بد مذہبوں سے دوری کیوں ضروری ہے

Spread the love

بد مذہبوں سے دوری کیوں ضروری ہے ؟؟

فرحان المصطفے نظامی

الاختصاص فی الحدیث ناگ پور ہند

اس پرآشوب ماحول میں جہاں مختلف محاذوں پر کام کر نا لازم و ضروری ہے وہیں ناخواندہ عوامِ اہلسنت کو عقائد اہل سنت کی حقانیت و صداقت واضح کرکے بدمذہبوں سے کنارہ کش رہنے کی تلقین کرنا بھی ایک ضروری امر ہے، عصر حاضر میں دینی رفاقت۔

اور باہمی اتفاق کے نام پر حیرت انگیز واقعات رونما ہورہے ہیں، کچھ یتیم العلم حضرات اپنے آپ کو یوں بھی مطمئن کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارا مبلغِ علم بہت بلند و بالا ہے

لہذا سیاسی و سماجی مفادات کی خاطر بدمذہبوں سے ملاقات ہمارے لیے سبب ضرر نہیں،لیکن موصوف کے مبلغِ علم کا حال یہ ہوتا ہے کہ ضروریات دین اور معمولات اہل سنت سے بھی ناواقف ہوتے ہیں اور یوں چند دنوں کے بعد کسی بد مذہب کے متصوفانہ کردار یا خود ساختہ قواعدو اصول سے متأثر ہو کر اپنی آخرت برباد کرتے نظر آتے ہیں، نتیجتاً موصوف کامبلغِ علم آسمانِ ہفتم سے تحت الثریا تک جا گرتا ہے۔

حالاں کہ قصور یہاں ان کی کم علمی کا ہے نہ کہ مذہب اہل سنت کی حقانیت کا، بلاشبہ مذہب اہل سنت تو دلائل و براہینِ معتبرہ راجحہ سے ایسا ثابت ہے کہ ان دلائل کو پڑھنے والے کی آنکھیں خیرہ ہوکر رہ جاتی ہیں

اور ہو بھی کیوں ناں، کہ ہمارے اسلاف نے احقاقِ حق اور ابطال باطل کے موضوع پر زندگیاں کھپائیں اور اپنے فضل وکمال کی بنیاد پر مسلک حق اہل سنت وجماعت کی حقانیت کو آفتاب نیم روز کے مانند روشن فرماکر دم لیا ،خصوصاً سیدی و سندی امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا مجددانہ کارنامہ اہل سنت کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں

لہذا تعلیماتِ امام کو عوام اہل سنت تک پہنچانا ہمارے ذمے قرض ہے ورنہ مستقبل میں ہماری نسلیں گمراہی کے کس گڑھے میں جا گریں گی اس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔

لہذا عصر حاضر کے علما وفضلا سے شعری زبان میں کہوں گا۔

اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے بہر حال! بدمذہبوں سے کنارہ کشی کیوں ضروری ہے؟؟

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔

ترجمہ : جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں بیہودہ گفتگو کرتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔

مذکورہ آیت کریمہ سے معلوم ہوا بے دینوں کی جس مجلس میں مذہب اسلام کا مذاق بنایا جا رہا ہو ایسی محفل سے اجتناب لازم ہے،لیکن اگر کوئی غلطی سے شریک محفل یا شریک صحبت ہے تو اس پر واجب ہے کہ یاد آنے پر اس محفل سے الگ ہو جائے کیوں کہ یہ بری صحبت ہمارے ایمان و عقیدے کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گی۔

اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ وَلَا يفْتِنُونَكُمْ

ترجمہ: آخری زمانہ میں جھوٹے دجال ہوں گے جو تمہارے پاس وہ احادیث لائیں گے جو نہ تم نے سنیں ، نہ تمہارے باپ داداؤں نے ، ان کو اپنے اور اپنے کو ان سے دور رکھو، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، فتنہ میں نہ ڈال دیں۔(مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحمّلہا، رقم الحدیث: ۷)

فقط اتنا ہی نہیں بلکہ قرآن مقدس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بے دینوں کو ظالم قرار دیتے ہوئے مؤمنین کو متنبہ کیا کہ اگر تم ان کی مجالس میں بیٹھنے سے اور ان کی صحبت سے باز نہیں آئے تو تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔

اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ- وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ (سورۂ ھود آیت ١٢٣)

ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہاراکوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔

اور ایک مقام پر فرمایا: وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (سورۂ مائدۃ آیت ١٢٠)

ترجمہ: اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے ،بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

مذکورہ بالا آیات مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ جو بدمذہبوں کی صحبت سے باز نہیں آتے وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور جہنم میں داخلے کا سامان کرتے ہیں۔

اس کو پڑھیں : تنظیم و اُصول اور استعداد و صلاحیت کے ضمن میں تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کی افادیت

رشتہ داری کی بنیاد پر بد مذہب سے صلہ رحمی کرنا :

لیکن افسوس صد افسوس جب بھی بد مذہبوں سے دوری کی بات آتی ہے تو ایک شیطانی وسوسہ ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے کہ مذہب اسلام تو اخوت و محبت اور صلۂ رحمی کا درس دیتا ہے تو ہمارے جو رشتہ دار غلط عقائد کا گرچہ شکار ہو چکے ہیں لیکن صلہ رحمی کی بنیاد پر ہم ان سے میل جول ختم نہیں کریں گے۔

ایسے لوگوں کے لیے قرآن نے واضح فرمایا کہ یہ صلۂ رحمی فقط ایمانی لحاظ سے ہو سکتا ہے اگر دل میں نور ایمان بجھ گیا ہے تو باپ ہو یا بیٹا، بھائی ہو یا کوئی بھی رشتہ دار، وہ رشتہ نبھانے کے قابل نہیں۔

اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ (سورۂ توبہ ، آیت ١٢٩

) ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں۔

اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتاہے: لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ

تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں۔

مذکورہ بالا آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بددینوں،بدمذہبوں،اللہ اور اس کے رسول کی شان میں بے ادبی کرنے والوں سے محبت،دوستی اور میل جول رکھنا مسلمان کی شان اور اس کے ایمانی تقاضوں کے بر خلاف ہے

لہذا ان سے دور رہنا بلکہ ان کے سائے سے بچنا ایمان کا حصہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *