مہنگائی کا بوجھ پس رہا ہے مڈل کلاس انسان

Spread the love

مہنگائی کا بوجھ پس رہا ہے مڈل کلاس انسان

از: اوشین شوکت (جموں کشمیر)


ہم ایک ایسے وقت میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی ایک نئے عروج کو چھو رہی ہے۔ بازاروں میں جائیں تو ہر چیز کی قیمت بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ کل جو چیز سستی تھی، آج مہنگی ہے، اور جو آج مہنگی ہے، کل شاید اور بھی دور ہو جائے گی۔ یہ بڑھتی ہوئی مہنگائی صرف ایک خبر نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جو ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔


لیکن اگر اس مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر کسی طبقے پر پڑ رہا ہے تو وہ ہے مڈل کلاس وہ طبقہ جو نہ اتنا امیر ہے کہ ہر مشکل کو آسانی سے سہہ لے، اور نہ اتنا غریب کہ اسے سرکاری امداد مل سکے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے ہر بوجھ اٹھاتے ہیں، بغیر کسی شکایت کے، بغیر کسی آواز کے۔ ایک مڈل کلاس انسان کی زندگی بظاہر عام لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے ایک نہ ختم ہونے والی جدوجہد چھپی ہوتی ہے۔


صبح سویرے گھر سے نکلنے والا وہ شخص صرف نوکری پر نہیں جا رہا ہوتا، بلکہ اپنے بچوں کے خواب، اپنے گھر کی ذمہ داریاں، اور اپنی امیدیں اپنے کندھوں پر اٹھائے چل رہا ہوتا ہے۔ وہ دن بھر محنت کرتا ہے، تھک جاتا ہے، مگر اس کے ذہن میں ایک ہی فکر ہوتی ہے “گھر کا خرچ کیسے پورا ہوگا؟” گھر میں ایک ماں ہوتی ہے جو مہنگائی کے اس طوفان میں بھی گھر کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے۔

وہ بجٹ بناتی ہے، چیزوں کو کم کرتی ہے، اپنی خواہشات کو دباتی ہے تاکہ بچوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ کئی بار وہ خود کی پسند کو قربان کر دیتی ہے، مگر کبھی شکایت نہیں کرتی۔بچے بھی اس حقیقت کو سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو دل میں ہی دبا لیتے ہیں۔ کبھی کسی کھلونے کی ضد نہیں کرتے، کبھی کسی مہنگی چیز کا مطالبہ نہیں کرتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے والدین پہلے ہی بہت کچھ سہہ رہے ہیں۔


مہنگائی صرف جیب پر اثر نہیں ڈالتی، یہ دل اور ذہن پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کی خواہش پوری نہ کر سکے تو اسے اندر سے تکلیف ہوتی ہے۔ جب ایک ماں اپنے گھر کا خرچ پورا کرنے کے لیے ہر چیز کو تول تول کر استعمال کرے تو اس کا دل بھی بوجھل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ درد ہے جو دکھائی نہیں دیتا، مگر محسوس ضرور ہوتا ہے۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مڈل کلاس نہ تو کھل کر مدد مانگ سکتا ہے، اور نہ ہی اپنی پریشانی ظاہر کر سکتا ہے۔ وہ اپنی عزتِ نفس کے ساتھ جیتا ہے، اور اسی کے ساتھ خاموشی سے ہر مشکل برداشت کرتا ہے۔ آج کے دور میں تعلیم، صحت، کرایہ، بجلی، گیس ہر چیز کی قیمت بڑھ چکی ہے۔


ایک عام انسان کے لیے ان سب کو سنبھالنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کئی لوگ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ایک معاشرہ کیسے ترقی کر سکتا ہے جب اس کا سب سے محنتی طبقہ ہی دباؤ میں ہو؟ جب وہ لوگ جو ایمان داری سے کام کر رہے ہیں، وہی سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہوں؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔ ایسے اقدامات کیے جائیں جو مڈل کلاس کو ریلیف دیں، مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے، اور بنیادی ضروریات کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھا جائے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بھی بننا ہوگا۔ ہمیں اپنے اردگرد موجود لوگوں کی حالت کو سمجھنا ہوگا، ان کے درد کو محسوس کرنا ہوگا، اور جہاں ممکن ہو ان کی مدد کرنی ہوگی۔
کیوں کہ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں لوگ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی جیتے ہیں۔ آج وقت آ گیا ہے کہ ہم اس خاموش جدوجہد کو پہچانیں، اس درد کو سمجھیں، اور اس کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔ کیونکہ مڈل کلاس کی یہ خاموش لڑائی صرف ان کی نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے ۔
آواز اٹھاؤ! مہنگائی کے خلاف؛ کیوں کہ خاموشی بھی ایک بوجھ بن جاتی ہے!۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *