پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کی جانب سے شان دار ترنگا یاترا
پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کی جانب سے شان دار ترنگا یاترا، مدارس کے بچوں، خواتین اور علما کی بڑی شرکت
نئی دہلی /نوح ہریانہ: یومِ آزادی کے موقع پر پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کی جانب سے بدھ کے روز نوح، میوات، ہریانہ میں ایک شاندار ترنگا یاترا نکالی گئی، جس میں مدارس کی تقریباً 200 بچیوں، 150 بچوں، قریب 100 مسلم خواتین اور تقریباً 100 علما و ائمہ کرام سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم تھام کر حب الوطنی، قومی اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔
ترنگا یاترا کا بنیادی مقصد پسماندہ معاشرے اور مدارس کے بچوں کو قومی دھارے سے جوڑنا، نئی نسل میں حب الوطنی کے جذبے کو مضبوط کرنا، سماجی بھائی چارے کو فروغ دینا اور تعلیم و ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ یاترا کے دوران ’’ایک ہاتھ میں قرآن، ایک ہاتھ میں ترنگا‘‘ کا پیغام بھی نمایاں رہا، جس کے ذریعے ملک سے محبت، قومی یکجہتی اور مذہبی و سماجی ہم آہنگی کا اظہار کیا گیا۔ترنگا یاترا کا آغاز یاسین میو ڈگری کالج سے ہوا اور یہ مین مارکیٹ سے ہوتے ہوئے گاندھی پارک، نوح، میوات، ہریانہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔
اس موقع پر پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر معراج راعین نے کہا کہ فاؤنڈیشن معاشرے کی ترقی کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور خاص طور پر مدارس کو جدید اور عصری تعلیم سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ مدارس کے بچے مستقبل میں احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی کوششیں جاری ہیں اور اب اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ہمارے بچے ڈاکٹر، انجینئر اور پائلٹ بننے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے حکومت کی رہنمائی اور تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مدارس کے بچوں کی بہتر رہنمائی کے لیے عملی اقدامات اور گائیڈنس فراہم کرنے کی اپیل کی۔
معراج راعین نے کہا کہ مدارس کو صرف منفی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان اداروں سے بڑے مفکر، ڈاکٹر، انجینئر اور پائلٹ بھی نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان قرآن سے محبت کے ساتھ اپنے ملک سے بھی بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ قرآن ہمارے لیے عزیز ہے تو ملک کا قومی پرچم بھی ہمارے لیے اتنا ہی محترم ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی ترنگا یاترا میں مدارس کی بچیوں کی شرکت اس بات کا پیغام ہے کہ وہ بھی تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھ سکتی ہیں، بااختیار بن سکتی ہیں اور بلا خوف و خطر معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر نے حکومت، دانشوروں اور علما سے اپیل کی کہ قوم اور سماج کی بہتری کے لیے کام کرنے والوں کی رہنمائی کی جائے۔ انہوں نے مدارس میں کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات پہنچانے کی بھی اپیل کی، تاکہ طلبہ عصری تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں اور مستقبل کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
نکہت پروین، ڈائریکٹر خواتین پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن نے کہا کہ ہماری لڑکیاں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کریں گی۔ ضرورت صرف بیداری کی ہے۔ پسماندہ سماج کی لڑکیاں بھی تعلیم اور محنت کے ذریعے بااختیار بن سکتی ہیں، اور ہماری مہم اسی بیداری کے لیے ہے۔
اس موقع پر کنور وکرم آدتیہ، ایس ڈی ایم نوح بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ انہوں نے ترنگا یاترا کے انعقاد پر پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں کا مقصد پسماندہ مسلم معاشرے کو قومی دھارے سے جوڑنا، وطن سے محبت اور اتحاد کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر ترنگا لہرایا جانا بھی اس مہم کا ایک اہم مقصد ہے۔
کنور وکرم آدتیہ نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں، انہیں بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے حکومت اور انتظامیہ کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں
نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں مزید بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ انہوں نے پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کی اس مہم کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔
ترنگا یاترا میں پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کی خواتین ٹیم، علما، لیگل ٹیم اور دیگر کارکنان نے بھی بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے قومی پرچم لہراتے ہوئے حب الوطنی، قومی ذمہ داری، سماجی اتحاد اور باہمی بھائی چارے کے فروغ کا عزم ظاہر کیا۔