ناموس رسالت کی پہرے داری یا سودے بازی
از قلم : مشتاق نوری :: ناموس رسالت کی پہرے داری یا سودے بازی؟
ناموس رسالت کی پہرے داری یا سودے بازی
لا نبی بعدی زاحسانِ خدا است
پردۂ ناموسِ دینِ مصطفیﷺ است
علامہ اقبال کا یہ شعر ایمانی غیرت و حمیت کو جلا دینے کے لیے آج بھی تازہ دم ہے۔
خیر سے دیر سے ہی سہی،یہ امت ایک رسول کے نام پر متحد نظر آتی ہے۔اس پرہول ماحول میں قومی اقبال مندی کی بحالی کا یہی ایک راستہ بچا ہے۔یہ الگ بات کہ طاغوتی طاقتیں ایسا ہونے ہی نہیں دیں گی۔
کیوں کہ اس امت کا اتحاد اتنا پاورفل ہے کہ زمانے کی فرعونی ریاستوں کو ہضم ہونا مشکل ہو جاۓ گا۔انہیں خوف ہے کہ سر عام ان کے غرور و تکبر کے تاج نوچ لیے جائیں گے۔
گستاخئ رسالت مآبﷺ پر اس وقت خلیجی ممالک سے جو ری ایکشنز آۓ ہیں اس سے ملت کی بیمار پڑی رگوں میں اتحاد امت کا گرم لہو ضرور بہ پڑا ہوگا۔ مسرت ہوئی ہوگی۔
قطر،بحرین، عمان، ایران،مصر و سعودیہ کے ساتھ افغانستان، ترکی و پاکستان جیسے ممالک نے غیرت دینی کا مظاہرہ کر کے رسول کے ناموس کی پہرے داری مہم کی سربراہی کی ہے۔
آج سنگھی مودی حکومت پر جو اس قدر دباو دیکھا جا رہا ہے یہ ملت کی اسی متحدہ غیرت کے اظہار کا اثر ہے۔اگر یہ جوش و جذبۂ دینی سرد پڑنے سے بچا لیا گیا، مزید اسے صیقل کیا جاتا رہا تو علامہ کے لفظوں میں۔
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش اور ظلمت رات کی، سیماب پا ہو جاۓ گی پھر دلوں کو یاد آ جاۓ گا پیغام سجود پھر جبیں، خاک حرم سے آشنا ہو جاۓ گی
مگر بھاجپا بھی بہت شاطر اور عیار ہے۔اس کے وزرا و زمہ داران نے پہلے نوپُر شرما جیسی گندی عورت کا سپورٹ کیا۔
جیسے ہی مسلم ممالک نے حقہ پانی بند کرنے کا اعلان کیا فورا ہی اس نے لیٹر پیڈ پہ یہ جاری کر دیا کہ کسی دھرم کے خلاف بیان بازی شرارتی عناصر(fringe elements)کا کام ہے بی جے پی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔جب کہ اس نے ایک دھرم کےفالوورس کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس نے دنیا کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والی قوم کے جان سے پیارے پیغمبر کی کھلی توہین کی ہے۔اس کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے۔کیا یہ یو اے پی اے، این ایس اے جیسے قانون صرف مسلمانوں کے لیے بناۓ گیے ہیں؟۔
یہ صرف معطلی کا لیٹر اشو کرنا اقوام عالم کی نظر میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
اور ہم بھی کتنے ہلکے نکلے کہ اس عورت کو بی جے پی نے صرف چھ سال کے لیے برطرف کیا ہے۔ان چھ سالوں کے اندر اسے کبھی بھی پارٹی میں لیا جا سکتا ہے۔پارٹی نے کوئی قومی یا عالمی فورم پر کسی اہم دستاویز پر حلفیہ دستخط تو نہیں کیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گی۔ویسے بھی وہ ہمارے مسئلہ میں محض سیاست کر رہی ہے۔
اس لیے صرف برطرفی پر خوش فہمیاں پال لینا حماقت ہوگی۔جب تک گستاخوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا معاملے کو خوش فہمی کے ٹھنڈے ٹاٹ میں لپیٹ کر سو جانا دور اندیشانہ حکمت کے خلاف عمل ہوگا۔اس وقت ہماری اولیت اس عورت کی گرفتاری ہونی چاہیے۔
عالمی سطح پر، خاص کر گلف ملکوں میں اس وقت بی جے پی کی امیج بہت خراب ہے۔مودی کو وارن کرتے ہوۓ جس طرح کا “الا رسول اللہ” کا ٹرینڈ چلایا گیا اس سے سارے نفرتی چنٹؤوں کو مودی کی اوقات سمجھ میں آ گئی ہے۔
ایسے میں مودی حکومت کے گُرگے پھر کسی ایسے مسلم نام والے چہرے کی تلاش میں لگ گئے ہوں گے جو عالمی فورمز پر حکومت کے دوغلے رویہ کی تعریف کرے، اس کی جانبداری کو غیر جاندار گردانے، ملک میں مسلمانوں کو محفوظ و مامون بتاۓ۔
ٹھیک ویسے ہی جیسے اس سے پہلے حکومت کے ایک زر خرید لونڈے نے جینیوا میں طویل کریک ڈاؤن کا عذاب جھیل رہے کشمیریوں کو محفوظ و مامون بتایا تھا۔اس وقت کشمیر کا مسئلہ تھا تو برداشت کر لیا گیا مگر آج اہانت رسالت و توہین امہات کا مسئلہ درپیش ہے ایسے میں حکومت کے اشارے پر مجرا کرنے والے کسی بھی داڑھی ٹوپی والے دلال کو ملت معاف نہیں کرے گی۔
یہ واضح رہے کہ کل ہی محمود مدنی نے ایک ٹی وی چینل پر حکومت کا شکرانہ بجا لاتے ہوئے تعریف کی ہے کہ بی جے پی نے ایک ذمہ دار پارٹی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
آخر کوئی ان سے پوچھے کون سی ذمہ داری؟
دس روز تک دنیا بھر کے مسلمان بے چین رہے، احتجاج کرتے رہے، کان پور میں مسلم سماج کو ہی لپیٹے میں لے لیا گیا تاہم حکومت نے نہ آئین کا فرض نبھایا نہ راج دھرم کا حلف یاد آیا۔
جب خلیجی ملکوں میں اڈانی امبانی کے پروڈکٹس پر بائکاٹ کے ٹھپےِ لگے تب چالاکی دکھاتے ہوۓ برطرفی کا اعلان لے کر آ گئی۔
ملک کے ان دو بڑے تاجروں کے دباو نے ہی بی جے پی کو اوندھے منہ گرنے پہ مجبور کیا ہے۔ورنہ اس کی تو روٹی ہی اسی سے چلتی ہے۔رسول کے ناموس پر بات آۓ اور کسی کو مفاد پرستانہ سیاست سوجھے تو اس سے بڑی بے توفیقی اور کیا ہوگی۔اس بندے سے مجھے پھر دڑ ہے کہیں سودے بازی کا کھیل نہ کھیل لیا جاۓ۔
یہ اتنا سنگین اور دل سوز مسئلہ تھا تب بھی ہمارے درگاہی خانقاہی حلقوں میں کوئی بازگشت سنائی نہ دی۔
اتنے بڑے بڑے نامور درگاہوں کے سجادہ نشین و ولی عہد اس مسئلہ پر جون کی تپا دینے عالی گرمی میں بھی مصلحت کا لحاف اوڑھے سوۓ رہے۔وہ لوگ جو رسول سے وفا داری کا ڈنکا پیٹنے کو تجارت سے جوڑ دیے ہیں خاموش رہے۔
اکا دکا کسی نے کچھ کیا بھی تو وہ اتنا غیر موثر رہا کہ گستاخان رسالت کی ذرا ہنسی بھی کم نہ کر پایا تو حکومت کیا نوٹس لیتی۔ا
رباب کلاہ و ریش کی یہ مجرمانہ خاموشی عہد وفادارئ کی سراسر تکذیب ہے۔اینٹی اسلام کے اس دور میں ہم بالواسطہ توہین آمیز ماحول کا حصہ ہیں۔
یاد رہے قدرت کا قانون ہے ناموس رسالت کی سودے بازی مہنگی پڑے گی کسے باشد۔
مشتاق نوری