کچھ دینے کی بھی عادت بنائیے

Spread the love

کچھ دینے کی بھی عادت بنائیے

تجربات شاہد ہیں کہ عطیات دینے والے سارے ممالک مال دار نہیں سمجھے جاتے

از : ڈاکٹر غلام زرقانی

امداد واعانت کے حوالے سے اسلامی شریعت پر نگاہ ڈالی جائے ، توکئی جہتوں سے نہایت ہی صاف وشفاف ہدایات ملتی ہیں۔

ایک طرف دینے کے فضائل ومحامد بیان کیے گئے ہیں ، تودوسری جانب لینے والے کی حوصلہ شکنی بھی کی گئی ہے۔ پھر کہیں راہ الٰہی میں دینے کی فرضیت پر روشنی ڈالی گئی ہے ، توکہیں نفلی صدقات وخیرات کی رغبت بھی دلائی گئی ہے۔

نیز یہ بھی کہ جو لوگ ہوتے ہوئے بھی خرچ نہیں کرتے ، انھیں سخت سزاوعقاب کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں ۔ اس طرح پورے یقین کے ساتھ کہیے کہ اسلامی شریعت نے امداد واعانت سے متعلق تمام تر ممکنہ جہتوں پر روشنی ڈالی ہے ۔

آگے بڑھنےسے پہلے ذرا سرنامۂ سخن کے دوسرے حصے پر بات کرلیتے ہیں ۔ مغربی دنیا کو قریب سے دیکھنے کے بعد محسوس ہوتاہے کہ یہاں لوگ ایک دوسرے کی امداد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ اس پس منظر میں وہ نہ توخاندان دیکھتے ہیں ، نہ مذہب اور نہ ہی رنگ ونسل ، صرف انسانی ہمدردی میں وہ اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں ۔انسانی آفات کے وقت مدد کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے جذبات دیکھ کر حیرت ہوتی ۔

ہمارے شہر ہیوسٹن میں چند سالوں پہلے کئی ایام تک مسلسل بارش کے نتیجے میں محلے کے محلے زیر آب آگئے اور بیت الخلاسے نکلنے والی غلاظت بھی علاقوں میں پھیل گئی۔ ایسے بدبودار ماحول میں بڑے بڑے مالداروں نے بزرگوں اور بچوں کو گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچانے میں جو کردار ادا کیا ہے ، وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہے ۔

اور ایسا نہیں ہے کہ لوگ یہاں صرف اپنے علاقے کے حاجت مندوں کی مدد کرتے ہیں ، بلکہ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی لوگ قدرتی آفات سے جوجھ رہے ہوں ، وہاں ان کی سرگرمیاں تیز ہوجاتی ہیں ۔ بطور مثال میں یہاں چیریٹیز ایڈ فاؤنڈیشن (CAF)کی حالیہ شائع شدہ رپورٹ کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہوں گا

جس میں دنیا کے دس سب سے زیادہ عطیات وخیرات کرنے والے ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ متذکرہ رپورٹ میں تین زاویوں پر توجہ دی جاتی ہے، یعنی کسی اجنبی حاجت مند کی مدد، مالی معاونت اور انسانی خدمات کے لیے اپنا قیمتی وقت دینا۔ یہ کہتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ پچھلے سال تینوں معیارات کے اعتبار سے انڈونیشیا سرفہرست رہاہے ۔

اس کے بعدکینیا، پھر امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، میانمار، سیرالیون، کناڈا، زامبیااور یوکرین کے نام ہیں ۔ آپ محسوس کررہے ہوں گے کہ دس سب سے زیادہ خدمات انسانیت میں آگے رہنے والوں میں صرف دواسلامی ممالک شامل ہیں ، باقی سارے غیروں کی اکثریت والے ممالک ہیں۔

اوریہ بھی صاف اشارہ ہے کہ انسانوں کی مدد کے لیے آگے آگے رہنے والے تمام ممالک مالدار نہیں ہیں ، بلکہ ان میں نصف ممالک اگر کسی قدر معاشی اعتبار سے مستحکم سمجھے جاتے ہیں ، تونصف کے قریب ایسے بھی ہیں ، جوخود معاشی مشکلات سے گزر رہے ہیں ۔ کوئی شک نہیں کہ یہ مسلمانوں کے لیے فخر کی بات ہے کہ روئے زمین پر سب سے زیادہ امداد واعانت کرنے والے ممالک کے درمیان ’انڈونیشیا‘ کانام سرفہرست ہے ، جو دنیامیں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا اسلامی ملک ہے ۔

تاہم اسی کے ساتھ شکوہ یہ بھی ہے کہ پیٹرول برآمد کرنے والے خلیجی ممالک دولت وثروت میں دوسروں سے بہت زیادہ مالدار ہونے کے باوجود متذکرہ فہرست میں حاشیہ پربھی جگہ بنانے میں ناکام رہے ۔

 

حیرت صرف ہمیں ہی نہیں ، بلکہ چیریٹیز ایڈ فاؤنڈیشن کے ذمہ داروں کو بھی ہے کہ افریقی ملک کینیا کے شہری کروناوائرس کے دور میں مصائب وآلام سے گزرنے کے باوجود بھی خدمات انسانیت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور خلیجی ممالک پیٹروڈالر سے مالا مال ہونے کے باوجود پیچھے ہیں ۔

اچھا، کان قریب کریں توایک راز کی بات کہوں ۔ دنیامیں دوطرح کے ممالک ہے ، ایک وہ جہاں لوگ محنت ومشقت کرکے دولت حاصل کرتے ہیں اور دوسرے وہ، جہاں قدرتی وسائل وذرائع سے براہ راست روپیے حاصل ہوتے ہیں ، جیسے خلیجی ممالک ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ (CAF)کی متذکرہ فہرست میں جہاں لوگ تعلیم وترقی، قوت دست وبازو اور شبانہ روز جد وجہد سے دولت حاصل کرتے ، وہ ممالک انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہیں، جب کہ مفت میں جہاں دولت ہاتھ لگتی ہے ، وہیں لوگ اللہ کے بندوں پر خرچ کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں ۔

یہاں بطورمثال ماضی قریب کی تین ایسی مغربی شخصیات کے نام لیے جاسکتے ہیں ، جنھوںنے اپنے مرنے سے پہلےاپنی ساری دولت انسانیت کی خدمت کے لیے دے دی۔ چک فینی، جنھوں نے غریب گھرانے میں آنکھیں کھولیں ۔ تجارت کے ذریعہ دولت حاصل کی اور اپنی ساری دولت خیراتی اداروں کے حوالے کردی ، جس کا تخمینہ نو بلین ڈالر تک پہنچتاہے۔

اس کو بھی پڑھیں : خیرات صدقات اور زکوات اپنے بچوں کے ہاتھوں سے کروانا

اسی طرح انڈریوکارنج اور چین کے یوپینگ نیئن نے بھی اپنی تمام تر دولت خدمات انسانیت کے لیے دے دی۔

صاحبو! ہمیں تسلیم ہے کہ معاشرے کے دولت مند افراد کو بڑھ چڑھ کر انسانی خدمات کے لیے پیش پیش رہنا چاہیے ، تاہم یہ قطعی درست نہیں کہ انسانیت پر خرچ کرنے کے حوالے سے ہماری جملہ توقعات انھیں سے منسلک ہوجائیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں ، بلکہ اپنی استطاعت بھر جس قدر ہوسکے ہمیں خود بھی اس کار خیر میں حصہ لینا چاہیے ۔

ٹھیک ہے ، ان کے پاس ہزاروں ، لاکھوں اور کروروں ہیں ، تووہ اپنی حیثیت کے مطابق دے رہے ہیں ، اور ہمارے پاس دس بیس پچاس اور سو ہیں ، توہمیں قطرہ ہی سہی، کارخیر کے سمندر میں ضرور ڈالنا چاہیے۔ ہمیں ان کی موٹی عطیات وخیرات سے کبھی بھی مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یا درہے کہ اللہ رب العزت اعمال صالحہ کی ضخامت ووسعت سے کہیں زیادہ اخلاص نیت دیکھتاہے اور اجروثواب کا فیصلہ اسی بنیاد پر کرتاہے۔

اخیر میں یہ عرض بھی کرنا چاہتاہوں کہ دینے کے جذبات کی بھی پرورش کرنی پڑتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ہمیں پابندی کے ساتھ اپنی استطاعت بھر راہ خدا میں خرچ کرنے کی عادت بنانی چاہیے ، جس کے لیے نماز جمعہ کی حاضری نہایت ہی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ نماز جمعہ کے لیے نکلنے سے پہلے اپنی استطاعت بھر کچھ نہ کچھ اپنی جیب میں لے کر جائے اور راہ خداکے حوالے کردے ۔ اس طرح جب دینے کی عادت بن جائے گی ، توپھر روئے زمین پر مصائب وآلام اور تکالیف وشدائد کے کڑے دور سے گزرنے والے انسانوں کے لیے دست خدمت دراز کرنا ہمارے لیے کچھ مشکل نہ ہوگا۔

از : ڈاکٹر غلام زرقانی

ghulamzarquani@yahoo.com

3 thoughts on “کچھ دینے کی بھی عادت بنائیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *