نوٹ بندی اور نیٹ بندی کا تلخ تجربہ

Spread the love

از : مشتاق نوری نوٹ بندی اور نیٹ بندی کا تلخ تجربہ نوٹ

بندی(Demonetization)ملک کے لیے کسی عذاب سے کم تو نہیں تھا۔سرکار نے اس کے بڑے فائدے گنواۓ تھے مگر ثابت ہو چکا ہے کہ نوٹ بندی سے بجاۓ فائدہ کے دیش کو نقصان اور شہریوں کو دقتیں زیادہ ہوئیں۔

حکومت نے نوٹ بندی کے جواز میں عوام کو جو سبزباغ دکھاۓ تھے وہ سب ببول کی جھاڑیاں ثابت ہوۓ۔کہیں نہ کہیں اس کے ذریعے سرکار نہرو کے بخار سے باہر نکلنا چاہتی تھی۔ اپنے رنگ و روغن کے نوٹ متعارف کروانا مقصد تھا سو کیا بھی۔یہ اکثریتی طبقہ مانے یا نہ مانے یہی سچ ہے۔ نیٹ بندی بھی کوئی معمولی عمل نہیں ہے۔یہ اقدام ریاستیں تب کرتی ہیں جب لا اینڈ آرڈر ہارمنی مینٹین کرنا مقصد ہو۔

کسی انہونی سے نپٹنے کا ارادہ ہو۔مگر آج کل یہ عوامی احتجاج و جلوس کو زیرو دکھانے، اسے سیاسی طاقت سے کچلنے کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا ہے۔نیٹ بند کرنے کا مطلب ہے آپ کو دوسرے سے لاتعلق کر دینا۔یہ ایسا حربہ ہے جسے سرکاریں اپنے فائدے کے لیے آزماتی رہتی ہیں۔

نیٹ کے بنا یہ سونے سونے فونس، یہ ٹیبس، یہ لیپ ٹاپس، یہ کمپیوٹرز کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔نیٹ کے بغیر یہ سب اس ابھاگن عورت جیسے لگتے ہیں جو شب زفاف کو ہی بیوہ ہو گئی ہو۔نیٹ کا بہاو ہواؤں میں تیرتے انرجیٹک ریڈیشن کے ساتھ بندھا ہوتا ہے۔نیٹ بند کرنے کا مطلب، اس کے پرستاروں پر ایئر اسٹرائک کرنے جیسا معاملہ ہے۔ جس طرح انسان قومہ(Coma)میں چلا جاتا ہے تو دنیا کے اتار چڑھاؤ سے یکسر اس کا رشتہ منقطع ہو جاتا ہے۔زندگی رک سی جاتی ہے۔مریض زندہ تو ہوتا ہے مگر موت جیسی زندگی ہوتی ہے۔

 

اسے دوسرے لفظوں میں یہ کہ لیں کہ قومہ ایک ایسا اٹیک ہے جو موت تو نہیں ہے مگر موت سے کم بھی نہیں ہے یہ سچوئیشن بہت ہی خطرناک ہوتی ہے۔ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اب اسے دوا کی نہیں دعا کی ضرورت ہے۔واپس آگیا تو زہے نصیب، ورنہ اسی میں چلا جاۓ گا۔ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف ملک بھر میں جو احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ان کے اثرات کو روکنے کے لیے بہار کی حکومت نے ۱۵ اضلاع میں تین روز کے لیے(۱۸،۱۹،۲۰ جون)

نیٹ سروس کو مکمل طور پر لاک کر دیا تھا۔مجھ جیسے موبائل کے رسیا لوگوں کے لیے یہ کسی حراست و نظر بندی کی سزا سے کم نہیں۔ان تین دنوں میں پندرہ ہزار کا موبائل فون ہاتھ میں ہونے کے باوجود ایک ڈبہ سے زیادہ کچھ نہیں لگ رہا تھا۔لوگوں کے مہنگے مہنگے آئی فونس بھی پڑے پڑے بیکار دکھ رہے تھے۔یہ اسی قومہ کا نتیجہ تھا۔

ہینڈ سیٹ کے اس سہ روزہ قومے نے کتنے لوگوں کو بے چین کر کے چھوڑ دیا۔ یہ ذاتی تجربے و گہرے مشاہدے کی بات ہے کہ جب انسان کسی چیز سے گہری انسیت و اپنائیت پیدا کر لیتا ہے۔ اسے اپنی عادت میں جگہ دے دیتا ہے تو اس کی غیبوبت و خاتمہ اس کے لیے سوہان روح جیسا معاملہ بن جاتا ہے۔ملک میں تھری جی، فور جی لانچ ہوۓ زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا

یہی کوئی ایک عشرے پر محیط وقفہ گزرا ہو مگر لوگوں نے اس شدت سے نیٹ کے ساتھ اپنی وابستگی درج کروائی ہے کہ ایک رپورٹ کے تخمینی اعداد و شمار کے مطابق صرف امبانی کے جیو کے بچت کھاتے میں ہر ماہ تقریبا ۱۲ سے ۱۵ ہزار کروڑ شوق سے ڈالتے ہیں۔ملک کے نوجوان بے روزگاری میں بھی نیٹ پیک وفاداری سے ری چارج کروا لیتے ہیں۔جہاں جہاں نیٹ بند رہا وہاں بے روزگار بیٹھے نوجوانوں سے اس درد کی توضیح و تشریح پوچھ کر دیکھ لیں ان کے اندر کی کسک کھل کے باہر آجاۓ گی۔

میرے گاوں میں ۲۰۱۶ کے بعد بجلی آئی۔اتنے کم عرصے میں لوگ بجلی سے اس قدر جڑے کہ اب تھوڑی دیر کے لیے بجلی رانی چلی جاۓ تو سب آہ اوہ کرنے لگتے ہیں۔بنا پنکھے کے کوئی رہ نہیں سکتا۔ پانچ سات سال پہلے وہی مٹی کے دیے جلاۓ جاتے تھے۔کانچ یا ٹین کی بوتل کے وہی دھواں دار چراغ جلتے تھے۔

بہت کم گھروں میں لالٹین یا لیمپ کا انتظام ہوتا تھا۔تب سب ٹھیک ٹھاک ہی تھا۔چراغوں کی وہ ہلکی مدھم سی روشنی میں بھی اپنا گزارا مست ہو رہا تھا۔مگر آج چراغوں کی کم روشنی میں لوگ ڈر جاتے ہیں۔ دو چار چراغ جلانے کے بعد بھی تیرگی کا خوف ستا رہا ہوتا ہے۔اس بجلی نے ہمیں اجالوں سے اس طرح مانوس کر دیا کہ اب چراغوں کی روشنی بہت ناکافی لگتی ہے۔

کل بعد عصر گیسو تراشی کے لیے میں ایک ماڈرن سیلون پہنچا۔خیال تھا کہ ذرا اس گرمی میں اے سی کا لطف اٹھایا جاۓ۔ وہاں پہلے سے کچھ ہندو نوجوان اپنے اپنے فونس لیے نیٹ بندی سے اکتاۓ غصاۓ بیتھے تھے۔ایک نے تو نتیش کمار کو ہی گالی دینا شروع کر دیا۔اگر ان کا غصہ جائز ٹھہرا بھی لیا جاۓ تو ایک سوال بہر حال بنتا ہے کہ یہ تین روز کی نیٹ بندی سے بے حال ہیں اگر سرکار وہی سلوک دوسرے لوگوں کے ساتھ روا رکھے تو یہ خوشی کیسے مناتے ہیں؟۔

جس طرح نیٹ سروس ڈسٹرب ہونے سے ہمیں کئی طرح کی دقتیں لاحق ہیں۔اب دیکھیے نا آج بجلی جانے پر چراغ تلاشنے کی نوبت آتی ہے تو تاریک ساۓ خوفناک سے لگتے ہیں۔گھر کی خواتین چراغ تلاشنے سے پہلے بجلی محکمے کو ضرور کوستی ہے۔کم و بیش یہ ہر گھر کی دقت ہے یہ معاملہ دوسرے کے ساتھ بھی ٹھیک ویسا ہی ہے خواہ وہ کسی اجڑے صوبے کے باشندے ہوں یا جنت نشان کشمیر کے۔

جب ہم تین روزہ نیٹ بندی سے پریشان ہیں تو ان کشمیری عوام پر کیا بیتی ہوگی جب نیٹ بندی کا عرصہ کافی طویل ہوگیا ہوگا۔یہاں تک کہ لینڈ لائن سروس بھی ڈسٹرب کر دیا گیا تھا۔آج جب خود پر گزری ہے تو چیخ پڑے ہیں۔ پھر بھی دوسرے کے درد کا احساس کچھ نہ کچھ ہونا ہی چاہیے۔

ہم تین دن جھیل نہیں پاۓ وہ سال بھر سے زیادہ جھیل گئے۔پھر اس زخم پر نمک پاشی کے لیے حکومت نے ایک سیاسی مولوی صاحب کو جنیوا میں کھڑا کر دیا کہ بھئی دنیا کو بتاؤ کہ کشمیر میں حقوق انسانی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔وہاں سب ٹھیک ٹھاک ہے۔سوچیے! تب کشمیر والوں پر کیا بیتی ہوگی؟۔

مشتاق نوری

2 thoughts on “نوٹ بندی اور نیٹ بندی کا تلخ تجربہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *