تالیف قلب مسلم سوسائٹی کی ایک ذمے داری ہے
تالیف قلب مسلم سوسائٹی کی ایک ذمے داری ہے ؟؟؟
دین کی حکمت بھری دریا دلی دیکھیں کہ اس نے مولفۃ القلوب کے تعاون و امداد کو زکوٰۃ کے مصارف میں درج کیا ہے۔سورہ توبہ کی آیت نمبر ساٹھ میں آٹھ مصارف زکوٰۃ میں چوتھے نمبر پر ہی مولفۃ القلوب کا ذکر آیا ہے۔اس کے پیچھے بس اتنا مقصد تھا کہ نو مسلم یا ضعیف الایمان لوگوں کی امداد کر کے ان کو دین پر ثابت قدم رکھا جائے۔ان کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے۔کیوں کہ آدمی فطری طور پر ہر ستم جھیل سکتا ہے لیکن بھوک کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔
پیٹ کی آگ کمپرومائز کرنے پر مجبور کرتی ہے۔اسی لیے دین کی یہ فراخ دلانہ تھیوری زمانۂ رسالت سے لے کر عہد صدیقی میں بھی نافذ العمل رہی۔غلبۂ اسلام کے بعد مولفۃ القلوب کے اس شعبہ کو حضرت عمر کے ایک فیصلے سے معطل کر دیا گیا۔
جوں ہی اسلامی ریاستیں زوال پذیر ہوئیں۔اقتدار باطل طاقتوں کے حصے میں آیا تو بر صغیر کے مسلمانوں نے خود کو ہر اس کام سے الگ تھلگ رکھنے کو ترجیح دی جو کام پڑوس کے ٹھاکر، چودھری، دوبے، ورما، اور یادو کو برا لگتا ہو۔جب کہ یہ عمل بذات خود بزدلی پر مبنی ہے۔ تالیف قلوب اگرچہ ساقط ہے تاہم یہ اپنی افادیت و اہمیت کے سبب بطریق استحباب باقی ہے۔
اوارہ گردوں کے لیے دین محمدی کی سربلندی کی باتیں کرنا کسی سڑک چھاپ حکیم کے شفا خانے میں ملنے والا ایک آسان نسخہ ہے جو سو دو سو میں دستیاب ہو جاتا ہے۔مگر سربلندی کی تدبیریں کرنا جوئے شیر لانے جیسا ہے۔
دفاع ملت و تبلیغ اسلام کی عملی جد وجہد موجودہ عہد میں باطل سے پنجہ آزمائی کے مترادف ہے۔جیسے محرم آتے ہی ہند کے بعض علاقوں میں تاڑی، شراب و جوا کے رسیا لوگ علمدار کربلا کے علم و شبیر کے تعزیہ کا اہتمام کچھ اس شان سے کرتے ہیں مانو ان کے روم روم میں جذبۂ عباس، نس نس میں صبر و استقامت حسین رچا بسا ہے۔روئے زمین پر بس یہی مٹھی بھر لوگ حسین کے مشن پر کاربند ہیں باقی سب تو ہباے منثور ہی ہیں۔جب کہ یہ عاشورے کو بھی بنا تاڑی شراب کے نعرۂ حسینی نہیں لگاتے۔
دو ہزار دس میں مظفرپور کا ایک نو مسلم شخص میرے اقتدا میں اکثر نماز ادا کیا کرتا تھا۔توفیق خیر کہیے کہ اس نے پورے گھربار کے ساتھ اسلام اپنایا تھا۔ایک دن اس نے مجھے اپنا درد دل سنایا کہ اس کی تین جوان بیٹیاں ہیں۔تینوں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہیں۔لیکن دقت یہ ہے کہ دھرم بدلنے کی وجہ سے کسی ہندو لڑکے سے بیاہ نہیں سکتے۔اور مسلم سماج کے شریف لونڈے جائز رشتے کے لیے نو مسلم کو اچھوت سمجھ کر منہ لگانے کو تیار نہیں۔
ایسے حالات فیس کرنے کی وجہ سے اکثر وہ لڑکیوں کی شادی کو لے کر بہت پریشان دکھتا تھا۔
اس وقت تک کسی بھی مقدس مسلمان نے کسی بھی اینگل سے اس نو مسلم کی مدد نہیں کی تھی۔مجھے اس وقت بھی ڈر تھا کہ کہیں یہ مجبور بندہ حالات اور سماج کے دباؤ میں آکر گھر واپسی نہ کر لے۔کیوں کہ تالیف قلب کی باتیں اب صرف کتابوں میں ہی رہ گئی ہیں۔حقیقت میں ہم لوگ بڑے خود غرض ثابت ہوئے ہیں۔
سننے میں آ رہا ہے کہ آیوش ملک جو مسلمان بن گیا تھا اس نے پھر سے ہندو دھرم اپنا لیا ہے۔ اس طرح اس کی گھر واپسی ہو گئی ہے۔پر بندہ کرے بھی تو کیا کرے۔جب اس کا سماج اس قدر پریشر ڈالے گا۔جب گھر پریوار کے لوگ جذباتی کارڈ کھیلیں گے تو ایک نیا آدمی ہتھیار ڈال ہی دے گا۔کوئی بھی جنگ لڑنے کی اس وقت ہمت و حوصلہ دکھاتا ہے جب اسے سپورٹ کرنے والے پیچھے کھڑے ہوں۔یہا تو ہندو وادی گروہ کا اس قدر شدید دباو رہتا ہے کہ اعتماد و یقین سے ثابت قدم دلیر بھی ٹوٹ جانے میں ہی بھلائی سمجھتا ہے۔
ہمارے ایک طبقے کو یہ خبر شاید اتنا ذائقہ دار نہ لگے مگر یہ اہل بصیرت مسلمانوں کے لیے نیک شگون تو قطعی نہیں ہے۔اس میں سوچنے اور سمجھنے کی بس اتنی سی بات ہے کہ جب ہمارے لوگ مشکل حالات میں اپنوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو یہ کسی نو مسلم کے ساتھ کھڑے ہوں گے یہ ایک خیالی بات ہے۔ہم نے ملت کے کتنے سچے اور جاں ںاز پہریداروں کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔
انہیں زندان کی گھٹن میں تڑپنے سسکنے کے لیے بے یار و مددگار چھوڑ رکھا ہے۔افسوس اس کا ہے کہ وہن زدہ جتھے کو سپاہ محمدی کی نمائندگی سونپی گئی ہے جو باعث شرم و لائق ننگ ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ جو لوگ ظالم کے خوف پر حکمت اور طاغوت کی دہشت پر مصلحت کا رنگ چڑھا کر چین کی نیند لیتے ہیں
انہیں یہ باور کرایا جائے کہ عن قریب قوم تمہارے سروں سے قیادت و امامت کی دستار نوچ لے گی۔ایئر کنڈیشنڈ مسجد میں نماز پڑھنا پڑھانا الگ بات ہے اور ظالم کے آگے سینہ سپر ہونا بہت ہی الگ۔مصلی اور مجاہد کا یہ فرق بہت گہرا ہے۔ہماری صفوں میں ایسے بہت لوگ ہیں جو بوقت ضرورت سر اٹھا کر مجاہدانہ کردار دکھانے کے بجائے سجدے میں چلے جانے کو رسم شبیری سے تعبیر کرتے ہیں۔
ذلت سے تو بہتر ہے کہ اک جنگ لڑو تم
یوں ہار بھی جاؤ گے تو بزدل نہ رہو گے
مشتاق نوری