دہلی میں پیش آنے والا حادثہ انتہائی افسوس ناک
دہلی میں پیش آنے والا حادثہ انتہائی افسوس ناک حافظ افتخاراحمدقادری
اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ اس وقت یوپی کی سر زمین حادثات کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔
مستقبل میں یوپی میں کئی اندوہناک حادثات رونما ہوئے لیکن اتنے تواتر کے ساتھ نہیں جتنا کہ سال دو ہزار پچیس کے شروع میں حادثات کا سیلاب اس طرح آیا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔
یوپی میں رونما ہوئے حادثات میں سے چاہے وہ حادثہ مہا کمبھ میں مچی بھگدڑ کا ہو یا وہاں کیمپوں میں آگ کا یا اس کے علاوہ۔
ان تمام حادثات کی اکثریت انفرادی یا اجتماعی غفلت اور لاپروائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اگر بات ریلوے کی جائے تو بھارت میں آئے دن ریل گاڑیاں پٹری سے کہیں نہ کہیں اترتی رہتی ہے جس سے ایک کثیر تعداد میں لوگوں کا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔
مگر افسوس کہ حکومت وقت ان حادثات سے سبق سیکھنے کی بجاۓ اور ان پر قابو پانے کی بجاۓ غفلت کا شکار نظر آتی ہے جس کی وجہ سے کچھ ہی عرصہ کے بعد پھر ایک نہ ایک ٹرین حادثہ کا شکار ہو جاتی ہے۔
ابھی دو چار دن قبل دارالحکومت دہلی میں ریلوے اسٹیشن پر ایک افسوسناک حادثہ رونما ہوا جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں کا جانی و مالی نقصان ہوا۔ ظاہر ہے کہ ایسے حادثے یونہی رونما نہیں ہوتے بلکہ انتظامہ کی لاپرواہی و کوتاہی اور ناقص انتظامات کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔
جب مکمل انتظامات نہیں ہوتے ہیں تو بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے مسافروں میں افراتفری مچ جاتی ہے اور قیمتی جانیں جاتی ہیں اور کئی ایک بھیڑ بھاڑ میں دب کر اتنے شدید زخمی ہو جاتے ہیں کہ ان کا چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ اس طرح کے ہورہے مسلسل حادثات کی تفصیلی جانچ کرائے۔
دارالحکومت دہلی میں پیش آنے والا حادثہ یہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس حادثے میں خواتین اور بچوں بوڑھوں سمیت کئی جانیں چلی گئیں جس سے ریلوے کے ناکافی انتظامات کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ابتدائی طور پر ابھی کچھ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی لیکن جو مناظر اخبارات اور ویڈیوز کے ذریعے دہلی اسٹیشن کے دیکھے گئے اور وہاں موجود افراد نے جو بیان دیا اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مالی و جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہوا ہے۔
حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس حادثے کے اسباب کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اگر دہلی ریلوے اسٹیشن کے انتظامات مناسب ہوتے تو یہ حادثہ پیش نہیں آتا۔
عوام کو جب معلوم ہوا کہ حکومت کی جانب سے مفت ریل سروس فراہم کی جا رہی ہے تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ دہلی اسٹیشن پہنچ گئے لیکن وہاں کسی قسم کی مناسب حکمت عملی نہیں اپنائی گئی جس کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہوگئے۔
ہم دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہوئے حادثہ کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر دہلی ریلوے اسٹیشن کے انتظامات درست کروائے کیوں کہ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی صورت حال پیدا نہ ہو۔
ویسے بھی وہاں کی انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جب بھی کسی قسم کی خصوصی سروس فراہم کی جائے تو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے مناسب انتظامات کئے جائیں۔ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ حکومتِ وقت کی لاپرواہی کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اگر پہلے سے ہی کنٹرول روم قائم کئے جاتے، مسافروں کو بہتر طریقے سے منظم کیا جاتا اور ایمرجنسی اقدامات کئے جاتے تو شاید یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا۔
اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا کہ اب جب کہ حادثہ رونما ہو چکا، لوگ اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تو اب دہلی ریلوے حکام نے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس میں شمالی ریلوے کے دو سینئر افسران شامل ہیں۔کمیٹی کو تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لینے اور واقعے کی وجوہات کا پتہ لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دریں اثنا دہلی پولیس نے بھی واقعے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور اسٹیشن پر نصب کیمروں کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہجوم کس طرح قابو سے باہر ہوا۔
کاش کہ یہ انتظامات پہلے ہی سے درست کئے جاتے تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ ہلاکت کا سبب نہ بنتے۔ ادھر حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں اور حکومت سے فوری مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ ریلوے حکام نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
تاہم، حزب اختلاف اور سماجی حلقے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائے اور مستقبل میں اس طرح کے حادثات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
اس کے علاوہ سڑکوں پر ہو رہے حادثات پر بھی حکومت کو توجہ دینی چاہیے کہ آئے دن ناگہانی حادثات رونما ہوتے ہیں۔ لوگ گھروں سے نکلتے ہیں مگر غلط ڈرائیونگ اور بے مقصد اور ادھورے قوانین کی نظر ہو جاتے ہیں۔ انسانی موت بہت ہی سستی اور بے معنیٰ سی چیز بن کر رہ گئی ہے۔ لوگ مر جاتے ہیں مگر کوئی پرسان حال نہیں ہوتا بس اتنا کہہ دیا جاتا ہے کہ اس کی زندگی ہی اتنی تھی۔
قوانین کو درست کرنے کی بجائے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بجائے تقدیر کو ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حادثات کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں۔
اس لیے کہ ہم اپنی زندگی کی قدر و قیمت سے واقف ہی نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہمیشہ ڈرائیونگ کے دوران لاپرواہی کرتے ہیں اور سارا الزام ہم قوانین میں عدم دلچسپی کو قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ حادثات کے اسباب اور بھی بہت سے ہیں۔
مثلاً سڑکوں پر ٹریفک کا زیادہ ہونا اور لوگوں کا کم سے کم وقت میں اپنی منزل پر پہنچنا۔چوں کہ ٹریفک کے زیادہ ہونے سے راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور لوگ کسی نہ کسی طرح راستے بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔
گاڑیوں کو جلد سے جلد نکالنے کی کوشش کرنا بھی حادثات کا باعث بن جاتا ہے اس دھکم پیل اور رش میں بسا اوقات پیدل چلنے والے بھی کچلے جاتے ہیں۔جب رش ہوتا ہے تو قوانین دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو لڑائی جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ جب گاڑیاں پھنس جاتی ہیں تو ڈرائیور ہارن بجانا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔
یہ درست ہے کہ لوگوں کو کئی اسباب سے جلدی ہوتی ہے مگر زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ حادثات کا ایک اہم سبب کم عمری بھی ہے۔ کم عمر ڈرائیور نہ پختہ اور پر جوش ہوتا ہے۔اس لئے وہ تیز رفتاری اور کراسنگ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا جس کے نتیجے میں وہ سامنے سے آنے والی گاڑی سے یا کسی بھی چیز سے ٹکرا جاتا ہے۔
ڈرائیوری کے لیے ضروری ہے کہ اعصاب پر کنٹرول ہو اور جذبات بھی قابو میں ہوں۔ کم عمر ڈرائیور ہمیشہ بے احتیاطی سے کام لیتا ہے۔ وہ موبائل یا ارد گرد نظر بازی میں مصروف رہتا ہے جس کی وجہ سے گاڑی پر سے کنڑول کھو بیٹھتا ہے۔
ڈرائیور بے خوابی کی وجہ سے بھی گاڑی پر کنٹرول نہیں رکھ سکتا اور یوں حادثات رونما ہوتے ہیں راتوں کو جاگنا اور پھر دور دراز کے سفر پر گاڑی لے جانا حادثات کا باعث بنتا ہے ایسے ڈرائیور نہ صرف اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں بلکہ اور بھی بہت سے گھرانوں کے چراغ گل کر دیتے ہیں۔ بے خوابی کا شکار ڈرائیور تیز رفتاری کا بھی مظاہرہ کرتے ہیں ایسے تیز رفتار ڈرائیور بسا اوقات فٹ پاتھ یا سڑک کنارے کھڑے لوگوں کو بھی کچل دیتے ہیں
آئے دن کے ان حادثات پر غور کرنا چاہیے اور انسانی جانوں کو بھی بچانا چاہیے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ٹریفک جام نہ ہو کوئی ایسا بندو بست کرنا چاہیے کہ ٹریفک مسلسل چلتی رہے تاکہ تمام لوگ اطمینان سے اپنی اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔