گوشالہ کی زمین بتا کر سوسالہ پرانے قبرستان پر انتظامیہ نے چلا دیا بلڈوزر
گوشالہ کی زمین بتا کر سوسالہ پرانے قبرستان پر انتظامیہ نے چلا دیا بلڈوزر
درجنوں قبریں مسمار ، کئی لاشوں کو مسلمانوں نے پرنم آنکھوں سے دوسری جگہ تدفین کی
مسلمانوں کا الزام ہماری باتیں سنے بغیر آنا فانا کردیا گیا یک طرفہ فیصلہ
(نورالہدیٰ مصباحی)
ضلع مہراج گنج کے نچلول تحصیل کے تحت سسواں بازار میں واقع محلہ گاندھی نگر قبرستان کو
گوشالہ کی زمین بتا کر سوسال سے زیادہ پرانے قبرستان پر انتظامیہ نے بلڈوزر چلا دیا ، جس سے
درجنوں قبریں مسمار ہو گئیں، کئی لاشیں قبر سے باہر آنے پر مسلمانوں نے پرنم آنکھوں سے باقیات کو دوسری جگہ تدفین کی،
بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں ضلع انتظامیہ نے اتر پردیش کے مہراج گنج کے سسوا بازار میں صدیوں پرانے قبرستان کو بلڈوز کردیا۔ اس آنا فانا کارروائی سے کئی قبروں کو مسمار کر دیا گیا، یہاں تک کہ کچھ قبروں سے لاشوں کی باقیات بھی نکل گئیں۔ قبرستان کمیٹی اور علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا لیکن ان کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ انتظامی حکام کے مطابق یہ قبرستان شری کرشن گوشالہ کی ملکیت تھی ،
الزام ہے کہ قبرستان گوشالہ زمین پر ناجائز قبضہ کرکے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس دوران کئی ایک لاش ملی جسے مقامی لوگ دوسرے قبرستان میں لے گئے اور پرنم آنکھوں سے تدفین کی۔
بتایا جاتا ہے کہ نچلول ایس ڈی ایم کے حکم پر قبرستان کی دیوار بذریعہ بلڈوزر توڑ کر گوشالہ کمیٹی کو قبضہ دلانے کے لئے پیلر لگاتے ہوئے سمینٹیڈ دیوار چلا دی گئی،
موصولہ اطلاع کے مطابق نچلول ایس ڈی ایم سدھارتھ گپتا کی قیادت میں ریونیو اور پولیس کی مشترکہ ٹیم کوٹھی بھار تھانہ حلقہ کے تحت سسواں میں واقع گاندھی نگر قبرستان پر پہنچ گئی ،کوئی اس کی مخالفت نہ کرے اس کے لئے آٹھ تھانوں کی پولیس و پی ایس سی ٹیم موقع پر تعینات کر دی گئی تھی ، ریونیو ریکارڈ کے مطابق درج زمین کی پیمائش کرکے پیلر لگا دیا گیا ، کچھ لوگوں نے بتایا کہ مذکورہ قبرستان اور گوشالہ کا معاملہ 2023 میں ایس ڈی ایم نچلول کے یہاں پہچا تھا ، اس کی سنوائی انتظامیہ سطح پر شروع کر دی گئی ،گوشالہ کمیٹی نے دفعہ 24 کے تحت ایس ڈی ایم کورٹ میں تحریر دے کر ریونیو ریکارڈ کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا جسے ایک سال پہلے خارج کر دیا گیا تھا، دوبارہ پھر گوشالہ کے لوگوں نے دعویٰ کردیا،جس کے فوراً بعد یہ سنگین نتائج سامنے آئے ،
اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ گورو سنگھ سوگروال نے بتایا کہ سسواں قبرستان کے معاملے میں شری کرشن گوشالہ کمیٹی نے دفعہ 24 کے تحت نچلول ایس ڈی ایم کے یہاں درخواست دی تھی نچلول ایس ڈی ایم نے اس کی سنوائی شروع کی، ادھر قبرستان کمیٹی کے لوگ اس کے خلاف کمشنر کے یہاں چلے گئے جہاں قبرستان کمیٹی کی اپیل خارج کر دی گئی
کمشنر کے حکم کی تعمیل کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے 30 جون کو دفعہ 24 کے تحت اس زمین کی پیمائش کی گئی ، قبرستان کے حق میں جو قبضہ تھا بذریعہ بلڈوزر اسے خالی کرتے ہوئے گوشالہ کے حق میں قبضہ دلانے کے لئے پیلر لگا دیا گیا ، ڈی ایم نے کہا کہ اور بھی کہیں اگر ناجائز قبضہ ہے تو سبھی تحصیل انتظامیہ اس کے خلاف مہم چلاکر قبضہ خالی کراے، ڈی، ایم کے مطابق حکومت کے حکم کے مطابق ریونیو ٹیم کے ذریعے یہ مہم جاری ہے ،
اس سلسلے میں قبرستان کمیٹی کے مینیجر ہاشم انصاری سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ بہت ناانصافی ہوئی ہے ہماری بات اور دلائل سنے بغیر یک طرفہ فیصلہ کردیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے نومبر 2024 میں دفعہ 24 کے تحت گوشالہ بنام مینا دیوی ان لوگوں نے درخواست دی تھی جس میں قانون گو اور لیکھ پال کے ذریعے یہ رپورٹ لگائی گئی تھی کہ گھنی آبادی میں گوشالہ کی زمین نہیں ہوسکتی اس معاملے کو خارج کر دیا گیا
ایک سال بعد دفعہ 24 کے تحت ان لوگوں نے دوسری رٹ دائر کیا اور پھر اسے آنا فانا نافذ کرتے ہوئے سو سال کا معاملہ ہفتہ دس دن میں تہس نہس کر دیا گیا ، ہاشم انصاری نے کہا کہ میں ایس ڈی ایم نچلول کے سامنے آفس میں بہت گڑ گڑایا اور کہا کہ صاحب ہمارے مرحومین کی سیکڑوں قبریں ہیں وہاں برائے مہربانی ایسا نہ کریں ، تو انہوں نے کہا کہ ہاشم میں بہت مجبور ہوں کہیں اور دیکھ لو ،
مسٹر ہاشم نے کہا کہ میرے پاس سبھی دستاویزات اور مہراج گنج کورٹ کے کاغذات موجود ہیں جس میں قبرستان درج ہے ،اس کے بعد بھی کوئی سنوائی نہیں ہوئی، ہمارے خلاف فیصلہ کردیا گیا ، یہاں سے مایوس ہو کر کمشنر کے یہاں چلے گئے پانچ دن تک بحث کے بعد فائل رکھ لی گئی
فائل روکنے کے بعد پھر تاریخ لگ گئی جب اس دن گئے تو کہا گیا کہ آپ جائیں دو دن بعد کاغذ مل جاے گا اور پھر وہاں سے بھی ہمارے خلاف فیصلہ کردیا گیا ، ہاشم انصاری نے کہا کہ دفعہ 24 کے تحت قبرستان کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا صرف پتھر نصب کیا جا سکتا ہے ، متعلقہ افسر نے بتایا تھا کہ صرف ایک پتھر نصب کیا جائے گا ، مگر افسوس پوری تیاری کے ساتھ ،سب کچھ تباہ وبرباد کر دیا گیا
انہوں نے کہا کہ قبرستان کی زمین 463 اور 427 اراضی نمبر کی زمین ہے ، سپا حکومت میں اس کی چہار دیواری کرا دی گئی تھی ، اس میں ایک ایکڑ بارہ ڈسمل قبرستان اور پھر 36 ڈسمل الگ سے قبرستان کی اصل زمین ہے، یہ لوگ ایک ایکڑ بارہ ڈسمل قبرستان کی اراضی پر بلا وجہ دعوا کررہے ہیں
مخالفین اپنی زمین کم بتا کر قبرستان کی زمین پر دعویٰ کررہے ہیں ، سو سال سے ان کی زمین کم نہیں ہوئی تھی ادھر اچانک کم ہونے کا مخالفین دعویٰ کرنے لگے، قبرستان کمیٹی کے ارکان انصاف کے لئے ہائی کورٹ گئے ہوئے ہیں تین دن سے معاملے کی سماعت ہورہی ہے اب مسلم جماعت کے لوگ انصاف کے لئے ہائی کورٹ کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ،
کل ملا کر ایک طرف جہاں گوشالہ کے دعویدار جشن منانے میں مصروف ہیں وہیں مسلم جماعت کے لوگ اپنے مرحومین کی قبروں پر بلڈوزر کارروائی سے غمگین ماحول میں ہیں
(نورالہدیٰ مصباحی)
مہراج گنج/ گورکھپور