شرپسند عناصر کا ظلم وتشدد اور مسلمانوں کی پریشانیاں
شرپسند عناصر کا ظلم وتشدد اور مسلمانوں کی پریشانیاں
از قلم : محمد افتخار حسین رضوی (مدیر: اردو دنیا ویب پورٹل)
نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کر چلے
قارئین ! اس وقت ہندوستان کے مسلمان خوف و ہراس اور مایوسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں، مسلمان اس وقت ہرگز اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ ہندوستان میں بےخوف و خطر اور بلاخوف تردید سر اٹھا کر زندگی بسر کر سکیں۔
اکثریتی طبقہ اور حکومت کی جانب سے مسلمانوں پر ڈھائے گیے مظالم، عائد کئے گئے بےبنیاد الزامات، اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں بےجا اعتراضات، رکاوٹوں، دقتوں، پریشانیوں اور خطرات کا کرنا پڑتا ہے، ہم مسلمانوں کو آئے دن کسی نہ کسی طریقے سے پریشان اور ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، شرپسند عناصر
حکومت کی شہ پر اپنی سیاسی اور معاشی طاقت کی وجہ سے مسلمانوں کو نفرت اور ظلم وتشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، حالات بتا رہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف گہری سازشوں کا جال بچھا دیا گیا ہے، مخالفین مختلف حربوں کا استعمال کرکے مسلمانوں کو سیاسی و سماجی، اور معاشی و اقتصادی طور پر کمزور کردینا چاہتے ہیں۔
یہاں تک مسلمانوں کا دین و ایمان بھی چھین لینا چاہتے ہیں، ایسے پرآشوب وپرفتن اور وحشت ناک ماحول میں مسلمان اپنے مستقبل کے لیے حیران و پریشان ہیں۔ کتنا حیرت انگیز، تعجب خیز اور افسوس ناک معاملہ ہے کہ جس ملک کے لیے سب سے زیادہ مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں
ماہِ ربیع الاول شریف کی آمد، اس کی بہاریں، اس کے تقاضے اور مسلمانوں کی ذمے داریاں
آج اسی ملک میں مسلمان اپنے عزت و وقار، تہذیب و ثقافت، جان و مال کی حفاظت، سیاسی و سماجی اور معاشی عروج و ارتقا کی بازیابی کے لیے غیروں کے در پر سرجھکانے پر مجبور ہیں۔ حالات اتنے سنگین اور خطرناک ہوچکے ہیں کہ انہیں قابو میں لانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا
کیوں کہ ہر سطح پر مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے، حالات خود ایسے بن گئے ہیں یا بنا دیئے گئے ہیں کہ مسلمانوں کو ترقی کے کسی بھی میدان میں سرپرستی اور نمائیندگی حاصل نہیں ہوپارہی ہے۔ مسلمانوں کی آبادی اور تعداد کے لحاظ سے انہیں سرکاری عہدوں میں جس تناسب سے نمائندگی اور جگہ ملنی چاہیے، وہ آزادی کے بعد اب تک حاصل نہیں ہوئی
سیاسی و سماجی ، معاشی و اقتصادی طور پر ہر فیلڈ میں اکثریتی طبقہ قابض ہے، ہر طرف انہی کے جلوے عام ہیں۔ سیاسی پارٹیوں سے لیکر تمام سرکاری شعبوں میں مسلمان بہت ہی قلیل تعداد میں نظر آتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلمانوں کے ساتھ اتنی ناانصافی کیوں؟ مسلمانوں سے اتنی نفرت کیوں؟ جبکہ ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے
دستور ہند میں تمام مذاہب اور اقوام کو مساوی حقوق دیئے گئے ہیں، ہمارے آئین میں کسی بھی زاویے سے ناانصافی، ظلم وتشدد، عدم مساوات، نفرت، بدعنوانی، اور شر و فساد کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مگر تعجب کی بات ہے کہ اس کے باوجود شرپسند عناصر اور مجرمانہ ذہنیت کے لوگ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹانا، سیکولر سماج کو آلودہ، اور نظام جمہوریت کو تباہ وبرباد کردینا چاہتے ہیں
حالاں کہ عدلیہ اور انتظامیہ اگر نیک نیتی سے اپنا فریضہ انجام دے تو وطن عزیز کی اتحاد واتفاق کی خوشگوار فضا کو پراگندہ کرنے والے ایسے تمام مجرموں کا سزا دی جا سکتی ہے
اور انہیں غیر آئینی کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے اور اس طرح ہمیشہ کے لئے ملک امن و امان کا گہوارہ بن سکتا ہے، مگر یہ کام بہت مشکل نظر آتا ہے کیونکہ ایسے شرپسند عناصر کو سیاسی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، انکے پیچھے مال ودولت لٹائی جاتی ہے۔
اس لیے ایسے سماج دشمن اور جمہوریت کے قاتل بڑے بڑے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باوجود آزادانہ طور پر اپنی شرانگیزی اور خباثت کی غلاظت و آلودگی سے ملک کی خوشگوار فضا کو متعفن کررہے ہیں
وہ اپنے سیاسی آقاؤں کی وجہ سے سزا سے بے پروا ہوکر کھلے سانڈوں کی مانند گھوم رہے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ ہند کا یہ بدترین دور ہے، کیونکہ اس وقت ہمارا ملک جس دور پرفتن سے گزر رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت، مایوس کن، اور تشویشناک ہے
اکثریتی طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک مخصوص جماعت اپنی سیاسی اور معاشی طاقت کے نشے میں چور ہوکر آئین ہند کو اپنے پاؤں تلے روند کر ہندوستان میں ایک ایسا سامراجی نظام قائم کرنا چاہتی ہے، جس میں اقلیتی طبقات کو بہت سے حقوق سے محروم کردیئے جائیں گے، کمزوروں اور پسماندہ لوگوں کو آزادانہ طور پر سر اٹھا کر جینے کا موقع نہیں دیا جائے گا
عدل وانصاف کا خاتمہ ہوجائے گا، طاقتور جماعت اپنے مفادات کے لئے، اپنی شان وشوکت کے لیے، اپنی برتری اور رعب و دبدبہ کو قائم رکھنے کے لیے اپنے اختیارات کا اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا مجاز ہوگی، اقلیتوں اور کمزور طبقات پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑنا انکے لئے معمولی بات ہوگی، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ سامراجی نظام کے مالک برسراقتدار حکمراں
جماعت اقلیتوں کو اپنا غلام بنا لے گی۔ اس لیے تمام اقلیتی طبقات کو متحد ہوکر اپنی مستحکم حکمت عملی اور مضبوط منصوبہ بندی کے ذریعے دنیا کی عظیم جمہوریت کی سالمیت کے لیے خطرہ بن چکے ایسے سماج دشمن عناصر کے باطل مقاصد کی عمارت کو زمین بوس اور مسمار کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اس کے لیے وطن عزیز کے سیکولر مزاج کے حامل افراد کو آگے آنا چاہیے
تمام اعتدال پسند سیکولر سیاسی و سماجی تنظیموں کو اعلیٰ پیمانے پر غور وخوض کرنی چاہیے، ورنہ تمام اقلیتی طبقات کو بالخصوص مسلمانوں کو مستقبل کے بھیانک نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔
محمد افتخار حسین رضوی
مدیر: اردو دنیا ،ویب پورٹل
محلہ اردو کالونی، پوسٹ ٹھاکر گنج، ضلع کشن گنج، بہار
رابطہ نمبر: 9546756137
Pingback: طالبان علوم اسلامیہ اور علماے کرام اسلام کی مقدس جماعت ⋆ افتخار حسین
Pingback: امت مسلمہ کا مذہبی زوال ایک لمحہ فکریہ ⋆ افتخار حسین رضوی
Pingback: مدارس ومکاتب میں اساتذہ کا انتخاب اور ہماری ذمےداریاں ⋆ محمد افتخار حسین رضوی
Pingback: کشن گنج کے نسیم کو ظالموں نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا ⋆
Pingback: بدگمانی سے بچیں اور نہ کسی کو بدنام کریں ⋆ اردو دنیا تحریر: جاوید اختر بھارتی
Pingback: پاکیزہ معاشرے کے لیے صرف تقریر نہیں عمل کی ضرورت ہے ⋆ جاوید اختر بھارتی