت” (Adaptability) کا تقاضا کر رہی ہے۔ AI کے اس دور میں وہ ملازمتیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں جو تکرار (Repetitive) اور یکسانیت پر مبنی تھیں، جبکہ ان کاموں کی قدر بڑھ رہی ہے جہاں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور پیچیدہ مسائل کے حل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب ہمیں ایک ایسے تعلیمی اور پیشہ ورانہ ماحول کی ضرورت ہے جہاں انسان اور مشین ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے مددگار کے طور پر کام کریں۔ مستقبل کے کامیاب ملازم یا تخلیق کار کے لیے اب ”ڈیجیٹل لٹریسی” ایک آپشن نہیں بلکہ بقا کی بنیادی شرط بن چکی ہے


مصنوعی ذہانت کی تمام تر حیرت انگیز ترقی کے باوجود، ایک ایسی ناقابلِ عبور سرحد ہے جہاں پہنچ کر تمام مشینیں اور ان کے پیچیدہ الگورتھمز بے بس ہو جاتے ہیں، اور وہ سرحد ہے ”انسانی شعور اور جذباتی ادراک”۔ ایک مشین ہزاروں کتابوں کا ڈیٹا تو اپنے اندر محفوظ کر سکتی ہے، مگر وہ اس ”دکھ” کو کبھی محسوس نہیں کر سکتی جو ایک ادیب کو ہجرت کا دکھ لکھتے ہوئے تڑپاتا ہے۔ شعبہ ترجمہ و موازنہ? ادب کے طالب علم کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ ترجمہ صرف ایک زبان کے لفظ کو دوسری زبان کا لباس پہنانا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تہذیب کی روح کو دوسری تہذیب میں منتقل کرنے کا نام ہے۔ مشین لفظ کا متبادل تو دے سکتی ہے، مگر وہ اس ”سیاق و سباق” (Context) اور اس ”تلمیح” یا ”استعارے” کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتی جو صدیوں کی انسانی تاریخ اور اجتماعی لاشعور سے جڑی ہوتی ہے۔
ادب کی دنیا میں اصل چیز ”بیان” نہیں بلکہ ”کیفیت” ہوتی ہے۔ جب ایک مترجم کسی شاہکار کا ترجمہ کرتا ہے، تو وہ مصنف کے لہجے کی حدت، اس کے ماحول کی خوشبو اور اس کے جملوں کے پیچھے چھپی خاموشی کو بھی محسوس کرتا ہے۔ مشینی ذہانت (AI) صرف اس ڈیٹا کی بنیاد پر نتائج نکالتی ہے جو اسے پہلے سے فراہم کر دیا گیا ہو، جبکہ انسانی تخلیق ایک ”نامعلوم” اور ”ان چھوئے” جذبے سے جنم لیتی ہے۔ مشین کبھی بھی موازنہ ادب (Comparative Literature) میں وہ باریک بینی پیدا نہیں کر سکتی جو دو مختلف تہذیبوں کے درمیان موجود لطیف فرق کو انسانی آنکھ سے دیکھ سکے۔ مشین کے پاس ”معلومات” (Information) تو ہو سکتی ہے، مگر وہ ”دانش” (Wisdom) اور ”بصیرت” کہاں سے لائے گی جو صرف زندگی کے تجربات، ٹھوکروں اور مشاہدات سے حاصل ہوتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی عمل میں ایک قسم کی ”مقدس دیوانگی” شامل ہوتی ہے، جسے ریاضی کے اصولوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مشین ”گرائمر” کے اعتبار سے تو درست جملہ لکھ سکتی ہے، لیکن وہ اس جملے میں وہ ”تاثیر” پیدا نہیں کر سکتی جو قاری کے دل کی دھڑکن تیز کر دے۔ لہٰذا، ادب، فن اور ترجمے کے میدان میں AI انسان کا متبادل نہیں بلکہ صرف ایک ”سیکرٹری” بن کر رہ سکتا ہے۔ وہ ہمیں لغات تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے، وہ ہمیں مسودے کی تدوین (Editing) میں سہولت فراہم کر سکتا ہے، مگر تخلیق کی وہ اصل چنگاری ہمیشہ انسان کے اپنے خونِ جگر سے ہی پھوٹے گی۔ مستقبل میں جیت اسی کی ہوگی جو مشینی تیزی کو انسانی گہرائی کے ساتھ جوڑنا جانتا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *