سالار اردو غلام سرور کیا ہمارے پاس اب ایک ہی ہتھیار ہے

Spread the love

سالار اردو غلام سرور کیا ہمارے پاس اب ایک ہی ہتھیار ہے ؟ مسلم ادیب و رہنماؤں کے پاس صرف ایک پھول یا ایک ہی رہنما، قائد سالار اردو الحاج غلام سرور ہیں، جن کے نام کو بیچنے کی ہوڑ مچی ہےمحمد رفیع 7091937560 rafimfp@gmail.com دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنو مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیںمرےدامن میں شراروں کےسواکچھ بھی نہیںآپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں ساغر صدیقی باغ میں گلاب بھی ہے، گیندا بھی ہے، گل موہر بھی اور گل داؤدی وغیرہ بھی ہیں۔ سب کے شیدائی بھی ہیں، خریدار بھی ہیں، رکھوالی کرنے والے مالی اور بیچنے والے تاجر بھی ہیں۔

سیاست میں گاندھی بھی ہیں، مولانا آزاد بھی ہیں، امبیڈکر بھی ہیں اور کرپوری ٹھاکر بھی ہیں۔ سب کے مقلد (پیروکار) بھی ہیں اور سب کو بیچ کر اپنی سیاست چمکانے والے رہنما اور قائد بھی ہیں۔

لیکن مسلم ادیب و رہنماؤں کے پاس صرف ایک پھول یا ایک ہی رہنما، قائد سالار اردو الحاج غلام سرور ہیں، جن کے نام کو بیچنے کی ہوڑ مچی ہے۔

لیکن یہ کڑوا سچ سب کو ہضم نہیں ہوتا ہے کہ چالاکی سے ان کے نام کی بولی لگانے والوں نے ان کی وراثت کو بیچ دیا ہے اور چین کی نیند سو رہے ہیں۔

غلام سرور کے نام کے سہارے اردو زبان کی بجھتی شمع کی لو کو تیز کر اردو کی تاریک گلیوں میں اردو تحریک کی روشنی پھیلانے کا کام کرنے والوں کے لیے ان کے پاس ہمدردی کے دو بول بھی نہیں ہیں۔ یہی حالت اردو زبان کے معتبر صحافیوں و رہنماؤں کی بھی ہے جو صرف غلام سرور اور پروفیسر مغنی کے اوصاف بیان کر کے اپنی دکان چمکا کر کسی بورڈ یا پھر کمیٹی وغیرہ میں اپنی جگہ محفوظ کر لینا چاہتے ہیں

لیکن اللہ تعالیٰ تو دلوں کا بھید جاننے والا ہے، اس لئے ایسے لوگوں کو ناکامی ہاتھ لگ رہی ہے اور وہ اپنی ناکامی کا ٹھکرا دوسروں پر پھوڑتے ہیں۔ میں صاف لفظوں میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارے یہاں دو طرح کے لوگ ہیں

ایک وہ ہیں جو غلام سرور کے پیروکار بن کر ان کی سیاسی وراثت کو بیچنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو غلام سرور کے نقش قدم پر چل کر اردو زبان کی بقاء اور ترویج و اشاعت کے لیے جدو جہد کرتے ہیں۔

لیکن افسوس کے دانش وروں کا ایک طبقہ جو یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ بہار میں اردو صرف ہم سے ہے اور ہمارے مورث بھی ہمارے محتاج ہیں کو اردو کے لئے سڑکوں پر جدو جہد کرنے والے بالکل بھی پسند نہیں ہیں، انہیں وہ اچھوت مانتے ہیں۔

میں ایک دو مثالیں پیش کروں اس سے قبل ساغر صدیقی کے دو اشعار پیش ہیں یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیںتیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیںورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں 22 نومبر 2023 سے 28 نومبر 2023 تک اردو بیداری ہفتہ منانے کا اردو ایکشن کمیٹی بہار کے فیصلہ کا قومی اساتذہ تنظیم بہار نے خیر مقدم کیا اور اسے مستحسن قدم بتایا۔ اردو بیداری ہفتہ کی حمایت میں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے عہدیداروں و اراکین نے خصوصی طور پر مظفر پور کے عوام میں مفت اخبار، نیم پلیٹیں، آئین ہند کے تمہید کی اردو کاپی تقسیم کر، غیر اردو داں سے مل کر اردو زبان کو فروغ دینے کی ان سے اپیل کی اور اردو بیداری ہفتہ کے اختتام پر غیر اردو داں پروفیسر (ڈاکٹر) وجئے کمار جیسوال کو اردو زبان سے محبت رکھنے، اردو کی ترویج و اشاعت میں حمایت کرنے کے لیے” اردو دوست” ایوارڈ سے انہیں نوازا۔ لیکن افسوس کہ جب اس مہم کے اختتام کے بعد رپورتاژ لکھا گیا تو مصنف کو پٹنہ اور پٹنہ کے علاوہ بہار کے وہ اضلاع یاد رہے جنہوں نے اردو بیداری ہفتہ کی حمایت میں تھوڑا تعاون کیا تھا

لیکن مظفر پور ضلع جس نے زمینی سطح پر کام کر کے دکھایا اور اردو بیداری ہفتہ کی دل سے حمایت کی اپنا جان و مال تک لگا دیا تھا کا نام شاید ان کے ذہن میں نہ رہا۔ اس بیداری ہفتہ کے دوران لوگ مجھ سے پوچھتے رہے آخر بے وقت اس تحریک کی کیا ضرورت ہے، اس کے جواز کیا ہیں؟ لیکن ہمیں کیا ہم تو اردو کے دیوانے ہیں، اردو کے نام پر شہید ہونے والے ہیں، یہیں پر ہم نے فیصلہ لیا کہ ہم لوگ صحیح موقع پر بہار میں ماند پڑ گئی اردو تحریک کو زندہ کرنے کے لئے قدم اٹھائیں گے۔ پھر ہم نے ایک مہینہ بعد یعنی 10 جنوری سالار اردو الحاج غلام سرور کے یوم پیدائش اور یوم اردو کو غنیمت جانا۔ پٹنہ کی سرزمین سے ایک تحریک غلام سرور کی اردو زبان کی خدمات کی روشنی میں شروع کیا اور بہار کے تمام اضلاع میں اس کارواں کو لے جانے کا عزم لیا۔ میں نے اپنے رفقاء جناب محمد تاج العارفین، محمد تاج الدین، محمد حماد، منہاج ڈھاکوی، نسیم اختر، رضی احمد، محمد امان اللہ، محمد جاوید احمد، وقار عالم وغیرہ کے ساتھ جناب عبدالسلام انصاری کی رہنمائی میں پٹنہ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے ہال میں 10 جنوری 2025 کو ایک باوقار تقریب کا اہتمام کیا جس کے مہمان خصوصی سابق راجیہ سبھا ایم پی ڈاکٹر احمد اشفاق کریم تھے اور اس تقریب کا افتتاح وزیر اقلیتی فلاح حکومت بہار جناب زماں خان نے کیا۔ اس موقع پر جہاں ایک جانب ” تحریک تحفظ اردو زبان و ادب ” کی داغ بیل ڈالی گئی وہیں اس سے متعلق ایک کتاب ” صد برگ ” (جسے مولانا تاج الدین قاسمی نے مرتب کیا تھا جو الحاج غلام سرور اور پروفیسر مغنی کی نذر تھا، یہ کتاب میرے مضمون کا مجموعہ تھا) اور تحریک کے اغراض و مقاصد پر مشتمل ایک بکلیٹ کا اجراء بھی کیا گیا۔ وہیں پر اردو کی آبرو اور نامور خادم اردو، صحافی ڈاکٹر ریحان غنی کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں ” غلام سرور ایوارڈ ” سے نوازا گیا۔ ” تحریک تحفظ اردو زبان و ادب” کا کارواں پٹنہ سے نکل کر ویشالی، سمستی پور، دربھنگہ، مدھوبنی، مظفر پور، شیوہر، سیتامڑھی، گوپال گنج اور سیوان تک کا سفر طے کیا۔ لیکن بیچ میں رمضان المبارک کا پاکیزہ مہینہ شروع ہونے سے کارواں کو روکنا پڑا اور رمضان المبارک کے بعد ناگزیر وجوہات سے کارواں کو آگے نہیں بڑھایا گیا پھر اسمبلی انتخاب کا رنگ چڑھنا شروع ہوا ایسے میں تحریک چلانا مناسب نہیں معلوم ہوا۔ اس واقعہ کا ذکر کرنے کا یہ مقصد ہے کہ” تحریک تحفظ اردو زبان و ادب ” کی شروعات بہار کے دارالسلطنت پٹنہ سے الحاج غلام سرور کے یوم پیدائش اور یوم اردو کے موقع پر ہوئی، غالباً غلام سرور صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ نایاب اور بامقصد طریقہ پہلی مرتبہ قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ذریعہ اپنایا گیا جس کے تحت ریاست کے بڑے حصہ کا دورہ بھی کیا گیا، یہ الحاج غلام سرور کو سچی خراج عقیدت تھی لیکن بہار کے دانشوران کی قلم میں زنگ لگ گیا تھا سوائے انوار الحسن وسطوی کے کسی نے بھی اردو کی تحریک کو مضبوط کرنے، اسے فروغ دینے کے لئے نہ تو اپنا جان مال لگایا اور نہ ہی قلمی حمایت دی۔ لیکن اردو زبان کے تحفظ کے لئے جو بھی قدم اٹھے، کیا اس کے نشان بھی آپ مٹا دیں گے؟ افسوس جس اردو اور غلام سرور کے نام کو کوٹھری میں بیٹھ کر جو لوگ اپنی کامیابی کے لئے بیچنا چاہتے ہیں انہیں سڑکوں پر نکلنا چاہئے اور ہر چھوٹے بڑے تحریک یا مہم کا انہیں استقبال کرنا چاہئے۔ آج 10 جنوری 2026 کو میں الحاج غلام سرور صاحب کو سچی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ امید کرتا ہوں کہ ہمارے جذبات کو لوگ سمجھ پائیں گے۔ ایک چھوٹا سا مگر مزیدار واقعہ کہ” تحریک تحفظ اردو زبان و ادب ” کا کارواں جب دربھنگہ اور مدھوبنی کے لئے روانہ ہو رہا تھا تب ہم لوگ ایک دن قبل یعنی 2 فروری 2025 کو شام کے وقت بہار کے نامور مصنف، شاعر و نقاد پروفیسر فاروق احمد صدیقی سے ملنے مظفر پور، امرود باغان واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ ملاقات کے دوران میں نے ان سے کہا کہ کل 3 فروری کو قومی اساتذہ تنظیم بہار کے زیر اہتمام چل رہے ” تحریک تحفظ اردو زبان و ادب” کا کارواں دربھنگہ اور مدھوبنی کے لئے روانہ ہوگا۔ ہم لوگ آپ کو پروگرام میں شرکت کی دعوت دینے اور یہ درخواست کرنے آئے ہیں کہ آپ دعا فرما دیں دربھنگہ کے سفر پر غلام سرور کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا تھا ویسا نہ ہو، کیونکہ وہ بھی اردو تحریک کو مضبوط کرنے کے لئے عازم سفر تھے اور ہمارا کارواں بھی اسی مقصد کے تحت سفر کر رہا ہے۔ دراصل اردو تحریک کو مضبوط کرنے کی غرض سے جب غلام سرور صاحب نے دربھنگہ کا سفر کیا تھا راستے میں ان کی گاڑی حادثہ کا شکار ہو گئی تھی جس کا ذکر آپ نے ان کے رفیق، بہار کے نامور غزل گو اور اردو زبان کے سچے ہمدرد، و خادم اردو، ہمارے استاذ پروفیسر قمر اعظم ہاشمی کے حوالے سے اس واقعہ کا ذکر آپ نے اپنے مضامین و کتاب میں کیا ہے۔ پروفیسر فاروق احمد صدیقی صاحب ہنسے، انہوں نے صحت کی بنیاد پر ساتھ چلنے سے معذرت کر لی اور ڈھیر ساری دعائیں دیں، انہوں نے تحریک کو مضبوط بنانے کے لئے مالی تعاون کی بھی پیش کش کی۔‌ یہ ہوتا ہے اردو کے سچے ہمدرد کا شیوہ۔ پروفیسر فاروق احمد صدیقی سے ہمیں سبق حاصل کرنی چاہئے اور بلا تفریق اردو زبان کی تحریک کو مضبوط بنانے میں اپنا تعاون پیش کرنا چاہئے۔ ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے عبث ہے شکوہء تقدیرِ یزداں تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے؟ علامہ محمد اقبال

One thought on “سالار اردو غلام سرور کیا ہمارے پاس اب ایک ہی ہتھیار ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *