قربِ الٰہی

Spread the love

قربِ الٰہی

از: تسنیم مزمل شیخ  (اورنگ آباد، مہاراشٹر)

مجتبیٰ اپنے کمرے کی گیلری میں ٹہل رہا تھا۔ اچانک وہ رکا اور نیچے دیکھنے لگا۔ سڑک پر گاڑیاں چل رہی تھیں اور تیز ہوائیں اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ سر میں ایک ہاتھ سے وہ اپنے بال صحیح کرنے لگا۔ اس کے اندر کی خاموشی گاڑیوں کی آوازوں سے ٹوٹ رہی تھی، اور وہ بے چین کبھی گاڑیوں کو دیکھتا، کبھی ٹہلنا شروع کر دیتا۔ اچانک اسے یاد آیا کہ اس کی پریشانی صرف ایک ہی شخص دور کر سکتی ہے، اور وہ اس کی اپنی امی ہے۔ وہ بے چین ہو کر فون اپنی جیب سے نکالتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ امی کو کال کرے یا نہیں؟ کیا کہے؟ امی کیا سوچیں گی؟ وہ کشمکش میں تھا، پھر اس نے آخرکار تھوڑی سی ہمت اور ڈر کے ساتھ کال ڈائل کر دی۔

’’امی! میں بول رہا ہوں۔ اس اتوار تک نہیں آئی تو دیکھیے۔ امی! وہ لڑکی بہت عزیز ہے مجھے۔ آپ کے دیر کرنے کی وجہ سے اگر اس کا رشتہ کہیں اور ہوا تو میں زندگی بھر شادی نہیں کروں گا‘‘

’’ارے بیٹا! یہاں بھی ضرورت ہے میری، تمہاری نانی کی طبیعت صحیح نہیں ہے اورمیں نے یہاں ایک سرپنج کی بہت خوبصورت لڑکی دیکھی ہے۔ وہ ایک سو ایکڑ زمین اور کافی کچھ دینا چاہتے ہیں۔ بہت اچھا رشتہ ہے۔‘‘

’’امی! وہ آپ کے پاس ہی رکھیے۔ جو لڑکی مجھے پسند ہے مجھے اُسی سے شادی کرنی ہے۔ آخری بار بول رہا ہوں کہ آپ آرہی ہیں یا نہیں۔‘‘

مجتبیٰ اپنی امی کومسلسل منانے کی کوشش کررہا تھا؛ لیکن امی کو اس کی شادی کسی اور لڑکی سے شادی کروانی تھی۔ جیسے تیسے مجتبیٰ نے اپنے گھر والوں کو منا لیا؛ لیکن جو لڑکی پسند کی تھی ابھی اس کے والدین کی حامی اور ہاں کا جواب باقی تھا۔

مجتبیٰ کے تین اور بھائی تھے۔ بڑے بھائی کی شادی ان کی خالہ زاد بہن سے ہوچکی تھی۔ چھوٹے گاؤں سے ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کا طریقہ تھا کہ پہلے خاندان کی لڑکیوں سے شادی کروائی جائے۔ مجتبیٰ کے لیے بھی اس کی امی نے ان کے خاندان کی لڑکی دیکھی تھی جو کافی کچھ ساتھ جہیز کے نام پر لے کر آنے والی تھی۔ ماں باپ کی پسند اگر بہو کے انتخاب میں ساتھ نہ ہوتو زندگی کٹ جاتی ہے؛ لیکن مزیدار ہو زندگی یہ ضروری نہیں۔ ایسے ہی مجتبیٰ کے ساتھ ہوا۔ خیر سے شادی تو ہوگئی مجتبیٰ کی۔ مجتبی کے گھر جڑوا بیٹے ہوئے۔ وہ بہت خوش تھے۔

مجتبیٰ کی بیوی ثریا ہر دن ایک نیا  Challenge Face کرتی تھی۔ وہ بھی پڑھی لکھی، اچھے گھرانے کی لڑکی تھی، کبھی صبر کرتی، کبھی اپنے ابو سے شکایت کرتی۔ اس کے ابو ہمیشہ اُسے ایک بات کہتے :

’’بیٹا ثریا! زندگی میں وقت ایک جیسا نہیں ہوتا، آج تم ان کے پسند کی نہیں ہو، لیکن مجتبیٰ کا رویہ کتنا اچھا ہے، وہ ایک اچھا زندگی کا ساتھی ثابت ہو رہا ہے اور جو پریشانی، چاہے معاشی ہو یا گھریلو، آج نہیں تو کل ختم ہوجائے گی۔‘‘

’’ابو! لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آتی، میرے سسرالوں والوں کی کہ ان کا رویہ مجتبیٰ کے سامنے الگ ہوتا ہے ان کے پیچھے الگ۔‘‘

’’بیٹا! یہ تو دنیا داری ہے۔ کوئی بھی اپنے بیٹے کو یہ نہیں بتائے گا کہ تم ان کو نہ بھا رہی ہو، یا ناپسندیدگی کا اظہار بیٹے کے سامنے نہیں کریں گے۔‘‘

’’ابو! لیکن یہ تو منافقانہ رویہ ہوا نا !‘‘

’’ کوئی بات نہیں، ہر رویہ اپنے مثبت عمل سے ہم بدل سکتے ہیں اور لوگوں کو اپنی اچھائی سے اپنا بنا سکتے ہیں۔‘‘

زندگی کی گاڑی تیز رفتار سے چلنے لگی۔ مجتبیٰ کے باقی دو بھائیوں کی بھی شادی دوسری خالہ زاد بہنوں سے ہوگئی۔ مجتبیٰ کے والدین نے ثریا کو کبھی اپنایا نہیں۔

کبھی کبھی زندگی میں دو لوگوں کی محبت کامیاب ہوجاتی ہے؛ لیکن ان سے جڑے رشتے ناکام ہوجاتے ہیں۔ وقت تیزی سے گذر رہا تھا۔ ثریا اپنے ساتھ ہوتی زیادتیاں خاموشی اور صبر کے ساتھ جھیل رہی تھی۔ مجتبیٰ اپنے بچوں کے لیے محنتوں میں مصروف تھا۔ تینوں بھانجیاں اپنی خالہ کو بہت عزیز تھیں اور ثریا کے ساتھ ہر کوئی اپنی طرح سے زیادتی کرتا۔ دھیرے دھیرے وہ بات مجتبیٰ کے علم میں آگئی۔ وقت کے ساتھ ایک دن ایسا کچھ ہوا کہ مجتبیٰ نے اپنی بیوی، بچوں کو لے کر علیحدگی اختیار کرلی اور الگ گھر میں چلا گیا۔

مجتبیٰ کو اپنے گھر والوں پر بہت بھروسہ تھا۔ وہ بھروسہ ٹوٹنے کے بعد کہیں نہ کہیں اس کا دل اداس ہوگیا۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا کہ یہ صرف اس لیے ہے کہ یہ الگ گھرانے کی لڑکی ہے اور اس کو اس وقت بہت افسوس ہوا جب اس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اپنے والدین کا منفی رویہ بہت تکلیف دہ تھا۔ اس کے لیے اس نے اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر علیحدگی اختیار تو کرلی؛ لیکن وہ ہر مہینے میں دو بار ملنے جاتا اپنے بیوی بچوں کو لے کر اور جو فرائض اپنے والدین کے تحت تھے، وہ ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کرتا۔ علیحدگی ہونے کے بعد بھی اس نے کبھی اپنے والدین سے بدتمیزی یا اپنے بھائیوں سے گلہ شکوہ کچھ نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ ایک بات مانتا تھا کہ رشتوں میں ساتھ رہنا ضروری نہیں، رشتہ محبت سے قائم رہنا ضروری ہے۔ مجتبیٰ کی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آنے لگے، جس میں ثریا نے قدم سے قدم ملاکر ساتھ دیا؛ لیکن مجتبیٰ کا صبر کا پیمانہ ایک دن آنکھوں سے چھلک پڑا، جب اُسے پتہ چلا کہ ان کا آبائی گھر بیچ کر ان کے والدین نے دو بیٹیوں اور تینوں بیٹوں کوبرابر حصہ دیا اور ایک کاروبار کرکے اپنے تینوں بیٹوں کے نام کر دیا۔ جب وہ اپنے بھائیوں کے نئے گھر گیا تو آنکھوں میں کئی سوال تھے اور شکوہ بھی تھا دل میں اپنے والدین سے؛ لیکن جب سوال کیا: ایسا کیوں؟ تو انھوں نے یہ جواب دیا کہ تمہاری جو عالیشان شادی کروائی تھی، اس میں بہت خرچ ہوا تھا، اس کا قرض ہم نے تمہارے حصہے میں سے ادا کر دیا۔ وہ خاموش ہوگیا۔ جہاں تک والدین کی بات آتی ہے، چاہے دنیا ہو یا دین۔ ان کے ساتھ سختی سے پیش آنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ وہ یہ سوچ کر خاموشی سے نئے کاروبار اور گھر کی مبارکباد دے کر واپس آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے قسمت میں نہیں لکھا ہوگا۔

ثریا نے بہت جھگڑا کیا؛ لیکن مجتبیٰ نے کہا :

’’کما لیں گے ہم۔ اور ابھی اللہ نے بہت اچھے حال میں رکھا ہے، تم فکر نہ کرو، سب ٹھیک کردوں گا میں۔‘‘

مجتبیٰ نے ثریا کو سمجھا تو دیا؛ لیکن اس کو اپنے والدین اور اپنے بھائی بہنوں کی یہ حرکت بالکل اچھی نہیں لگی۔ وہ عصر کی نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ گیا مسجد میں اور سوچنے لگا کہ وہ کہاں غلط تھا کہ اس کے اپنے رشتوں نے اس کے ساتھ ایسا کیا۔ اچانک اس کے بچپن کا دوست عبدالرحمن جو حافظ قرآن تھا نظر آیا۔

’’السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! مجتبیٰ بھائی! کیا حال ہے؟‘‘ بجھے بجھے لہجے میں مجتبیٰ نے کہا:  ’’الحمدللہ! ٹھیک ہے۔‘‘

عبدالرحمن نے کہا: ’’نہیں! ٹھیک تو نہیں لگ رہا ہے کچھ۔‘‘

مجتبیٰ نے مسکرا دیا۔

’’ارے بھئی! بتاؤگے نہیں تو راستہ کیسے ملے گا اور دوستوں کے سامنے تو دل کا حال رکھ دینا چاہیے، ہوسکتا ہے کہ کچھ صحیح مشورہ مل جائے۔ دوستوں کی باتوں میں اللہ نے شفا رکھی ہے۔‘‘

عبدالرحمن کی باتیں اس وقت مجتبیٰ کے دل پر مرہم کا کام کررہی تھیں۔ مجتبیٰ نے سارا حالِ دل بتا دیا کہ ’’یہ مسئلہ ہے: اپنی مرضی سے شادی کی، تو والدین اور گھر والوں نے نہ بیوی کو تسلیم کیا اور نہ صحیح سلوک اور اب الگ ہوگیا ہوں، تو یہ کارنامہ کیا، یہ دولت جو بانٹ دی گئی یا جو جائیداد میرے والدین نے میرے بھائیوں کے لیے خریدی ہے، کیا یہ ساری زندگی چلے گی، کیا ان کو کچھ یاد نہیں کہ سب اولادوں کے ساتھ برابری کا سلوک ہونا چاہیے؟‘‘۔

اس کو بھی پڑھیں : پہلی نظر

مجتبیٰ کی آنکھوں میں رم جھم آنسو چمکنے لگے۔ عبدالرحمن نے مجتبیٰ کے گلے میں ہاتھ ڈالا اور بڑی گرم جوشی سے کہنے لگا : ’’دنیا تو جگہ ہی دھوکہ کی ہے میرے یار! اور تم تو وہ فرماں بردار بچے ہو کہ گھر سے خاموشی سے نکل آئے۔ اس کے بدلے اللہ تمہارے درجے بلند کرنے والا ہے۔ پتہ ہے، اللہ تعالیٰ دنیا میں ہمیں اپنے اپنوں سے توڑتا ہے، وہ سارے رشتے جسے ہم اپنے ہونے کاد عویٰ کرتے ہیں؛ کیونکہ ان کی محبتیں اتنی ہوتی ہیں کہ ہمیں دوسری چیزیں دکھائی نہیں دیتی۔ اور اب تمہارا دل خالی ہوچکا ہے۔ اب تمہیں قربِ الٰہی حاصل ہوگا اور جس کے دل میں صرف اللہ بس جائے اس کی ہر چیز آسان، یہاں گھر اور معاش نہیں دیا اپنوں نے تو ذرا صبر کرو، جنت میں آپ کے صبر کے لیے محل تیار ہے۔ اللہ نے تمہیں اپنے قرب کے لیے چنا ہے، تو یہ معاملہ بھی اس پر چھوڑ دو۔‘‘

اچانک مجتبیٰ کے موبائل کی کال بیل بجی۔ عبدالرحمن کی طرف دیکھ کر مجتبیٰ نے کہا :  ’’ایک منٹ! کمپنی کا فون ہے۔‘‘

’’بھائی کال لے لو۔‘‘

’’جی جی ضرور۔‘‘

مجتبیٰ نے فون پر بات ہونے کے بعد عبدالرحمن کو گلے لگایا اور کہا :

’’امریکہ کے لیے جن دس لوگوں کا انتخاب ہوا، اس میں میرا بھی نام شامل ہے اور مجھے اگلے ہفتے جانا ہے۔‘‘

عبدالرحمن نے مبارکباد دی اور کہا: ’’جسے قربِ الٰہی حاصل ہو، اس کو ہر قدم، ہر مرحلے پر کامیابی حاصل ہوتی ہے۔‘‘ دو سال گذرے تھے کہ مجتبیٰ کی فیملی بھی امریکہ منتقل ہوگئی اور امریکہ پہنچتے ہی سارے رشتوں میں مٹھاس بھی آگئی۔ ایک دن شام میں گھر کے گارڈن میں مجتبیٰ اور ثریا چائے پی رہے تھے۔ ثریا نے کہا :

’’یہ سب ایک خواب سا لگتا ہے نا، اپنے بچے امریکہ کے کالج میں پڑھ رہے ہیں، تمہارے والدین اتنی محبتیں لٹاتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں فون پر۔ کمپنی نے یہاں اتنا عالی شان گھر دیا ہے رہنے کے لیے، ایسا سوچا بھی نہیں تھا، یہ سب ہوگا۔‘‘

مجتبیٰ نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھ کر جواب دیا : ’’یہ قرب الٰہی ہے اور قرب الٰہی صبر سے حاصل ہوتا ہے۔ زندگی میں کچھ پانا ہوتو وہ کچھ کھونے کے بعد ہی نصیب ہوتا ہے۔ جنت بھی مرنے کے بعد ہی نصیب ہوگی اور ہمیں زندگی میں قرب الٰہی مل گیا۔ جس سے اللہ راضی، اس کے قدموں میں دنیا آجاتی ہے۔ کبھی کبھی وہ آزماتا ہے، کبھی رشتوں سے، کبھی تکلیف سے؛ لیکن جب دنیا کی محبت ختم ہو جاتی ہے تو خود بخود قرب الٰہی حاصل ہوجاتا ہے۔‘‘ 

ثریا نے کہا: ابو ہمیشہ ایک شعر کہتے تھے، اس کا مطلب اب سمجھ میں آیا: 

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجیے رشتہ 

دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے 

مجتبی نے کہا: ’’بے شک!‘‘    دونوں نے الحمد للہ کہا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیے۔

ان لنکوں پر کلک کرکے خرید داری کریں  اور پیسے بچائیں 

Click here

Click here

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *