سچ بولنے کا بہترین بدلہ

Spread the love

سچ بولنے کا بہترین بدلہ

حافظ عبدالله عظمت الله طالب جامعة الامام محمد بن سعود الإسلامية سچ بولنے پر بہترین بدلہ ملنے کے متعدد واقعات کتابوں میں موجود ہیں۔ قرآن وحدیث میں مذکور ایک واقعہ پیش ہے: ۹ ہجری میں واقع ہونے والے غزوۂ تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل نہ ہونے والے تین حضرات: حضرت کعب بن مالک، حضرت مرارہ بن ربیع اور حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہم ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے غیرحاضری کے متعلق سوال فرمایا تو انہوں نے جھوٹ سے گریز کرتے ہوئے تمام صورت حال سچ سچ عرض کردی

اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ عنایت فرمائی کہ ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو اس عظیم نعمت کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا: تمہیں اس دن کی خوش خبری جو کہ تمہاری والدہ کے جنم دینے کے دن سے لے کر آج تک کے تمام دنوں سے تمہارے لیے بہترین ہے

لیکن جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بولا، اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق سورۃ التوبہ میں آیات نازل فرمائیں جوکہ پانچ دنیوی واخروی سزاؤں سے متعلق ہیں :۱- ان کے ساتھ قطع تعلق کا حکم: “فأعرضوا عنهم” ان سے اعراض کرو۔ ۲- ان پر ناپاک ہونے کا حکم: “إنهم رجس” بلاشبہ وہ ناپاک ہیں۔حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں:یعنی ان کے باطن اور اعتقادات خبیث ہیں۔ ۳- ان کا ٹھکانا جہنم “ومأواهم جهنم “ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ علامہ قرطبی ؒ اس کی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں : یعنی ان کی منزل اور جگہ (جہنم ہے)۔ 4 – اللہ تعالیٰ کا اُن سے راضی نہ ہونا: “فإن ترضوا عنهم فإن الله لا يرضى عن القوم الفاسقين ” تو اگر تم ان سے راضی بھی ہوگئے تو یقینا اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔ ۵- ان کو فاسق قرار دینا: علماء فرماتے ہیں کہ ضمیر کے بجائے فاسقین کا لفظ استعمال کیا گیا، تاکہ ان کے بارے میں یہ نشاندہی کی جاسکے کہ وہ اطاعتِ (اِلٰہیہ) سے نکل چکے ہیں اور یہی بات ان پر نازل ہونے والے عذابوں کا سبب بنی۔

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سچ بولنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونے والی نوازشات کا تقابل جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی ناراضگی سے کرتے ہوئے بیان فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ کی توفیق سے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد میری نظر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو اس سچ بولنے سے بڑھ کر مجھ پر کوئی احسان نہیں ہوا کہ میں نے جھوٹ نہیں بولا اور ایسے ہلاک نہیں ہوا جیسا کہ جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوگئے تھے، بذریعہ وحی اس قدر شدید وعید فرمائی کہ اتنی سخت کسی دوسرے کے لیے نہیں فرمائی گئی۔‘‘ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اس میں سچ کا فائدہ ہے اور جھوٹ کے انجامِ نحوست کی وضاحت ہے۔

سچ بولنے پر تینوں حضرات کو اللہ کی جانب سے توبہ کی توفیق ملی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوئے، جبکہ دیگر منافقین نے جھوٹ کا سہارا لیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وحی کے ذریعہ اُن کے جھوٹے ہونے کے متعلق اطلاع فرمادی تھی، اس لیے ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔

جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہے، اگر ہم نے کبھی جھوٹ بولا ہے تو اللہ تعالیٰ سے پہلی فرصت میں معافی مانگیں، کیونکہ کبیرہ گناہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے مستقل توبہ ضروری ہے۔

بعض مواقع پر جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے، مثلاً میاں بیوی میں شدید اختلاف ہوگیا ہے، اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے صلح ہوسکتی ہے تو بدرجہ مجبوری اس کی اجازت ہے

لیکن جھوٹ بولنے کی عادت بنانا یا کسی شخص کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے اور اس کے معاشرہ میں بڑے نقصانات ہیں۔ اے اللہ! ہمیں سچ بولنے کی توفیق عطا فرمااور اس کے ثمرات سے مالا مال فرما۔ جھوٹ اور اس کے زہریلے اثرات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہمیں محفوظ فرما، آمین، ثم آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *