مذہب اسلام نے عورتوں کو کبھی آگے بڑھنے سے نہیں روکا

Spread the love

مذہب اسلام نے عورتوں کو کبھی آگے بڑھنے سے نہیں روکا

جب ایک عورت نے حضرت فاروق اعظم سے سوال کیا

محمد شاہد علی مصباحی روشن مستقبل دہلی

تحریک علماے بندیل کھنڈ

مذہب اسلام نے عورتوں کو کبھی آگے بڑھنے سے نہیں روکا ۔ ہاں ! اگر روکا ہے تو بے حیائی اور بے پردگی سے روکا ہے جو خود انہیں کے لیے سود مند ہے۔ مگر لوگ مسلسل پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو حقوق نہیں دیے، انہیں رسم و رواج کا پابند بنا کر گھر کی چہار دیواری میں قید کر رکھا ہے۔

ایسے لوگوں کو یہ روایت پڑھنی اور سننی چاہیے۔ امام شعبی رحمہ اللہ تعالیٰ سے مروی ہے: خطَب عُمرُ بنُ الخطابِ رضي الله عنه الناسَ، فحمِد اللهَ تعالى وأثنى عليه، وقال: ألا لا تُغالوا في صَداقِ النساءِ فإنَّه لا يبلغُني أنَّ أحدًا ساق أكثرَ مِنْ شيءٍ ساقه رسولُ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أو سِيق إليه إلا جعلتُ فضلَ ذلك في بيتِ المالِ،ثم نزَل۔فعرَضتْ لهُ امرأةٌ مِنْ قريشٍ، فقالت: يا أميرَ المؤمنين ! أكتابُ اللهِ تعالى أحقُّ أن يُتَّبَعَ أو قولُك؟: قال بلْ كتابُ اللهِ تعالى فماذا؟ قالتْ: نهيتَ الناسَ آنفًا أنْ يُغالوا في صَداقِ النساءِ واللهُ تعالى يقولُ في كتابِه: “وَآتَيْتُمْ إِحْداهُنَّ قِنْطارًا فَلا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا”. فقال عُمرُ رضي اللهُ عنه: كلُّ أحدٍ أفقهُ مِنْ عُمرَ مرتينِ أو ثلاثًا، ثم رجَع إلى المِنبرِ، فقال للناسِ: إني كنتُ نهيتُكم أنْ تُغالوا في صَداقِ النساءِ ألا فلْيَفعلْ رجلٌ في مالِه ما بدا له الراوي: الشعبي عامر بن شراحيل – البيهقي، السنن الكبرى للبيهقي (٧/٢٣٣) – منقطع – أخرجه الطحاوي ((شرح مشكل الآثار)) (٥٠٥٩) واللفظ له، وسعيد بن منصور (٥٩٨)

بنحوه۔حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: “سن لو! عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کرو۔ اگر مجھے معلوم ہوا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی بیویوں کو ادا کردہ مہر سے زیادہ دیا ہے۔

یا جتنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں کے نکاح میں مقرر فرمایا تھا اس سے زیادہ دیا ہے۔ تو میں اس اضافے کو بیت المال میں جمع کرا دوں گا۔” پھر وہ منبر سے اتر کر باہر تشریف لائے تو قريش کی ایک عورت نے ان کے سامنے آکر کہا: “اے امیرالمؤمنین! کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب اس کے حکم پر عمل کرنے کا زیادہ حق دار ہے یا آپ کا قول؟” حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب۔ لیکن آپ یہ کیوں پوچھ رہی ہیں ؟”عورت نے کہا: “آپ نے تو ابھی لوگوں کو روکا کہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا: “وَإِنْ آتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا”۔ (سورۃ النساء: 20)۔ ترجمہ: “اور اگر تم نے ان میں سے کسی کو قنطار (بہت بھاری مقدار) بھی دے دیا ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کی بات سن کر دو یا تین مرتبہ یہ فرمایا: “ہر شخص عمر سے زیادہ سمجھ دار ہے۔” پھر وہ منبر پر لوٹے اور لوگوں سے فرمایا: “میں نے تمہیں عورتوں کے مہر میں زیادتی سے روکا تھا، اب کوئی شخص اپنے مال میں جو مناسب ہو کرے۔” ۔

اس جیسی بے شمار روایات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہب اسلام نے عورت کو کبھی قیدی یا غلام بنا کر گھر کی چہار دیواری میں قید نہیں کیا، بلکہ چودہ سو سال پہلے جب عورت کا پوری دنیا کے کسی سماج میں کوئی مقام و مرتبہ نہیں تھا تب بھی اسلام نے عورت کو اتنی آزادی اور اتنا حق دیا تھا کہ وہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسے با رعب اور جلیل القدر امیرالمؤمنین سے سوال کر سکے جن کے جاہ و جلال اور رعب و دبدبہ سے قیصر و کسریٰ بھی تھراتے تھے۔

اسلامی ماؤں بہنوں کو اس واقعے سے سبق لینا چاہیے اور جو انہیں ورغلاتے ہیں کہ اسلام نے تو انہیں قید کردیا ہے، ان کے حقوق چھین لیے ہیں؛ انہیں اس روایت سے جواب دینا چاہیے کہ دیکھو! یہ ہے اسلام میں عورت کا مقام! یہ ہے ہمارا مرتبہ! اور یہ ہیں ہمارے حقوق۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس لیے مہر میں بڑی رقمیں دینے سے منع فرمایا کہ یہ ادائگی میں دشوار ہوتی ہیں جس کے سبب زوجین کے مابین نا اتفاقیاں پیدا ہوتی ہیں۔ نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے یہ خیال کیا ہو کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ کے مہر سے زیادہ نہ ہو اور کم مہر ہونے میں برکتیں بھی ہیں۔چونکہ ام المومنین سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: “أَعظَمُ النِّساءِ بَركَةً؛ أَيسَرُهنَّ صَداقًا”.الراوي: عائشة • الحاكم، المستدرك على الصحيحين (٢٧٧٠) ۔

صحيح على شرط مسلم

یعنی: “سب سے زیادہ برکت والی عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے زیادہ آسانی والا (کم) ہو”. اگر مہر کم ہوگا تو اس کا ادا کرنا آسان ہوگا۔ اس لیے چاہیے کہ مہر کم ہی رکھا جائے۔ اللہ عزوجل ہمیں اور ہماری ماؤں بہنوں کو اپنا مقام و مرتبہ سمجھنے، مذہب اسلام کے احکام و فرامین پر عمل کرنے اور ان کی تبلیغ کرنے کی توفیق بخشے

مسلم بچیاں اور مسئلہ ارتداد


Oppo India Affiliate Program

https://www.oppo.com/in/store

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *