الکریم یونیورسٹی ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کا عظیم کارنامہ
الکریم یونیورسٹی ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کا عظیم کارنامہ
جس طرح سے تکشیلا طب، وکرم شیلا جادو (علم فنی)، اجین فلکیات اور مانیکھیٹ یونیورسٹی فلسفہ کی تعلیم کا بین الاقوامی مراکز کی شکل میں مشہور تھا ویسے ہی الکریم یونیورسٹی، کٹیہار کی شناخت بہتر طبی تعلیم و طبی خدمات کے لئے ہے اور اس شعبہ میں اسے نمایاں مقام حاصل ہے۔
ہندوستان کی قدیم روایت تعلیم و تربیت پر مبنی ہے۔ نالندہ، تکشیلا، وکرم شلا، اجین اور مانیکھیٹ یونیورسٹیز کا قیام ہمارے لئے باعث فخر ہے جس نے نہ صرف ملک قدیم ہندوستان بلکہ بیرون ممالک کو بھی متاثر کیا اور انہیں متوجہ کر اپنا گرویدہ بنا لیا۔ البرونی اور فاہیان اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ایسی ہی ایک نمایاں یونیورسٹی ” علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ” کا قیام وقت کے نباض اور اردو زبان کے بڑے دانش ور، مصنف، مجاہد آزادی سرسید احمد خان نے کی تھی۔ اس کے لئے انہیں بڑی جدو جہد کرنیپڑی تھی۔ ایک وقت ایسا تھا جب انہیں قوم کی بے رخی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا لیکن آج ان کے لیے ملک کے ہر فرد کے دل میں جگہ ہے۔
ایسا ہی ایک نام بہار کے سر زمین پر ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کا ہے۔ ڈاکٹر کریم کی پیدائش دنیا کو جمہوریت کی تعلیم دینے والی سرزمین، جہاں مہاویر کی پیدائش ہوئی تھی، اشوک سمراٹ کے حکومت کا مرکز تھا اور جین مذہب کا مرکز کے شکل میں دنیا بھر میں مشہور ضلع ویشالی کے پاتے پور واقع تیندا گاؤں میں ہوئی۔
لیکن انہوں نے خود کو وہیں محدود نہیں رکھا، انہوں نے بہار کے کثیر مسلم آبادی والا ضلع کٹیہار، جو اقتصادی اعتبار سے کافی پسماندہ ہے کا انتخاب کیا اور وہاں 1987 میں ” کٹیہار میڈیکل کالج کٹیہار ” کی سنگ بنیاد ڈالی، پھر 2018 میں ” الکریم یونیورسٹی” قائم کر سیمانچل کو ایک بڑا تحفہ دیا جس سے مرحوم سرسید احمد خان کی روح کو بھی تسکین پہنچی ہوگی کہ ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے ان کے تعلیمی تحریک کے کارواں کو آگے بڑھا کر ان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا ہے۔
بہار پرائیویٹ یونیورسٹی ایکٹ 2013 کے تحت صوبہ میں کل چھ یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ الکریم یونیورسٹی انہیں چھ میں ایک ہے جس کا قیام سال 2018 میں ہوا۔ اس کا قیام الکریم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام ہوا۔
کٹیہار میڈیکل کالج اور اسپتال کا قیام بھی الکریم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام 1987 میں ہوا تھا۔ ڈاکٹر احمد اشفاق کریم چانسلر الکریم یونیورسٹی اور بانی ڈائیریکٹر کٹیہار میڈیکل کالج کٹیہار نے ہی الکریم ایجوکیشنل ٹرسٹ کی بنیاد 1986 میں ڈالی تھی اور وہ اس کے فاؤنڈر چیئرمین ہیں۔
ڈاکٹر کریم کے جدو جہد اور محنت کا ہی ثمرہ ہے کہ پٹنہ کے راجا بازار سے شروع ہونے والا میڈیکل کالج آج ایک یونیورسٹی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کے قیام تک کے کامیاب سفر کے ذریعہ ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے اپنی علمی فہم اور سماجی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کیا ہے۔
یونیورسٹی مختلف طبی خصوصیات میں ایم بی بی ایس کورس کے ساتھ ایم ڈی اور ایم ایس کورسز بھی فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ مختلف پیرامیڈیکل شعبوں جیسے ریڈیو امیجنگ اور آپٹومیٹری کے علاوہ بیچلر آف فزیو تھراپی (بی پی ٹی) میں ساڑھے چار (4½) سالہ بیچلر آف سائنس (بی ایس سی) بھی پیش کرتا ہے۔ اس میں 3 سالہ بیچلر آف کمپیوٹر ایپلی کیشن (بی سی اے) اور 3 سالہ پوسٹ گریجویٹ مسلم (ایم ایس سی) مختلف الائیڈ میڈیکل شعبوں جیسے بائیو کیمسٹری اور اناٹومی میں تعلیم بھی پیش کی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی سیکڑوں ڈیسیپلین میں ڈپلوما، ڈگری، پی جی
اور پی ایچ ڈی کورسز دستیاب ہیں۔
جس طرح سے تکشیلا طب، وکرم شیلا جادو (علم فنی)، اجین فلکیات اور مانیکھیٹ یونیورسٹی فلسفہ کی تعلیم کا بین الاقوامی مراکز کی شکل میں مشہور تھا ویسے ہی الکریم یونیورسٹی، کٹیہار کی شناخت بہتر طبی تعلیم و طبی خدمات کے لیے ہے اور اس شعبہ میں اسے نمایاں مقام حاصل ہے۔
قابل ماہر تعلیم، تحقیقی جذبہ سے سرشار طلباء، کیمپس کے پاکیزہ ماحول اور شفاف ایڈمنسٹریشن کو ڈاکٹر احمد اشفاق کریم یونیورسٹی کے کامیابی کی بنیادی وجوہات تسلیم کرتے ہیں۔
جناب کریم کے مطابق ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی کٹیہار میڈیکل کالج اور الکریم یونیورسٹی کے طلبا نے کام یابی کے پرچم لہرائے ہیں، وہ بہترین طبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ الکریم یونیورسٹی کے قیام کے لیے انہوں نے بہار کے معزز وزیر اعلی بہار جناب نتیش کمار کا شکریہ ادا کیا اور تعلیم سے متعلق ان کے ویژن کی خوب خوب تعریفیں کیں۔
یہ موقع تھا الکریم یونیورسٹی کے چوتھے کانووکیشن، تقسیم اسناد 2026 کا، اس سے قبل سال 2020 میں پہلا، 2022 میں دوسرا اور سال 2024 میں تیسرا کانووکیشن منعقد ہو چکا ہے۔
چوتھے کانووکیشن میں مہمان خصوصی گورنر بہار عارف محمد خان، وزیر صحت منگل پانڈے، وزیر ٹرانسپورٹ شرون کمار، چئیرمین سنی وقف بورڈ الحاج محمد ارشاد اللہ، این سی ایم ای آئی کے آفیسیئیٹنگ چیئرمین پروفیسر شاہد اختر اور صدر اردو میڈیا فورم مفتی ثناءالہدی قاسمی کی شرکت سے ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کی تعلیمی خدمات اور الکریم یونیورسٹی کے مستقبل کے ویژن کو قبولیت (acceptance) حاصل ہوئی ہے۔ اس موقع پر 415 طلباء کو ایم بی بی ایس کی سند جس میں 15 کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ کانووکیشن کی ایک بڑی بات یہ بھی رہی کہ دو وزرا منگل پانڈے، سرون کمار اور اردو میڈیا فورم بہار کے صدر مفتی ثناءالہدی قاسمی کو اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری، سند تفویض کی گئی۔
سال 1986 کے ایجوکیشن پالیسی سے متاثر ہو کر ہی ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے کٹیہار میڈیکل کالج کٹیہار اور اب الکریم یونیورسٹی کا قیام کیا ہے۔
نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے مد نظر یونیورسٹی کے خدمات کو منظم اور بہتر بنانے کے لیے وہ اپنی باصلاحیت ٹیم کے ساتھ کمربستہ نظر آتے ہیں۔ جس طرح خان عبدالغفار خان فرنٹیر گاندھی کہلاتے ہیں ویسے ہی تعلیم کے شعبہ میں ڈاکٹر احمد اشفاق کریم پوروانچل کے سرسید تصور کئے جاتے ہیں۔