تقریر و تحریر کی غیر معمولی اثر پذیری

Spread the love

تقریر و تحریر کی غیر معمولی اثر پذیری

تقریر اور تحریر اظہارِ ما فی الضمیر، ظہور جذبات واحساسات، انتقال خیالات و آراء، اور انسانی باہمی روابط و ضوابط کا سب سے عمدہ، بہترین اور مؤثر ترین واسطہ اور وسیلہ ہے۔

تقریر و تحریر کی غیر معمولی اثر پذیری اور اثر و رسوخ کی وجہ سے تاریخ عالم میں حیرت انگیز واقعات و حادثات وقوع پذیر ہوئے ہیں عالم گیر انقلابات اور عجیب وغریب تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ شعلہ فشاں اور سحر انگیز تقریر میدان جنگ میں جذبات کو برانگیختہ کردیتی ہے اور سپاہیوں کو جوش و خروش سے بھر دیتی ہے، جس سے فتح کا پرچم بلند ہو جاتا ہے۔

تقریر کی جادو بیانی قلوب و اذہان کو مسخر کرلیتی ہے زنگ آلود دلوں کو صیقل کرکے مثل آئینہ شفاف اور چمکدار بنا دیتی ہے۔ پتھر دلوں کو پگھلا کر موم بنا دیتی ہے۔

مگر فن تقریر و خطابت کوئی آسان فن نہیں، خطابت پر عبور و دسترس حاصل کرنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔

تقریر کا ملکہ حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے ماہر زبان و ادب اور فن خطابت کی نزاکتوں ، باریکیوں اور جملہ اصول و ضوابط سے آگاہی و واقفیت لازمی ہے، ورنہ ایک کامیاب اور باکمال و بااثر خطیب و مقرر بننا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ دنیا میں بےشمار خطبا، واعظین و مقررین جہان خطابت میں جلوہ گر ہوتے ہیں، مگر ان میں سے چند خطبا و واعظین ہی آسمان خطابت میں شمس و قمر بن کر اپنی ضیاء بار کرنوں سے عالم انسانیت کو منور و مجلی کرتے ہیں۔

ہم اور آپ مختلف واعظین و مقررین کی تقاریر سماعت کرکے بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ بعض خطبا و مقررین گھنٹوں تقریر کرکے بھی منجمد قلوب و اذہان کو متحرک نہیں کرپاتے، ہزاروں تقاریر سے بھی اقوام و ملک کو علم وعمل کے لیے بیدار نہیں کرپاتے، بنجر دلوں کی زمینوں پر اصلاح و نیکی کی فصل اگانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے،

 

مگر فن خطابت کے اسرار و رموز اور نشیب و فراز سے واقف واعظین و مقررین اپنی شیریں بیانی اور سحر طرازی سے قلوب و اذہان کی بنجر و سنگلاخ زمینوں کو زرخیز و لالہ زار بنا دیتے ہیں، اپنی لاجواب تقریری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خواب غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار و متنبہ کرکے انقلاب برپا کر دیتے ہیں، افکار و نظریات کا قبلہ بدل دیتے ہیں، مغلوب کو غالب اور مفتوح کو فاتح بنا دیا کرتے ہیں۔

اگر ہمیں فن خطابت کی عظمتوں کا کما حقہ اندازہ ہو جائے تو ہم اس کی برکتوں سے زوال زدہ قوم مسلم کو پستیوں سے بلندیوں پر اور بلندیوں سے اوج ثریا پر پہنچا سکتے ہیں، شکست وریخت کی غمگین و اداس تاریک وادیوں سے نکال کر فتح و نصرت اور ظفر و کامرانی کی روشن و تابناک باغات میں متمکن کرسکتے ہیں۔

قارئینِ کرام !

اب تک میری گفتگو تقریر کے دائرے میں محو گردش تھی، مگر اب تحریر کو اپنی گفتگو کا محور بناتا ہوں، اور تحریر کے متعلق یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ در حقیقت تحریر تقریر سے زیادہ دیرپا، بااثر، مؤثر، دل کش اور دل پذیر ہوتی ہے، بشرطیکہ تحریر اعلیٰ درجے کا ادبی شہ پارہ بن جائے، اسلوب بیان، طرزِ تحریر، انداز بیاں، فکر و نظر کا انوکھا پن، الفاظ و معانی کا پرکیف نظارہ، اصطلاحات و محاورات اور ضرب الامثال کا برمحل پرکشش استعمال، بندشوں اور تراکیب کا اچھوتا پن تحریر کی زیب و زینت بن جائے، تو ایسی تحریر دلوں کو پگھلا کر موم بنا دیتی ہے

ایسی تحریر پڑھ کر جذبات واحساسات کے تار جھنجھنا اٹھتے ہیں۔ ایسی تحریریں بہت زیادہ بااثر ہوتی ہیں، ذہن سازی میں انتہائی اہم ترین کردار ادا کرتی ہیں۔ ایسی تحریریں اقوام و ملل کی تقدیریں بدل کر رکھ دیتی ہیں۔

قارئینِ کرام

تحریر ہو یا تقریر ان دونوں میں مہارت تامہ اور کامل عبور و ملکہ حاصل کرنے کے لئے کثرتِ مطالعہ ، مشقِ مسلسل، محنت شاقہ، ماہر و مشاق ماہرِین فن اساتذہ کی خصوصی توجہ و نگرانی اور رہنمائی کی سخت ضرورت ہے، اس کے بغیر تحریر و تقریر کے فیلڈ میں قدم رکھنا سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں۔

از قلم

محمد افتخار حسین رضوی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *