کامرشیلائزڈ ہوتے مزارات

Spread the love

تحریر: مشتاق نوری کامرشیلائزڈ ہوتے مزارات

کامرشیلائزڈ ہوتے مزارات

مزار ایک پاک و مبارک لفظ ہے کہ سنتے بولتے ہی عقیدت کی جبینیں جھک جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اہل ادب و عشق نے حضور ﷺ کی تربت کو قبر کہنے سے منع کیا ہے۔امام مالک کا ایک قول پڑھا جس میں مزار رسول کو قبر کہنا خلاف ادب قرار دیا ہے۔اس لیے اس کا بے جا و ناموزوں استعمال اس کی قدر و قیمت کے مغائر ہے۔

گلیم بوزر، دلق اویس بیچ کھانے والی دنیا میں صاحب مزار ہونا کوئی مجد و کرامت نہیں ہے۔بلکہ بافیض ہونا، فیض رسا ہونا شرف و عطا کی بات ہے۔

جن مقدس ہستیوں کے مزار بنے خدا ان پر رحمت کرے۔مرجع خلائق رکھے۔

جو واقعۃ اہل اللہ سے تھے ان کا مزار بننا برکات کشیدی کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ اس معاملے میں عوامی میلانات و رجحانات کو دین میں در اندازی کرتے دیکھ کر سکوت اختیار کیا جانا شریعت کی بڑی اندیکھی ہے۔

بعض دفعہ تو کافی مزار اس لیے بن گئے کہ کسی عالم نے روکا ٹوکا نہیں۔۲۰۱۶ میں مظفر پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں جانا ہوا۔لوگ نماز پر اقامت و روزہ پر مواظبت کریں نہ کریں لیکن مزار پہ حاضری کو ضروری مانتے ہیں۔

میں نے دیکھا وہاں پیپل کے بڑے پیڑ کے نیچے قبر بنی ہوئی ہے اس پر چادر بھی چڑھا رکھی ہے۔ہر جمعرات کو پورے گاؤں والے شیرنی مٹھائی لے کر فاتحہ کراتے ہیں منتیں مانگتے ہیں۔

پوچھنے پر بتایا کہ ایک ملنگ بابا کبھی کبھار ادھر سے گزرتے تھے تو اسی پیڑ کے نیچے آرام کرتے تھے۔اسی لیے مزار بنا دیا گیا ہے۔ستم دیکھیے کہ وہاں سے لگ بھگ ۴۰؍کیلو میٹر کی دوری پر شیوہر ضلع میں ایک مندر ہے جسے ملنگ بابا کا مندر کہا جاتا ہے اس کی بھی ٹھیک یہی کہانی ہے۔یہاں بھی پیپل کا پیڑ سلامت ہے۔

آپ اندازہ لگا لیں کہ قبر پرستی میں ہماری عوام کس حد تک جا پہنچی ہے۔گاؤں کے امام صاحب اس لیے کچھ نہیں بولتے کہ ایک تو نوکری کا خطرہ ہے دوسرا چراغی (فاتحہ کرنے پر بطور نذرانہ دی جانی والی رقم) میں چار پانچ سو آجاتے ہیں۔

وہ اہل ہوا و ہوس تھے جو اپنے مزار تعمیر کرانے کی مانگ کر جاتے تھے شاید انہیں اپنے عیال کی پرورش کے لیے یہ آسان راہ لگتا تھا۔ یا پھر اولاد و اخلاف نے قبر کو مزار بنا کر کمائی کا گورکھ دھندہ شروع کیا ہوتا ہے۔

آج کے حالات میں مزار کا مطلب صرف پیسہ۔آپ بے روزگار ہیں کہیں ایک عدد مزار لے کر بیٹھ جائیں پھر سارے بے روز گار آپ کے پاس گنڈے لکھوانے، برکت کی دعا کروانے آنے لگیں گے۔

ڈٓاکٹر اقبال کے لفظوں میں

بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو

کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے۔

میری دانست میں ماضی قریب کے دو ایسے بزرگ گزرے ایک ماہر رضویات پروفیسر مسعود احمد ( کراچی، پاکستان) اور دوسرے علامہ شبنم کمالی ( سیتامڑھی، انڈیا) جنہوں نے زندگی میں ہی وصیت کر دی تھی کہ میری قبر پہ نہ میلہ لگایا جاۓ نہ عرس سجایا جاۓ۔(نور اللہ مرقدھما)۔دونوں نابغۂ روزگار تھے۔

اول الذکر نے رضویات پر رکارڈ کام کیے ہیں۔ثانی الذکر کی خدا رخی زندگی کا تو میں عینی شاہد ہوں۔ایسے لوگ جو مزار یا عرس کو منع کر دیں اصل میں یہ لوگ مزار و عرس کے نام پر ہو رہے خرافات و خلاف شرع افعال سے زندگی میں اوب چکے ہوتے ہیں اس لیے بعد ممات خود کو ان جھمیلوں سے بچانا زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ایسے لوگ خال خال ہی ملتے ہیں۔

ادھر پچھلی آدھی صدی سے سماج میں دانستہ یا غیر دانستہ اس رجحان کو فروغ دیا گیا کہ کسی بڑی شخصیت کا مزار ہونا ضروری ہے۔کسی خانقاہ و درگاہ کے کسی بھی فرد کا انتقال ہوگیا چلو پہلے مزار تعمیر کریں۔مزار کے نقش و نگار میں دو دو کروڑ تک خرچ کیے جا رہے ہیں۔یہ سب غریب مریدوں کے ہی پیسے ہوتے ہیں۔

آج جس رفتار سے مزارات بننے بنانے کا عمل جاری ہے اگر اس پر قدغن نہ لگایا گیا تو اگلے تین دہائی بعد ایک بھولے بھالے شخص کو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاے گا کہ دس کیلو میٹر کے اندر کتنے مزار بنے، کس پر چادر ڈالے، کہاں منت مانے، کس کو وسیلہ جانے۔

سادہ سی بات ہے کہ جب بھی کسی چیز کی کثرت ہو جاتی ہے تو اس کی ناقدری بھی شروع ہوجاتی ہے۔منطقی نتیجہ یہ نکلے گا یہ سلوک مزاروں کے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔

اور مزارات سازی کا دراز ہوتا تسلسل اہل سنت کے حق میں کبھی رہا ہی نہیں۔مزار بنانے اور اس پر خلاف دین افعال لوگ کرتے ہیں اور مخالفین سارا الزام اعلی حضرت پر ڈال دیتے ہیں۔

مزار بنانے کا یہ عمل جب سے تجارت سے جڑ گیا ہے روز ہندوستان میں کہیں نہ کہیں مزار بن رہا ہوتا ہے۔یہ مزار و درگاہ ہینڈل کرنے والے لوگ بھی بڑے عیار ہوتے ہیں بھیڑ جٹانے کے لیے کئی طرح کی غیر شرعی حرکتوں کو دینی ضرورت سمجھ کر بطور حربہ استعمال کرتے ہیں۔

میں نے مظفر پور ویشالی کی طرف دیکھا کوئی مر گیا ان کا عرس منانا ہے تو پہلی فرصت میں بڑے چھوٹے دو تین درجن نعت خوانوں کو ہائر کرتے ہیں۔نذرانے کا موٹا لفافہ، درمیان منقبت خوانی دس دس کے نوٹوں کا اڑایا جانا اس پر مستزاد۔

انداز بالکل وہی پرانا جیسے پہلے نوابوں کی حویلیوں پر مجرا کرتیں رقاصاؤں، طوائفوںپر لٹایا جاتا تھا۔مرنے والے کے متعلق ایک سطر نہ پڑھا نہ کوئی دید شنید رہی۔صورت دیکھی نہیں مگر چاند شرماۓ،چہرہ نورانی، تارے روشنی مانگے،شکیل و وجیہ جیسے ردیف و قافیے برتے جا رہے ہیں۔

سیرت سے بالکل بے خبر ہے پھر بھی کبھی اویس قرنی کے قبیلے سے رشتہ جوڑ دیتے ہیں کبھی بلال کے گھرانے سے۔ ایسی ایسی ہائی اسکور والی منقبت پڑھ جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔رہی سہی کسر کراۓ کے خطبا جھوٹی کرامتیں بیان کر کے پوری کر دیتے ہیں۔

غالبا ۲۰۱۴ میں ایک عرس میں مجھے بھی دعوت تھی ایک شاعر، صاحب مزار پر کلام پڑھ رہے تھے جس کی ردیف تھی “شاہ خوباں”۔اس ردیف کی بار بار تکرار سے اور اس کے مرجع سے میں پریشان ہو گیا۔

یہ اتنا جامع ردیف ہے کہ میری نظر میں سواۓ رسول ﷺ کی ذات کے کسی اور پر فٹ نہیں کیا جا سکتا۔اور طرفہ تماشا تو یہ کہ وہ ایسے شخص پر فٹ کر رہا تھا جسے (راوی کے بقول) سورہ فاتحہ بھی درست پڑھنا نہیں آتا تھا۔ایک منشی ٹائپ تھے۔

بہار بھر میں ۹۰ فیصد مزار ایسے لوگوں کے ہیں جن کی تاریخی حیثیت پر سوال کھڑے ہیں۔ اگر کسی کی تاریخ مل بھی جاۓ تو ان کے اوصاف و خصائل اس پاۓ کے نہیں تھے کہ انہیں جنید و شبلی، بایزید و سرمد کی صف میں بٹھا دیا جاۓ۔تحقیق کی نظر سے دیکھیں، یا تو منشی تھے یا پھر پنج وقتی نماز پڑھ لیتے تھے۔

گاؤں گھر کے میلاد خواں تھے۔کوئی جھاڑ پھونک والے تھے یا کوئی سفلی باز تھے۔حلال و حرام کا علم تو انہیں تھا ہی نہیں۔آپ خود دیکھ لیں علما کے کتنے مزار بنے؟کیا اتنے دنوں میں دو چار بھی خدا والے عالم کی رحلت نہیں ہوئی؟

آخر علما ربانئین کے مزار نہ بننے دینا کس سازش کا حصہ ہے؟پچھلے سال اپنے ہی علاقے کے ایک مفتی صاحب کے عرس میں جانا ہوا تو میں نے وہاں بھی یہ بات کہی تھی کہ مزار بننا اہم نہیں مگر کسی عالم دین کا مزار ہونا بہت اہم ہے۔

میں علماے سیمانچل کی بارگاہ میں پانچ پوائنٹس رکھتا ہوں اگر ان پر ۵۰ فیصد بھی عمل و اقدام کر لیا جاۓ تو اگلے دس سال میں بہتر نتائج کے آثار نمودار ہو سکتے ہیں۔سیمانچل کی خیر خواہی کی طرف پیش قدمی کا یہ پانچ اساسی حلف نامہ۔

(۱)رد بدعات و منکرات کے باب میں اعلی حضرت فاضل بریلوی کے اقوال و فتاوی کو سلسلہ بند طریقے سے ہفتہ وار پروگرام کے ذریعے عام کیا جائے ۔ائمہ مساجد خطیبانہ لاگ لپیٹ سے گریز کرتے ہوۓ قبر و مزار سے متعلق سہل انداز میں مسائل بیان کریں۔

 اصلاحِ معاشرہ میں امام احمد رضاکا کردار

(۲) جلسوں کی تعداد کم کی جاۓ اور ان میں پیران کرام کی شرکت کو غیر ضروری قرار دیا جاۓ۔جیسا کہ آج ہمارے علاقے میں ہر جلسے میں ایسا ہو رہا ہے کہیں کہیں تو دو دو تین تین خانقاہوں کے پیر بھی دیکھے جاتے ہیں۔مجھے دقت پیروں کی آمد سے نہیں، عوام کی جیب پر بار پڑنے سے ہے۔

(۳)باہر کے مہنگے خطبا و شعرا کا آنا بند کیا جاۓ۔اپنے ہی علاقے کے علما و دانشوران سے جلسے کراۓ جائیں۔

(۴) فرضی جعلی مزارات کو نشان زد کر کے ان کے خلاف انہدامی و تاراجی تحریک چھیڑی جائے ۔

(۵)جلسوں کے پیسوں سے اپنے اپنے مدارس و مکاتب اور اداروں میں سال میں کم از کم دو ترغیبی مسابقاتی پروگرام رکھے جائیں۔ان میں ملنے والے اعزازات و انعامات سے بچوں کا انہماک و طلب بھی فزوں ہوگا اور والدین بھی اپنے قلب و دماغ جلسہ و عرس سے ہٹاکر مدرسہ کی خیر خواہی کی طرف متوجہ کر پائیں گے۔

پانچوں پر جنگی پیمانے پر ایمان دارانہ طریقے سے کام کیا جاۓ تو کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ان جلسوں و عرسوں کا نقشہ ہم آپ جیسے علما ہی تیار کرتے ہیں کوئی سوٹ بوٹ والا نہیں کرتا۔اس لیے جلسے کا بجٹ اور مدعوین اپنے حساب سے طے کیے جاسکتے ہیں۔ بدلاؤ کے لیے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔

ڈاکٹر اقبال نے بڑے ہی بجھے اور جلے دل سے کہا ہوگا

رمز و ايما اس زمانے کے ليے موزوں نہيں

اور آتا بھي نہيں مجھ کو سخن سازي کا فن

‘قم باذن اللہ’ کہہ سکتے تھے جو ، رخصت ہوئے

خانقاہوں ميں مجاور رہ گئے يا گورکن

تحریرـ  مشتاق نوری