احساس ذمے داری سب سے بڑا سرمایہ ہے
احساس ذمے داری سب سے بڑا سرمایہ ہے
از : محمد افتخار حسین رضوی
احساس ذمے داری سب سے بڑا سرمایہ ہےاللہ تعالیٰ نے انسان کو بلا وجہ اور بغیر کسی مقصد کے پیدا نہیں کیا ہے، بلکہ انسان کی تخلیق عظیم مقاصد کی تکمیل کے لئے کی گئی ہے، اور عظیم مقاصد کے حصول کے لیے انسان کو مختلف،متعدد اور متضاد ذمے داریوں اور فرائض کا پابند بنایا گیا ہے۔
چناں چہ پروردگار عالم نے قرآن مجید کے سورۃ مؤمن میں ارشاد فرمایا ہے کہ “کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ یونہی بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے گا” اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ امیر اپنی رعایا کا، مرد اپنے اہل وعیال کا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی ذمہ دار ہے‘‘۔ (بخاری ومسلم)
قارئینِ کرام ! ہم اور آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ انسان بیکار پیدا ہوا ہے نہ ہی غیر ذمے دار، بلکہ انسان کی پوری زندگی احساس ذمے داری، کام اور محنت و مشقت سے بھری ہوئی ہے۔ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری زندگی بےکار اور فضول نہیں ہے، ہمیں اپنی ذمے داریوں کو انجام دینے کے لیے مسلسل مصروف اور حرکت میں رہنا ہے۔
سیکورازم بچانا ہماری ذمہ داری ہے صاحب
ماہِ ربیع الاول شریف کی آمد، اس کی بہاریں، اس کے تقاضے اور مسلمانوں کی ذمے داریاں
ایمان و عقائد کی حفاظت: دین اسلام کی اصل اور بنیادی تعلیم ہے
اللہ عزوجل نے سورۃ بلد میں ارشاد فرمایا ہے”بےشک ہم نے انسان کو بڑی محنت اور مشقت میں رہنے والا انسان بنایا ہے”شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے:جنبش سے ہے زندگی جہاں کییہ رسم قدیم ہے یہاں کی مذکورہ بالا گفتگو سے آفتاب نیم روز کی طرح یہ صداقت اجاگر ہوجاتی ہے کہ انسان ایک بامقصد زندگی بسر کرنے کے لیے جنم لیتا ہے،
ایک ایسی زندگی جو مکمل طور پر نیک اور فائدہ مند مقاصد کو پورا کرنے اور کام یاب انسان بننے کے لیے گزاری جائے۔ واضح ہو کہ ایک کام یاب اور مثالی زندگی بسر کرنے کے لیے ہر انسان کی مختلف و متعدد اور متنوع ذمے داریاں ہوتی ہیں، جن کو انجام دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، انسان جب تک اپنی ذمے داریوں کو انجام دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس وقت تک ایک بامقصد اور کام یاب زندگی کا آغاز نہیں ہوتا۔
ایک بہترین، خوش گوار، خوب صورت، پر امن، سنجیدہ، تاب ناک، فرحت بخش اور بلند معیار کی زندگی بسر کرنے اور ایک مہذب سماج کی تعمیر وترقی کے لیے سماج کے ہر فرد کو اپنی اپنی ذمے داریوں کو پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ نبھانی چاہیے، جو لوگ جس شعبے، محکمہ اور ادارے سے منسلک اور وابستہ ہوتے ہیں، اس کی کارکردگی اور کامیابی کی تمام تر ذمے داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں۔
اگر ان لوگوں کو اپنی ذمے داریوں کا احساس نہ ہو تو یقیناً وہ اپنی ذمے داریوں کو انجام دینے میں غفلت اور سستی سے کام لیں گے اور جب لوگ ذمے داریوں کو انجام دینا چھوڑ دیں گے تو نظام زندگی درہم برہم ہوجائے گا۔
زندگی کے ہر شعبے کی کارکردگی بہت زیادہ متاثر ہو جائے گی، مقررہ ہدف کو حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا، ترقی کی رفتار دھیمی پڑ جائے گی، اور زندگی کی ریس میں لوگ پیچھے ہو جائیں گے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں جہاں بھی عروج و ارتقا کا جمال و کمال نظر آتا ہے، وہاں قدم قدم پر ذمے داریوں کا شدید احساس بھی محسوس ہوتا ہے، وہاں بحسن وخوبی ذمے داریوں کو انجام دیا جاتا ہے، زندگی کی چمک دمک اور رونق پوری آن بان اور شان کے ساتھ جلوہ فگن ہوتی ہے۔
ہر فرد مکمل تیاری اور بیداری کے ساتھ متحرک اور فعال نظر آتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ فتح و ظفر اور ترقیاں و کامرانیاں ایسے لوگوں کے قدم چومتی نظر نواز ہوتی ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ “احساس ذمے داری سب سے بڑا سرمایہ ہے”دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے اندر احساس ذمے داری بیدار رکھے، ہمیں اپنی ذمے داریوں اور فرائض کی ادائیگی کو مکمل توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا ربّ العالمین بجاہ النبی الامین الکریم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم۔
از قلم : محمد افتخار حسین رضوی
مدیر: اردو دنیا (ویب پورٹل)
اردو کالونی، ٹھاکر گنج، کشن گنج ،بہار
Pingback: تقریر و تحریر کی غیر معمولی اثر پذیری ⋆ محمد افتخار حسین رضوی