ماہ ربیع الاول شریف کی آمد اس کی بہاریں اس کے تقاضے اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں
ماہِ ربیع الاول شریف کی آمد، اس کی بہاریں، اس کے تقاضے اور مسلمانوں کی ذمے داریاں
سبحان اللہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ ہماری زندگی میں ایک بار پھر ربیع الاول شریف کا مبارک، مقدس، بابرکت، رحمت و انوار سے بھرپور، نورانی اور پاکیزہ مہینہ اپنی بہاریں لٹانے آچکا ہے۔ اس خوشبودار مہینے کی رحمتوں اور برکتوں کی بارش میں نہانے کے لیے مسلمان پورے ایک سال کا انتظار کرتے ہیں
اور جب ماہ ربیع النور اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اپنے دامنِ کرم میں عشق ومحبت کے رنگ برنگے پھول سمیٹے جلوہ افروز ہوتا تو پیارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں کے دلوں کی کھیتیاں ہری بھری ہوجاتی ہیں، ذہن و فکر فرحت بخش، راحت افزا، اور خوشگوار احساسات سے دوچار ہونے لگتا ہے، قلب و جگر کے سمندر میں عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی موجیں اور لہریں پیدا ہونے لگتی ہیں
بچوں کے دلوں میں بھی عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیاں بھر جاتی ہیںمگر اس پورے منظر نامے کا ایک ایسا پس منظر بھی ہے جو ہمارے لیے باعثِ صد افسوس اور لمحہ فکریہ ہے، اس پس منظر میں ایک ایسا خزاں رسیدہ، ابلیسی درس گاہ کا فیض یافتہ، منفی خیالات کا پروردہ طبقہ بھی اپنے ناپاک وجود کا احساس دلاتا ہے، جو اس مقدس و متبرک ماہ کے آمد پر ابلیس کی پیروی کرتے ہوئے رنج وغم میں مبتلا رہتا ہے
اس لیے بہتر ہوگا کہ اس مبارک مہینے میں ایسے بد باطن لوگوں کا تصور بھی نہ کریں تاکہ ہمارے پاکیزہ افکار و خیالات ایسوں کے تصور سے نجاست آلود نہ ہوجائے۔ لیکن ہمیں اپنی جماعت کے ان افراد کے بارے غور وفکر ضرور کرنا چاہیے جو سنی صحیح العقیدہ تو ہیں مگر_دینی تعلیمات سے محرومی
علماے اہل سنّت کی صحبت سے دوری، یا اعمالِ بد کی وجہ سے انکے ایمانی جذبات سرد پڑ چکے ہیں، انکے دریائے محبت میں جوش پیدا نہیں ہوتا ہے، جو مادی ترقی کے خوگر اور مارڈن کلچر کے دلدادہ ہیں، اور مغربی تہذیب کے زیرِ اثر دینی سرگرمیوں سے دور ہوچکے ہیں، ایسے تمام لوگوں کو سمجھانے کی سخت ضرورت ہے، ایسی سوکھی زمینوں پر اللہ ورسول کی الفت ومحبت کی موسلا دھار بارش برسانے کی حاجت ہے
ان کے دلوں میں دبی محبت کی چنگاریوں کو بھڑکانے کی حتی الامکان کوشش کرنی ہوگی، انکی زندگیوں کو سیرتِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھالنے کا ربیع الاول ایک سنہرا موقع ہے
ان کی بلکہ تمام مسلمانوں کی زندگیوں کو اسوۂ حسنہ اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مُزَیّن کرنے کے لئے ربیع الاول شریف ایک سدابہار موسم ہے، ذرا دل تھام کر سوچیں کہ سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کے بےشمار بچوں کو دنیاوی تعلیم وتربیت کے لئے کفار ومشرکین اور بدمذہبوں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں، جن کی صحبت بد کے اثر سے ہمارے یہ کمسن بچے رفتہ رفتہ دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہوجاتے ہیں
اور ان کے اذہان و قلوب میں اسلامی فکر پیدا نہیں ہوپاتی، ہمارے یہ بچے دنیاوی تعلیم کے ماہرین تو بنتے ہیں، مگر اسلامی افکار و نظریات سے محروم اور مذہبی جذبات سے عاری ہوتے ہیں
یہی بچے بڑے ہوکر اسلام کے باغی بن جاتے ہیں، اس لئے علمائے اہلسنت کو ان بچوں اور نوجوانوں کے ایمان وعقائد کو بچانے اور اسلام و سنیت سے ان کی مستحکم جذباتی وابستگی کو قائم رکھنے کے لئے بہت زیادہ محنت کرنے اور قربانیاں دینے کی ضرورت ہے، تمام خانقاہوں کے ذمے دان کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے اندر روحانی انقلاب پیدا کرنے کے لئے آگے آئیں، پیران کرام مریدین کو روحانیت اور تصوف کی درسگاہ میں صوفی بنانے کی کوشش کریں، ہمارے پیران کرام تو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مقبول بندے ہوتے ہیں
اس لیے مشائخ عظام ہم گناہ گاروں پر نظر کرم فرمائیں اپنی نگاہ ولایت اور نگاہ کیمیا اثر سے ہمارے قلوب و اذہان کو منور، مجلّٰی، اور مصفّٰی فرمائیں، آج ربیع الاول کی پہلی تاریخ ہوگی اس لئے آج سے ہی تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے گھروں میں پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی اور سرکار دوعالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری پیاری سنتوں کا چرچا اور ذکر کرنا شروع کر دیں، اپنے بچوں کے دلوں میں اللہ و رسول جل و علا و صلی اللہ علیہ وسلم کے محبت پیدا کریں، بچوں کو اسلامی زندگی گزارنے کی تلقین کریں
اپنے محلے کی مسجد میں روزانہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا انعقاد شروع کر دیں، مسلمان مل جل کر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلوں کو منعقد کریں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر مشتمل کتب ورسائل خود بھی پڑھیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھنے دیں، علماے کرام درس قرآن اور درس حدیث مجالس کا انتظام و انصرام کریں
عوام کو اچھی طرح آگاہ کریں کہ وہ جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کے حدود میں رہ کر کس طرح منائیں، تمام خرابیوں سے پاک جلوس محمدی بہترین اور عمدہ طریقے سے کیسے نکالیں؟ اس پر تفصیلی روشنی ڈالیں۔ ہمارے مقررین کو چاہیے کہ وہ سرکار دوعالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات و کمالات کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کریں تاکہ مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اوصاف سے باخبر ہوجائیں۔
محمد افتخار حسین رضوی
اردو کالونی، ٹھاکر گنج، کشن گنج بہار
مدیر: اردو دنیا ( ویب پورٹل)
9546756137
Pingback: صداے درد دل ⋆ اردو دنیا افتخار حسین رضوی
Pingback: پیغمبرِاسلام علیہ الصلاة والسلام کے سماجی کارنامے ⋆ فیاض احمدبرکاتی مصباحی
Pingback: میلاد مصطفیٰ کا پیغام عالم انسانیت کے نام ⋆ افتخار حسین رضوی
Pingback: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور حقوقِ انسانی کا تحفظ سید محمد اکرام الحق قادری
Pingback: دین اسلام کی اصل اور بنیادی تعلیم ہے ⋆ افتخار حسین رضوی
Pingback: احساس ذمے داری سب سے بڑا سرمایہ ہے ⋆ اردو دنیا از : محمد افتخار حسین رضوی
Pingback: تقریر و تحریر کی غیر معمولی اثر پذیری ⋆ محمد افتخار حسین رضوی