تبلیغی جماعت کا تصادم اور بدترین قیادت
تبلیغی جماعت کا تصادم اور بدترین قیادت
تحریر توصیف القاسمی
تبلیغی جماعت بنگلہ دیش کا انتشار و تصادم آج کل سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے ، سنجیدہ قسم کے علما و دانش وران حیران و پریشان ہیں کہ آخر سب سے زیادہ پرامن تحریک کے کارکنان کو کیا ہوگیا ؟
کیسے وہ اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کے خون کے پیاسے بن گئے ؟ اکرام مسلم اور ”اصول ٹوٹ جائے ساتھی نہ ٹوٹے“ کی فکر پر کام کرنے والی جماعت خونی تصادم تک کیسے پہنچ گئی ؟
قارئین کرام ! حقیقت تو یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کا انتشار و تصادم یہ بتلانے کے کافی ہے کہ امت مسلمہ میں فرقہ واریت ، شخصیت پرستی ، جاہ پرستی ، خاندان پرستی ، ملی اداروں پر اشخاص و خاندان کے قبضے کی ذہنیت پوری طرح چھاگئی ہے ۔ امت مسلمہ اجتماعیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم سے بالکل نابلد ہے ، امت مسلمہ اپنے پسندیدہ حضرت کے لیے لڑ جائے گی بلکہ کٹ مرجائے گی ، اپنے مسلک کی برتری کے لیے فوراً سے پہلے صف بندی کرلے گی اپنی جماعت کے برسر حق ہونے کا اعلان کرنے کے لیے کلمہ طیبہ کے تمام تقاضوں پر پانی پھیر دے گی
دوسری طرف سنبھل جامع مسجد کے معاملے میں 24 نومبر 2024 کو پولیس کی گولی سے 4/ نوجوان شہید ہوگئے تو پوری مسلم قیادت بی جے پی کے خلاف ایک زبان ہوگئی ، بی جے پی سرکار اور عدلیہ کو براہِ راست ذمے دار ٹھرایا اور بالکل صحیح کیا
مگر بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے ایک ہی مسلک ایک ہی فکر ( تبلیغی جماعت ) کے دو گروہ ( 18/ دسمبر 2024 کو ٹونگی بنگلہ دیش ) آپس میں لڑجاتے ہیں چار قتل ہوجاتے ہیں سینکڑوں زخمی ہوجاتے ہیں اور تمام حضرات اوپر سے نیچے تک خاموش تماشائی اور گونگے شیطان بنے رہتے ہیں کسی پر ذمے داری عائد نہیں کرتے ، مذمت تک نہیں کرتے عام مسلمان پریشان ہیں مگر بھارت پاکستان اور بنگلادیش کے قائدین مسئلہ کا حل نکالنے کے لئے سر جوڑ کر نہیں بیٹھتے ؟
اچھی طرح سمجھ لیں ان تمام جرائم کے پیچھے خود ہمارے علماء کرام و دانشوران ہی ہیں ، تبلیغی جماعت کے حالیہ تصادم کی جڑ اور بنیاد میں بھی چوٹی کے علماے کرام و دانش وران ہیں مولانا محمد سعد اور شوریٰ والوں کے ذمے داران ہیں ، قوم خود سے نہیں بگڑی قوم کو علماء و دانشوران کی ضد نے بگاڑا ہے یہ علما و ذمے داران اپنی نااہل أولاد کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لیے پوری ملت میں آگ لگا سکتے ہیں پوری ملت میں تفریق پیدا کرسکتے ہیں۔
۔ ”عظیم اسلامی خلافت“ ظالم ملوکیت و شہنشاہیت میں اس لیے بدل گئی کہ یزید بن معاویہ کو جانشیں بنادیا گیا تھا ، پاکستان اس وقت کے قائدین کی آپسی ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھا ، اگر مسٹر محمد علی جناح نہیں مان رہے تھے تو ”ملی اتحاد“ کے لیے مولانا آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی ہی کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے تھا
پھر خاندانی جاہ و جلال کے ذریعے دار العلوم دیوبند کے ٹکڑے کیے گئے ، پھر نا أہل أولاد کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے جمعیت علماے ہند کے حصّے بکھرے کیے گئے ، ”ہم ہی مسلمانوں کے قائد ہیں“ کا نعرہ دینے کے لئے مسلم مجلس کو توڑنے کے لئے غنڈوں کا استعمال کیا گیا ۔
یہ قائدین اپنے آپ ہی کو حرف آخر سمجھتے ہیں ، بس حضرت ہی عقل کل ہیں ، نہ کوئی اصول و ضوابط ہے اور نہ ہی کسی سے مشورہ ؟ اگر مشورہ کریں گے بھی تو اپنے اندھے اور عقل سے کورے مریدین سے جو حضرت کے دیدار کو دیدار الٰہی سمجھتے ہیں ، ”ہاں میں ہاں“ ملانے کو اطاعت و فرمانبرداری کہتے ہیں ، اقدام کو گستاخی اور ظلم و تعدی کو صبر و تحمل کرنے کا موقع کہتے ہیں ، نتیجتاً آج بھارتی مسلمان نسل کشی کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔
دلت مسلم ایکتا فرنٹ (ایک تجزیہ)
راقم الحروف ایک میٹنگ میں تھا ، مسلمانوں کے حالات پر غوروفکر ہورہا تھا مختلف تجاویز آرہی تھی ایک صاحب نے اپنی مرتب کردہ طویل تجویز پیش کی اس تجویز میں کچھ چبھتے ہوئے سوال بھی تھے ، ایک سوال یہ تھا کہ ”بڑی جماعتیں اور موجودہ قیادت کس حد تک ہمیں برداشت کر سکے گی اور یہ عین ممکن ہے کہ زعفرانی حکومت کے ساتھ مل کر کوئی خطرناک کھیل کھیلیں ؟“ حقیقت یہ ہے کہ بیدار مغز لوگوں کے سامنے جہاں حکومت اور ایجنسیوں کا خطرہ ہے وہیں مسلمانوں کی موجودہ قیادت سے بھی زبردست خطرہ پیدا ہوگیا ہے
تحریر توصیف القاسمی (مولنواسی)
مقصود منزل پیراگپور سہارن پور
واٹسپ نمبر 8860931450
ان لنکوں پر کلک کرکے خرید داری کریں اور پیسے بچائیں

Pingback: قتل کا ذمے دار کون موقف و مطالبہ ⋆ اردو دنیا