علامہ الحاج محمد یونس پٹیل گجراتی کی دینی و ملی خدمات آب زر سے تحریر کرنے کے لائق

Spread the love

علامہ الحاج محمد یونس پٹیل گجراتی کی دینی و ملی خدمات آب زر سے تحریر کرنے کے لائق

از، نورالہدیٰ مصباحی گورکھ پوری

مکرمی،ہر دور میں اللہ پاک کے نیک بندوں نے وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر دینِ اسلام کے لیے اپنی خدمات انجام دیں اور آج بھی بہت سے دین کے سپاہی اسی راہ پر گامزن ہیں ،چوں کہ ان حضرات کی دینی خدمات کا دائرہ کار بڑھتے بڑھتے دنیا کے کئی خطّوں میں پھیلا اور خوش گوار اور مثبت معاشرتی تبدیلیوں کا سبب بنا اس لیے دنیا نے بھی ان حضرات کی بے مثال دینی خدمات کو ”انقلابی کارنامے“ کے عنوان سے یاد رکھا ہے ،یاد رہے ،دینی خدمات انجام دینے والے علماے اہل سنت اپنی علمی، تعلیمی اور اصلاحی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

یہ علماء اشاعتِ اسلام، تربیتِ نفس، دینی تعلیمات کے فروغ، اور اصلاحِ معاشرہ جیسے کاموں میں سرگرم ہیں،دینی خدمات کی اہم جہتیں:تعلیم و تربیت: علمائے اہلسنت ملک و بیرون ملک دینی مدارس اور جامعات کے ذریعے علمِ دین پھیلا رہے ہیں اور اخلاقی تربیت کرتے ہیں۔تحریکِ دعوت: دین کی صحیح تعلیمات کو عام کرنے کے لیے مختلف تحریکوں کے ذریعے تبلیغی کام کیا جا رہا ہے۔

اصلاحِ معاشرہ: علماے اہل سنت معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ جو مختلف تعلیمی اداروں اور فورمز کے ذریعے دینِ اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کی خدمات کے نتیجے میں اسلامی بھائی چارے اور دینی تربیت کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم ہے۔

انہیں مخلص مبلغین اور علماء میں ایک نمایاں نام جنہیں ناچیز ہمیشہ نہایت ادب و احترام کے ساتھ یاد کرتا ہے، اور ہمیشہ ان سے مفید مشورے طلب کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، وہ عظیم المرتبت شخصیت حضرت علامہ الحاج محمد یونس پٹیل صاحب گجراتی دام ظلہ العالی کے نام سے متعارف ہے،ہندوستان کے صوبہ گجرات سے تعلق رکھنے والی نام و نمود سے پاک مخلص شخصیت حضرت علامہ الحاج محمد یونس پٹیل گجراتی صاحب کی فراغت حضرت علامہ مفتی اشفاق حسین علیہ الرحمہ کے دینی ادارہ دارالعلوم اسحاقیہ جودھ پور راجستھان سے 1987ء میں ہوئی، فراغت کے بعد مختلف علاقوں میں دینی خدمات انجام دیتے ہوئے

موصوف 1995 سے مسجد نور الاسلام بولٹن یوکے کے ماتحت چلنے والے عظیم ادارہ مدرسہ نور الاسلام میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ، جہاں فی الحال 500 سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں ،مذکورہ ادارہ میں ناظرہ قرآن شریف حفظ و قراءت اور عالمیت کے کلاسیز بحسن و خوبی چل رہے ہیں

اب تک اس ادارہ سے ہزاروں طلبہ و طالبات دینی تعلیم وتربیت سے مزین ہو کر دیگر مقامات پر دینی ملی و تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں ،حضرت علامہ محمد یونس پٹیل دام ظلہ کو اللہ رب العزت نے کئی کمالات عطا کئے جن میں سے اِصلاحِ امت کے جذبے سے سَرشار دل، چٹانوں سے زیادہ مضبوط حوصلہ، معاملہ فہمی کی حیرت انگیز صلاحیت

نیکی کی دعوت میں پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے اور مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمّت سرِ فہرست ہیں۔دیگر دینی مدارس کی اعانت کرنا اور پریشان حال علماء و عوام کی خدمت کرنا حضرت کے اخلاق حسنہ میں شامل ہے ،، ابتدائی دور سے ہی موصوف نے ،معاشرے میں بے عملی کو طوفان کی صورت اِخْتِیار کرتا ہوا دیکھ کر بے عملی کے آسیب سے چھٹکارا دلانے کے لیے عملاً کوششیں فرمائیں۔

مسجد میں آنے والے نَمازیوں کی تربیَت اور مساجد سے دور مسلمانوں کا ناطہ مسجد سے جوڑنے کے لیے پُراثر نصیحت اور خیر خواہی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے خوشی غمی میں شرکت نے آپ کو ہر دل عزیز بنا دیا۔ موصوف کا کہنا ہے کہ مقصد بڑا اور لگن سچی ہو تو منزل تک پہنچنے کے اسباب خود ہی پیدا ہوجاتے ہیں

چوں کہ آپ پر امت کی اِصلاح کی دُھن سوار تھی، آپ کی لگن سچی اور مقصد نیک تھا اسی لیے آپ کی پُراثر دعوت کو بےپناہ مقبولیت حاصل ہے ، آپ نے انسان کی شخصیت کو درست سمت کی جانب گامزن کرنے کے لئے عملی جد و جہد فرمائی، جھوٹ، غیبت، چغلی اور فحش گوئی جیسے کئی ظاہری و باطنی امراض سے نجات دلانے کا بیڑا اٹھایا ہے ،آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی صحبت دراصل ”کردار سازی کا وہ کارخانہ ہے کہ جہاں انسان کے ظاہر و باطن کے زنگ کو دور کرکے محبتِ الٰہی اور عشق مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رنگ سے مزین کیا جاتا ہے، اخلاق و کردار کی خوشبو اس میں رچائی جاتی ہے

حسنِ اعمال کے نگینوں سے آراستہ کرکے اُسے معاشرے کے لیے پُرکشش بنایا جاتا ہے اور دینِ اسلام کا ایسا درد اور سوز اس کے دل و دماغ میں بسایا جاتا ہے جو اسے ایک باکردار انسان، دینِ اسلام کا متحرک مبلغ اور معاشرے کا خیرخواہ بننے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

آپ کی اس جدو جہد کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ موصوف کی ذاتِ گرامی عصرِ حاضر میں بزرگان دین کا عکس جمیل ہے،اِنفرادی اصلاح کے اس خوب صورت نظام سے فیض یاب ہونے والوں میں دولتِ اسلام سے سرفراز ہونے والے کئی نَومسلم بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اجتماعی اصلاح یقیناً فرد کی اصلاح سے معاشرے کی اِصلاح ہوتی ہے مگر فرد کے اخلاق و کردار میں نیکی کاعُنصر بر قرار اور دیرپا رکھنے لئے سازگار معاشرتی ماحول درکار ہوتا ہے۔

اسی لیے موصوف نے معاشرتی اصلاح کی جانب خصوصی توجہ فرمائی۔ موصوف کی شخصیت، فاسِقوں کو متقی بنانے، غافِلوں کو خوابِ غفلت سے جگانے،جہالت کے اندھیرے کا خاتمہ کرکے عِلم و مَعرِفَت کا نور پھیلانے میں مصروف ہے

اللہ رب العزت اس عظیم محسن کا سایہ عاطفت و شفقت ہمارے سروں پر تادیر قائم فرماے،آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *