جامعہ امجدیہ کے تعلق سے صحیح رپورٹ

Spread the love

جامعہ امجدیہ کے تعلق سے صحیح رپورٹ

حضرات گرامی!اس وقت جو اپنے ملک کے حالات ہیں کسی پر مخفی نہیں، ہر طرف ظلم و زیادتی کا طوفان اٹھا ہوا ہے، ہر کوئی مسلمانوں کو زیر اور اپنے تابع کرنا چاہتا ہے

ہمارے مذہبی مراکز مساجد مدارس اور خانقاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر الحمد للہ مسلمان اہل حق ہیں

اور اسلام مذہب حق ہے اللہ رب العزت نے اسے ایسی مقبولیت اور بلندی عطاء فرمائی ہے کہ آج ساری ناپاک فکریں اسے زیر اور بدنام کرنے میں طرح طرح کی سازشیں کر رہی ہیں لیکن جس کا محافظ اللہ کریم ہو اس کون کیا

بگاڑ سکتا ہےنصف النھار سے اب تک سوشل میڈیا پر جامعہ امجدیہ کے تعلق سے کئی طرح کی باتیں سننے میں آئیں خیرہوا کچھ یوں کہ ششماہی امتحان کی تیاری میں طلبۂ جامعہ حضور صدر الشریعہ کے آستانے اور ضیاء ہاسٹل میں اپنے اپنے کمرے میں مصروف مطالعہ تھے جبھی تقریباً صبح میں 11 بجے 25 سے 30 کی تعداد میں پولیس فورس نے بغیر کسی نوٹس و اطلاع کے یعنی اچانک جامعہ میں چھاپا مار دیا ساتھ میں اعلیٰ

ادھیکاری بھی تھے اور ضیاء ہاسٹل کا چینل کھول کر سبھی طلبہ کے کمرے میں داخل ہوکر بد کلامی کرنے لگے اور سب کو بھگانے لگے بھگاتے وقت جملے کچھ یوں تھے :

“چلو نکلو فوراً، تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو، بیگ اٹھاؤ فوراً اسی وقت گھر بھاگو کہیں دکھائی نہ دینا، زیادہ گرمی سوار ہے، زیادہ چربی سوار ہے، زیادہ پڑھاکو بن رہے ہو وغیرہ وغیرہ”اس کے بعد تین چار پولیس والے ویڈیو بنانے لگے اور جس طالب علم کو پکڑتے اس سے

پوچھتے “تمہارا نام کیا ہے، کہاں کے ہو، یہاں کب سے ہو وغیرہ” بالآخر سارے طلبہ کو کمرے سے نکال کر ہی انہوں نے دم لیا ایسے میں طلبہ کے مابین کافی دہشت اور نفسی نفسی کا ماحول پیدا ہو گیا اور سارے طلبہ فوراً اپنے اپنے گھروں کے لئے روانہ ہو گئےاور یہ جو افواہ پھیلائی جا رہی ہے کہ کچھ اساتذہ اور دیگر

حضرات کو گرفتار کر جیل بھیج دیا ہے بالکل غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ سب سن کر ناظم صاحب پرنسپل صاحب اور کچھ سینیر اساتذہ بچوں کے دفاع کے لئے بر وقت ضیاء ہاسٹل کی طرف پہنچے تو پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور ان سے بڑی بد تمیزی اور بد کلامی سے پیش آئے اور کہا اس سلسلے میں جو بھی بات کرنی ہے گھوسی تھانے آئیے پھر یہ حضرات وہاں گئے وہاں ان

ادھیکاریوں کا کہنا تھا کہ آپ کو نوٹس دی تھی کہ الیکشن پیریڈ ہے جامعہ میں چھٹی کر دیجیے بچوں کو گھر بھیج دیجیے آپ نے کیوں ایسا نہیں کیا ؟ اس لئے ہم نے یہ قدم اٹھایا باقی جو کچھ کہا ہو واللہ

اعلمبتاتے چلیں کہ گھوسی میں ایم ایل اے سیٹ کو لیکر الیکشن پیریڈ چل رہا ہے جو کہ صرف گھوسی واڑڈ میں ہے اور کل وؤٹنگ کا دن ہے اسے مسلم غیر مسلم مدعیٰ بنا کر بڑی گھناؤنی سیاست کی جا رہی ہے اور کافی دنوں سے گھوسی کے مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے مساجد کے مائک اتروا دئے گئے ہیں مدارس کو بند کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور مخصوص پاڑٹی کو ووٹ دینے کے لئے فورس کیا جا رہا ہے ایسا نہ کرنے پر مستقبل کے لئے دھمکی دی جا رہی ہے وغیرہباقی آپ خود سمجھدار

ہیں..اس حرکت سے ہر مسلمان کو بہت تکلیف پہنچی ہے ہمیں یقین ہے ان شاء اللہ یہ سب ذلیل و خوار ہوں گےبالخصوص مرکز علم و فن جامعہ امجدیہ اور بالعموم تمام مراکز اسلامیہ اور اہل گھوسی کے لیے دعا کرتے ہیں کہ جلد از جلد حالات سازگار ہو جائیں

comment

بھارت میں مسلمان سماجی طور پر کس قدر غیر محفوظ اور سیاسی طور پر کتنے بے سہارا ہوتے جا رہے ہیں کہ ہندوتو کی انتہا پسند لابی پولیس اور فورس کے سہارے جب چاہتی ہے ان کے عزت و آبرو،

مان سمان کے ساتھ کھلواڑ کر کے گزر جاتی ہے۔ہر دن ایک نئی چال، نئی سازش، نیا حربہ، نیا ہتھکنڈہ،نیا ایجنڈا، نیا ستم ایجاد کیا جاتا ہے۔

ابھی جو اتر پردیش کے گھوسی میں ہوا اور ہو رہا ہے وہ جمہوریت کے چہرے پر بد نما دھبہ ہی ہے۔خبر ہے کہ مدرسے کے طلبہ کے ساتھ پولیس کے جوان گالی اور بھدے الفاظ بول کر بد تمیزی کر رہے ہیں۔یہاں تک کلیہ میں پڑھ رہی طالبات کو بھی ہاسٹل سے اچانک نکال دیا گیا ہے

۔یہ پوری امت کے لیے سوچنے کی گھڑی ہے کہ کیا اسی طرح ہندوتو کے سامنے ڈر کے سرینڈر بول دینا ہے؟کیا اپنی بے آبروئی پر سمجھوتہ کر لینا ہے؟ یا پھر اپنے مان سمان کا تحفظ کرنا ہے؟آپ یہ مت سمجھیں کہ الیکشن کے نام پر ایسا کیا گیا ہے۔نہیں اور ہزگز نہیں۔بلکہ ہماری عزت پہ ہاتھ ڈالا ہے۔غیرت مومن کو چیلنج کیا ہے۔ہماری شہریت کا مذاق بنایا ہے

۔ہمیں تیسرے درجے کا شہری باور کرانے کی ظالمانہ کوشش کی ہے۔اترپردیش کے مسلمان یوگی حکومت کا اور کتنا ظلم سہیں گے۔ستم کی یہ اماوس رات کتنی طویل ہوگی۔کب سپیدۂ سحر نکلے گا۔یاد رکھئے ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھیں گے،

اتنی ہی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔حق و انصاف، عزت و سمان اور اپنے مان مریادا کے تحفظ کیلئے موثر قانونی اقدامات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔محمد بن قاسم بن کر وقت کے داہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔گھر بیٹھے محض دعا کرنے سے نہ حق مل سکتا ہے نہ مان سمان بحال ہو سکتا ہے۔

مشتاق نوری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *