نکاح عائشہ رضی اللہ عنہا مستند روایات اور جدید اعتراضات کا تقابلی مطالعہ

Spread the love

نکاح عائشہ رضی اللہ عنہا مستند روایات اور جدید اعتراضات کا تقابلی مطالعہ

از قلم: زین العابدین انصاری
الباحث فی قسم القرآن و علومہ
دارالہدی اسلامک یونیورسٹی ،کیرالا

سیرتِ نبوی ﷺ انسانی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے نہ صرف ایک فرد کی اصلاح کی بلکہ پورے معاشرے کو فکری، اخلاقی اور سماجی اعتبار سے نئی بنیادیں فراہم کیں۔ رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو حکمت، رحمت اور انسانی فطرت سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔

تاہم عصرِ حاضر میں بعض حلقوں کی جانب سے سیرتِ نبوی ﷺ کے بعض واقعات کو ان کے تاریخی اور سماجی پس منظر سے الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے، جن میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا معاملہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اس نکاح کو بنیاد بنا کر نہ صرف رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر اعتراضات کیے جاتے ہیں بلکہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کو بھی ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے، جو ایک سنجیدہ علمی جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسولِ اکرم ﷺ کے نکاح کا ذکر مستند اسلامی مصادر قرآن، حدیث اور سیرت کی معتبر کتب میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ یہ نکاح عرب معاشرے کے ان سماجی اصولوں کے مطابق ہوا جو اس دور میں رائج تھے، اور جنہیں نہ صرف عرب بلکہ دنیا کے بیشتر معاشروں میں ایک فطری اور معمول کا عمل سمجھا جاتا تھا۔

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ قدیم، وسطی اور حتیٰ کہ جدید ابتدائی ادوار تک کم عمری میں نکاح ایک عام سماجی روایت رہا ہے، جسے نہ اخلاقی برائی سمجھا جاتا تھا اور نہ ہی اس پر اعتراض کیا جاتا تھا۔

اس کے برعکس، جدید دور میں اٹھائے جانے والے اعتراضات زیادہ تر موجودہ سماجی، قانونی اور ثقافتی معیارات کو ماضی پر منطبق کرنے کی کوشش ہیں۔ یہ طرزِ فکر علمی اعتبار سے کمزور ہے، کیونکہ تاریخ کو سمجھنے کا اصول یہ ہے کہ ہر واقعے کو اس کے اپنے زمانی اور معاشرتی تناظر میں پرکھا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو نہ صرف تاریخی حقائق مسخ ہو جاتے ہیں بلکہ انصاف اور علمی دیانت بھی مجروح ہوتی ہے۔


مزید یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شخصیت خود ان اعتراضات کی تردید کرتی ہے۔ وہ نہ صرف رسولِ اکرم ﷺ کی زوجہ تھیں بلکہ علم، فقہ، حدیث اور فہمِ دین میں امت کی عظیم معلمہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ سینکڑوں احادیث کی روایت، صحابہ کرامؓ کی رہنمائی، اور دینی مسائل میں ان کی بصیرت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی ذہنی، فکری اور شخصی نشوونما اعلیٰ درجے کی تھی۔

اگر یہ نکاح کسی جبر یا ناانصافی پر مبنی ہوتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی پوری زندگی اس کے برعکس شہادت نہ دیتی۔ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اٹھارویں، انیسویں اور بیسویں صدی تک دنیا کے مختلف غیر مسلم معاشروں—جن میں یورپ، امریکہ اور برصغیر شامل ہیں میں کم عمری کی شادیاں قانونی اور سماجی طور پر رائج رہیں۔ خود ان معاشروں کے قوانین، عدالتی فیصلے اور تاریخی ریکارڈ اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر صرف اسلام اور رسولِ اکرم ﷺ کو نشانہ بنایا جائے تو یہ ایک دوہرے معیار اور فکری تعصب کی واضح مثال ہے۔


لہٰذا‘‘نکاحِ عائشہ رضی اللہ عنھا : مستند روایات اور جدید اعتراضات کا تقابلی مطالعہ’’دراصل اس بات کی دعوت ہے کہ ہم جذبات، تعصب اور سیاسی یا فکری ایجنڈوں کے بجائے تحقیق، انصاف اور تاریخی شعور کی بنیاد پر بات کریں۔ یہ مطالعہ واضح کرتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہر اعتبار سے اخلاقی بلندی، انسانی وقار اور معاشرتی توازن کی اعلیٰ مثال ہے، اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات حقیقت سے زیادہ لاعلمی اور تعصب کی عکاسی کرتے ہیں۔


موجودہ دور میں یہ امر نمایاں ہو کر سامنے آ رہا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے اسلام اور اس کی مقدس شخصیات کو تنقید اور اعتراض کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے تاریخی حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔

خصوصاً برصغیر کے موجودہ سماجی و سیاسی تناظر میں یہ رجحان زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے، جہاں بعض غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جا رہا ہے بلکہ رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ اقدس پر بھی بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ان اعتراضات میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کا مسئلہ خاص طور پر زیرِ بحث لایا جاتا ہے، جسے دانستہ طور پر تاریخی سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔


یہ بات نہایت افسوس ناک ہے کہ چند سیاسی یا فکری عناصر کی جانب سے ایسے دعوے سامنے آئے جن میں نکاحِ عائشہ رضی اللہ عنھا کے بارے میں مستند اسلامی روایات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض جدید سماجی معیارات کی بنیاد پر اعتراضات کیے گئے۔

حالاں کہ اسلامی تاریخ، معتبر احادیث اور سیرتِ نبوی ﷺ پر ہونے والی صدیوں کی علمی تحقیق اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ یہ نکاح اپنے عہد کے سماجی اصولوں کے عین مطابق تھا، اور اس میں کسی قسم کی اخلاقی یا انسانی قباحت نہیں پائی جاتی۔

ان اعتراضات کا علمی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ دعوے تحقیق کے بجائے تعصب اور لاعلمی پر مبنی ہیں۔ نکاحِ عائشہ رضی اللہ عنھا پر اٹھائے جانے والے جدید اعتراضات دراصل اس بنیادی اصول کو نظر انداز کرتے ہیں کہ تاریخ کو اس کے اپنے زمانے کے حالات، روایات اور اقدار کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔

اگر ہر تاریخی واقعے کو آج کے قانونی اور سماجی پیمانوں پر پرکھا جائے تو نہ صرف اسلامی تاریخ بلکہ دنیا کی بیشتر تہذیبوں کی تاریخ بھی اعتراضات کی زد میں آ جائے گی۔ اس حقیقت کے باوجود صرف رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو نشانہ بنانا ایک غیر منصفانہ اور جانبدارانہ طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔


یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ حضرت عائشہؓ کی پوری زندگی، ان کی علمی عظمت، فکری بصیرت اور امتِ مسلمہ میں ان کا بلند مقام ان تمام اعتراضات کی عملی تردید کرتا ہے۔ وہ محض رسولِ اکرم ﷺ کی زوجہ نہیں تھیں بلکہ حدیث، فقہ اور دینی علوم میں ایک مستند مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اگر یہ نکاح کسی جبر یا ناانصافی پر مبنی ہوتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی شخصیت اور خدمات اس کے برعکس گواہی نہ دیتیں۔

لہٰذا ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے اعتراضات کا جواب جذبات یا اشتعال کے بجائے علم، تحقیق اور حکمت کے ساتھ دیا جائے۔ یہی طریقہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے بلکہ حق و صداقت کے مؤقف کو مضبوط کرنے کا سب سے مؤثر راستہ بھی ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس پر ثابت قدم رہنے، اور رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو درست علمی تناظر میں پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ فکری انتشار کے اس دور میں حقیقت اور انصاف کی آواز واضح اور مضبوط ہو سکے۔


موجودہ حالات میں یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو بتدریج دیوار سے لگانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں، تاکہ ان کے حقوق سلب کر کے انہیں کمزور، محتاج اور بے بس بنا دیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت کبھی مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس سلسلے کی ایک نہایت افسوس ناک صورت اس وقت سامنے آئی جب بعض سیاسی شخصیات کی جانب سے رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخانہ بیانات دیے گئے۔


یہ امر نہایت تشویش ناک ہے کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی ذاتِ اقدس پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور تاریخی حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ خصوصاً حضرت عائشہؓ سے نکاح کے معاملے کو غلط انداز میں بیان کر کے نہ صرف اسلامی تاریخ کو نظر انداز کیا گیا بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچائی گئی۔ ایسے دعوے علمی تحقیق، مستند تاریخی مصادر اور انصاف کے تقاضوں کے سراسر منافی ہیں۔

اس موقع پر یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ میں دینِ اسلام اور اس کے عظیم پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے بارے میں حقائق پیش کرنا چاہتا ہوں، اور یہ سوال بھی اٹھانا چاہتا ہوں کہ کیا کم عمری میں شادی کا تصور صرف اسلام ہی سے منسوب کیا جا سکتا ہے؟

تاریخِ عالم کا غیر جانب دار مطالعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ مختلف ادوار اور مختلف مذاہب میں کم عمری کی شادی کا رواج موجود رہا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں بھی دنیا کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی کئی معروف شخصیات، مذہبی رہنماؤں، سنیاسیوں، صوفیوں اور حتیٰ کہ تحریکِ آزادی میں حصہ لینے والے رہنماؤں کی زندگیاں اس کی مثال پیش کرتی ہیں۔


اگر مذہبِ اسلام کی بات کی جائے تو یہ ایک ہمہ گیر اور آفاقی دین ہے، جو ہر زمانے اور ہر قوم کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ نبیِ اکرم ﷺ پر نازل ہونے والی کتابِ مقدس، قرآنِ مجید، قیامت تک کے لیے انسانیت کی رہبر ہے۔ اسلام کے عطا کردہ قوانین انسان کی فطرت، معاشرتی حالات اور زمانے کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھ کر مرتب کیے گئے ہیں۔ جہاں تک نکاح کا تعلق ہے، اسلام نے اصول و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر طبقے کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق دیا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے، اور آپ ﷺ کے اعمال و تعلیمات مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ تاہم، اسلام نہ صرف اپنے ماننے والوں بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی گزاریں۔ یہی اصول ایک کثیر مذہبی اور جمہوری معاشرے کی بنیاد ہونا چاہیے۔


افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض سیاسی عناصر کی جانب سے بار بار رسولِ اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کی کوئی حیثیت اور آواز نہیں۔

حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ناموسِ رسالت ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، اور اس کے تحفظ کے لیے صبر، حکمت، دلیل اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن جدوجہد ناگزیر ہے۔ اے میرے دوستو! آئیے اب میں آپ کو چند ایسے تاریخی حقائق سے روشناس کراتا ہوں جن پر غور کرنے سے بہت سی غلط فہمیاں خود بخود دور ہو سکتی ہیں۔ ان حقائق کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ کم عمری میں شادی کا معاملہ کسی ایک مذہب یا قوم تک محدود نہیں رہا، بلکہ مختلف ادوار اور معاشروں میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔


اگر دیانت داری کے ساتھ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ پر اس حوالے سے اعتراض کرنا محض تعصب اور لاعلمی پر مبنی ہے، کیوں کہ اس سرزمین پر رہنے والی متعدد نامور شخصیات جن میں حکمران، سیاسی رہنما، مذہبی پیشوا، صوفی، سنیاسی اور دانشور شامل ہیں۔اپنی زندگی میں کم عمری میں شادی کر چکی ہیں۔ ان مثالوں کا ذکر اس لیے ضروری ہے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ اسلام کو بلا وجہ نشانہ بنانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اور یہ دین ہر زمانے میں ہر قوم کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ رہا ہے۔


تاریخی روایات کے مطابق برصغیر کی چند معروف شخصیات کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے نکاح کم عمری میں ہوئے۔ مثال کے طور پر: مہاتما گاندھی کا نکاح کستوربا گاندھی سے کم عمری میں ہوا؛ ریاضی کے عظیم عالم شری نواس رامانوجن کی شادی بھی کم عمری میں بیان کی جاتی ہے؛ مشہور سائنس دان ستیندر ناتھ بوس کے نکاح کے حوالے سے بھی ایسی روایات ملتی ہیں؛ اسی طرح بعض ہندو مذہبی علما، سنیاسیوں، ادیبوں، صحافیوں اور حکمرانوں کی زندگیاں اس سماجی روایت کی عکاس نظر آتی ہیں۔


ان مثالوں کا مقصد کسی شخصیت یا مذہب کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ تاریخی اور سماجی تناظر کو نظر انداز کر کے صرف اسلام یا پیغمبرِ اسلام ﷺ پر اعتراض کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ ہر دور کے معاشرتی حالات اور روایات کو اسی کے پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعصب کے بجائے علم، تحقیق اور انصاف کی بنیاد پر بات کریں، اور اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ دینِ اسلام اور رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہر زمانے میں انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہی ہے۔


یہاں میں نے محض دس ایسی شخصیات کے نام بطور مثال پیش کیے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں کم عمری میں نکاح کیا۔ اگر مقصد محض فہرست سازی ہوتا تو تاریخ کے اور بھی بے شمار حوالے پیش کیے جا سکتے تھے، لیکن اس تحریر کا مقصد زیادہ بولنا نہیں بلکہ ایک بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہندوستان کی موجودہ حکمران جماعت اور اس کے نمائندوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ اٹھارویں، انیسویں اور بیسویں صدی میں انہی کے معاشرے، انہی کے آباؤ اجداد اور انہی کے سماجی حالات میں کم عمری کی شادی ایک عام رواج تھا، جس کی گواہی خود تاریخ دیتی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا انہیں اپنی تاریخ یاد نہیں؟ کیا انہیں اپنے بزرگوں کی زندگیاں، ان کے حالات اور ان کے معاشرتی فیصلے معلوم نہیں؟ تاریخ کے یہ ابواب کسی سے پوشیدہ نہیں، لیکن اس کے باوجود اگر یک طرفہ طور پر صرف مذہبِ اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے تو یہ علمی دیانت کے خلاف ہے۔ تعصب کی بنیاد پر کسی ایک مذہب پر انگلی اٹھانا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔


اگر ہم ہندوستانی تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کریں تو یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ آج سے تقریباً سو سال قبل کم عمری میں شادی کا رواج معاشرے کا ایک عام حصہ تھا، اور متعدد خاندانوں میں لڑکیوں کی شادی دس یا بارہ سال کی عمر میں کر دی جاتی تھی۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر دور کے سماجی حالات مختلف ہوتے ہیں، اور زندگی کے طریقے زمانے کے بدلنے کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

اسی تناظر میں مختلف مطالعات اور سرویز سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بیسویں صدی کے اواخر تک بھی دنیا کے کئی حصوں میں کم عمری کی شادی کے واقعات موجود تھے۔ یہ معلومات انہی معاشروں کے علما، محققین اور ماہرین نے اپنی تحقیق اور نصابی مواد میں درج کیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک مذہب یا خطے تک محدود نہیں رہا۔


یہی صورتِ حال عالمی سطح پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ترقی یافتہ ملک، امریکہ، جہاں جدید قوانین اور سماجی نظام رائج ہیں، وہاں بھی حالیہ برسوں تک بعض ریاستوں میں شادی کی عمر سے متعلق واضح قانونی حدیں موجود نہیں تھیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق چند برس قبل تک بعض ریاستوں میں کم عمری میں شادی کی اجازت قانونی طور پر موجود تھی۔

ان تمام حقائق کا مقصد کسی ملک، قوم یا مذہب پر تنقید نہیں بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ تاریخی اور سماجی معاملات کو ان کے اصل پس منظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ کسی ایک مذہب یا اس کے پیغمبر ﷺ کو نشانہ بنانا نہ علمی رویہ ہے اور نہ ہی انصاف کا تقاضا۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مکالمہ علم، تحقیق اور باہمی احترام کی بنیاد پر کیا جائے۔


دنیا کے مختلف ممالک میں شادی کی عمر سے متعلق قوانین اور سماجی روایات ایک دوسرے سے مختلف رہی ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کی بعض ریاستوں، جیسے الاسکا اور نارتھ کیرولائنا، میں ایک عرصے تک لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی عمر تیرہ سے سولہ سال کے درمیان رہی۔ اسی طرح برطانیہ میں بھی 2019 تک شادی کی قانونی عمر سولہ سال مقرر تھی۔ دنیا کے اور بھی کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اپنے اپنے سماجی اور قانونی اصولوں کے مطابق زندگی کے معاملات طے کیے جاتے رہے ہیں، اور لوگ باہمی امن و آشتی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہندوستان میں مخصوص حلقوں کی جانب سے صرف مذہبِ اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور مسلمانوں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں نازیبا اور دل آزار گفتگو کی جا رہی ہے، جو نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتی ہے بلکہ ملک کی سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔


یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر کب تک بعض سیاسی شخصیات کی جانب سے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات برداشت کیے جاتے رہیں گے؟ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر کسی مذہب کی مقدس ہستی کی توہین نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ ہی آئینی و انسانی اقدار کے مطابق۔ اے دوستو! اب وقت آ گیا ہے کہ ہم شعور، اتحاد اور حکمت کے ساتھ اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ یہ آواز نفرت یا تشدد کی نہیں بلکہ سچ، انصاف، قانون اور امن کی ہونی چاہیے۔ ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، اور اس کا دفاع صبر، دلیل، اخلاق اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کرنا ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔


آج پوری دنیا میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ نازیبا گستاخیوں کے خلاف اضطراب پایا جاتا ہے۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ظلم کے خلاف ضرور کھڑے ہوں، مگر اس انداز میں جو خود ہمارے اخلاق، ہمارے دین اور ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات کے شایانِ شان ہو۔

کیوں کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ظلم کو خاموشی سے سہنا درست نہیں، مگر اس کا مقابلہ حکمت اور بصیرت سے کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ آخر میں میں ان لوگوں سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو اسلام بھی امن کا مذہب نظر آئے گا، مسلمان بھی ایک پُرامن قوم دکھائی دیں گے، اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی سیرت تو انسانیت کے لیے سراسر رحمت ثابت ہوگی۔ جو لوگ اس دین کو مٹانے، اس کی مقدس کتاب قرآنِ مجید یا اس کے نبی ﷺ کے ذکر کو دبانے کا خواب دیکھتے ہیں، انہیں تاریخ کا یہ سبق یاد رکھنا چاہیے:۔


مٹ گئے، مٹتے ہیں، مٹ جائیں گے اعدا تیرے
پر نہ مٹا ہے، نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا


اس تقابلی مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نکاح سے متعلق مستند اسلامی روایات اپنی تاریخی، سماجی اور دینی بنیادوں کے اعتبار سے نہایت مضبوط اور قابلِ اعتماد ہیں، جبکہ جدید دور میں اٹھائے جانے والے اعتراضات زیادہ تر موجودہ سماجی معیار کو ماضی کے حالات پر منطبق کرنے کا نتیجہ ہیں۔ تاریخ کا اصول یہ ہے کہ ہر واقعے کو اس کے زمانی، معاشرتی اور ثقافتی پس منظر میں سمجھا جائے، نہ کہ آج کے قوانین اور اقدار کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔

یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کم عمری میں نکاح کا رواج صرف عرب یا اسلامی معاشرے تک محدود نہیں تھا بلکہ دنیا کے مختلف خطوں اور مذاہب میں صدیوں تک یہ ایک عام سماجی روایت رہا ہے۔ اس پس منظر کو نظر انداز کر کے رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر اعتراض کرنا علمی دیانت کے منافی ہے۔ مزید برآں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی بعد کی زندگی، ان کی علمی خدمات، فکری بصیرت اور امت کی رہنمائی میں ان کا کردار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ نکاح کسی ظلم یا ناانصافی پر مبنی نہیں تھا، بلکہ اپنے عہد کے سماجی اصولوں کے عین مطابق تھا۔


لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نکاحِ عائشہؓ کے معاملے کو تعصب یا جذبات کے بجائے تحقیق، انصاف اور تاریخی شعور کے ساتھ دیکھا جائے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سراسر رحمت، حکمت اور انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات حقیقت سے زیادہ فکری تعصبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ تاریخ کو تاریخ کی آنکھ سے دیکھا جائے، تاکہ حقائق مسخ ہونے کے بجائے واضح اور روشن ہو سکیں۔

مسلم بچیاں اور مسئلہ ارتداد


Oppo India Affiliate Program

https://www.oppo.com/in/store

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *