ہندو مسلم کارڈ کے خلاف بہار کے وزیر کی سیاسی چال

Spread the love

ہندو مسلم کارڈ کے خلاف بہار کے وزیر کی سیاسی چال

مشرف شمسی

بہار کے وزیر ڈاکٹر چندر شیکھر کا تُلسی داس کی تحریر کردہ رام چرِتر مانس ، منو اسمرتی اور آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی سامنے رکھنے والے پہلے سرسنچلاک گورو گولولکر کے بنچ آف تھوٹ کودلت اور پچھڑا مخالف بتانا محض ایک اتفاق ہے یا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت دیا گیا بیان ہے ۔
میرے خیال میں ڈاکٹر چندر شیکھر کا بیان ایک حکمت عملی کے تحت دیا گیا بیان ہے اور یہ بیان ذات کی بنیاد پر مردم شُماری کے بعد کا قدم ہے ۔ڈاکٹر چندر شیکھر اور بہار سرکار کے مکھیا نتیش کمار اس بیان کے ذریعہ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے وہ اس میں پوری طرح کام یاب نظر آرہے ہیں۔

دراصل بی جے پی دن رات ٹی وی پر ہندو مسلم کر کے ہندوؤں کو متحد رکھنا چاہتی ہے تاکہ ہندوؤں کے ایک بڑے حصے کا ووٹ اُنہیں ملتا رہے اور بی جے پی اب تک ووٹ حاصل کرنے کی اس حکمت عملی میں کام یاب بھی رہی ہے ۔

بی جے پی کے ذریعے مسلسل ہندو مسلم کارڈ کھیلے جانے سے 2014 کے بعد منڈل کی سیاست حاشیے پر پہنچ چکی ہے ۔ حالاں کہ گجرات اسمبلی کے پچھلے چناؤ کے علاوہ بی جے پی کو کبھی بھی کسی چناؤ میں پچاس فیصد ووٹ حاصل نہیں ہوئے ہیں۔

چالیس فیصد ووٹ بھی بی جے پی ہر ایک چناؤ میں حاصل کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بی جے پی کو دلت اور پچھڑے طبقے کے ایک بڑے حصے کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی مِلتی رہی ہے۔

منڈل کمیشن سے پیدا ہوئی سیاسی جماعتیں بی جے پی کے ہندو کارڈ کے سامنے بے بس نظر آنے لگی ہے ۔حالاں کہ بہار ہی
ایک ایسی ریاست ہے جہاں بی جے پی تن تنہا اپنی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو پائی ہے ساتھ منڈل کے اثر کو بہار میں ختم نہیں کر سکی ہے ۔نتیش کمار کے ساتھ سالہا سال حکومت میں رہنے اور وزیر اعظم مودی کے چہرے کے باوجود بہار میں بی جے پی کا اپنے دم پر حکومت میں آنا مشکل ہی نہیں نا ممکن نظر آتا ہے ۔

نتیش کمار بی جے پی کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور ان کی نظر 2024 کے لوک سبھا چناؤ پر ہے یعنی ایک طرح سے کہا جائے 2024 کی بساط بچھ چکی ہے ۔بی جے پی کے فائدے کے لئے ٹی وی چینل سال کے تین سو پینسٹھ دن ہندو مسلم بحث کو بنائے رکھتی ہے تاکہ اُن کے ووٹرز کو اس کے علاوہ کوئی دوسرا خوراک نہیں مل پائے۔لیکن نتیش کمار کے ایک وزیر کے بیان سے بحث کا رخ مڑ گیا ہے ۔

ہندوتوا طاقتیں ڈاکٹر چندر شیکھر اور نتیش حکومت کے خلاف حملہ آور ہو چکی ہیں ۔یہاں تک کہ ایک نام نہاد سادھو نے نتیش کے وزیر کا سر کاٹ لانے پر دس کروڑ انعام دینے کا اعلان کیا ہے ۔ٹی وی ڈیبیٹ میں ہندو مسلم کی جگہ ہندو مذہب کی کتابوں میں نچلی ذاتوں کے خلاف کیا کہا گیا ہے اس پر بحث چل رہی ہے ۔

حالاں کہ گودی میڈیا اس بحث کے ذریعے نتیش سرکار میں پھوٹ ڈالنا چاہتی ہے تاکہ نتیش سرکار گر جائے لیکن اونچی ذات اور نچلی ذات کی بحث سے بی جے پی کی مشکلیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ بی جے پی بالکل نہیں چاہتی یہ بحث آگے بڑھے۔لیکن اب تو بہوجن سماج کے لوگ ڈاکٹر چندر شیکھر کی حمایت میں سڑکوں پر بھی اُتر چکے ہیں اور منوواد کے خلاف ایک بڑا دانش ور طبقہ خوب لکھ بھی رہے ہیں ۔اس دانش ور طبقے میں کمیونسٹ نظریہ رکھنے والے رائٹر بھی بہوجن سماج کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں ۔

ایک طرف راہل گاندھی کے پیدل سفر سے بی جے پی اور سنگھ کے اندر بےچینی دیکھنے کو مل رہی ہے تو دوسری جانب بہار کے وزیر کے بیان نے ٹی وی چینل اور اخبار کی بحث اونچی اور نچلی ذات کر دیا ہے جو بی جے پی نہیں چاہتی ہے ۔ شاید اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے رہ نماؤں سے یہ کہنا پڑا کہ مسلمانوں کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کریں ۔

بی جے پی اپنی سیاست کے لیے جس طرح مذہب کے نام پر نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے ۔ اسی مذہب کی سیاست کا دھار کند کرنے کے لیےہندو مذہب کی کتابوں کو بنیاد بنا کر منڈل کی سیاست کو چندر شیکھر نے ہوا دی ہے ۔ ڈاکٹر چندر شیکھر نے نتیش کمار کی ایما پر سماج میں منڈل کے ٹمپریچر کو ناپنے کے لیے یہ بیان بازی کی ہوگی اس میں شک کی گنجائش کم ہے اور جس میں وہ کام یاب بھی ہیں۔

آنے والے دنوں میں دیکھیں گے جیسے ہی بی جے پی ہندو مسلم پر بحث چھیڑے گی بہار یا اُتر پردیش سے منڈل کی سیاست کرنے والوں کی جانب سے ہندو گرنتھ پر حملہ کر کے بحث کا رخ موڑنے کی کوشش ہوگی۔شاید اسی لیے وزیر اعظم مودی نے اپنی جماعت کے رہنماؤں سے مسلمانوں کے خلاف بیان بازی سے بچنے کے لیے کہا ہے ۔

ووٹ حاصل کرنے کے لیےمذہب کی سیاست ہو یا ذات کی بنیاد پر سیاست ہو اس سیاست سے ملک کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا بلکہ ملک میں چاروں جانب منافرت کا ماحول پیدا ہوگا اور ملک خانہ جنگی کی جانب بڑھتی جائے گی جو کسی کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔سیاست کریں لیکن عوام کی بھلائی کے لیے سیاست کریں لوگوں کو بانٹ کر ملک کی سالمیت سے کھلواڑ نہ کریں ۔کیوں کہ ملک رہے گا تبھی کوئی پارٹی ہے اور سیاست ہے۔


میرا روڈ ،ممبئی
موبائل 9322674787


نوکری سے نکالنے کے پہلے ذہن سازی

کثرت مدارس مفید یا مضر

نفرت کا بلڈوزر

ہمارے لیے آئیڈیل کون ہے ؟۔ 

مسجدوں کو مندر بنانے کی مہم

سنیما کے بہانے تاریخ گری کی ناپاک مہم

کیا کانگریس کو کارپوریٹ کا ساتھ مل رہا ہے ؟

متحد حزب اختلاف

آبادی کنٹرول قانون اور مسلمان

مسلمانوں میں کردار سازی کی ضرورت ہے

کھر گے کے سامنے چیلنج

ٹھاکرے کو دیوار سے لگانے کی کوشش

وزیر اعظم سنک اور بھارت کے عوام

سماج وادیوں اور سوشلسٹوں کے کندھے پر بیٹھ کر سنگھ اقتدار تک پہنچی 

بھارت میں اسلامی حکومت ہوتی تو آبادی کا تناسب مختلف ہوتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *