ویرعبدالحمید جرات، قربانی اور حب الوطنی کی لازوال داستان
ویرعبدالحمید جرات، قربانی اور حب الوطنی کی لازوال داستان
شمس آغاز
ہندوستان کی عسکری تاریخ میں کچھ ایسے نام ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جنہیں وقت کی گرد کبھی دھندلا نہیں سکتی۔ یہ وہ عظیم شخصیات ہوتی ہیں جنہوں نے اپنی جان، اپنے آرام اور اپنی خواہشات کو وطن کی سلامتی اور عزت پر قربان کر دیا۔ ایسے ہی لازوال کرداروں میں ویر عبدالحمید کا نام سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی حب الوطنی، جرات، فرض شناسی اور قربانی کی ایسی روشن مثال ہے جس پر ہندوستانی فوج کو ہمیشہ فخر رہے گا۔ انہوں نے 1965 کی ہند-پاک جنگ میں جس بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی عسکری تاریخ کے اہم ترین ابواب میں شمار کیا جاتا ہے۔
ویر عبدالحمید یکم جولائی 1933 کو اتر پردیش کے ضلع غازی پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں دھامو پور میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک سادہ، محنتی اور متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد محمد عثمان پیشے کے اعتبار سے درزی تھے، جبکہ والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ گھر کے حالات اگرچہ زیادہ خوشحال نہیں تھے، لیکن والدین نے اپنے بچوں کی تربیت دیانت داری، محنت اور خودداری کے اصولوں پر کی۔ عبدالحمید بچپن ہی سے نہایت بہادر، خوداعتماد اور مضبوط ارادوں کے مالک تھے۔ وہ جسمانی طور پر بھی چست و توانا تھے اور کھیل کود کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کی مدد کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔
کم عمری ہی سے ان کے دل میں وطن کی خدمت کا جذبہ موجزن تھا۔ یہی جذبہ انہیں ہندوستانی فوج تک لے گیا اور 27 دسمبر 1954 کو انہوں نے فوج میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ انہیں مشہور 4 گرینیڈیئرز رجمنٹ میں شامل کیا گیا، جو اپنی بہادری اور شاندار جنگی روایات کے لیے معروف ہے۔ فوجی تربیت کے دوران ہی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں نے اپنے افسران کو متاثر کیا۔ وہ بہترین نشانہ باز تھے، حالات کا فوری اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور ہر مشکل صورتِ حال میں پُراعتماد رہتے تھے۔ اپنی محنت، فرض شناسی اور بہترین کارکردگی کی بدولت وہ جلد ہی ساتھی فوجیوں اور افسران کے درمیان ایک قابل اعتمادد سپاہی کے طور پر پہچانے جانے لگے۔
1965 میں جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑی تو یہ دونوں ممالک کی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار کی گئی۔ اس جنگ میں پاکستان کے پاس جدید امریکی ساختہ پیٹن ٹینک موجود تھے، جنہیں اس زمانے کے طاقتور ترین جنگی ٹینکوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ پاکستانی فوج کو ان جدید ٹینکوں پر کافی اعتماد تھا۔ پنجاب کے کھیم کرن سیکٹر، خصوصاً اسل اُتر کا محاذ، جنگ کا سب سے اہم میدان بن گیا، جہاں دشمن کے بھاری ٹینک تیزی سے پیش قدمی کر رہے تھے۔
ایسے نازک حالات میں ویر عبدالحمید نے وہ جرات دکھائی جس کی مثال عسکری تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی بھاری ٹینک تھا اور نہ ہی جدید جنگی سازوسامان، بلکہ وہ صرف ایک جیپ پر نصب 106 ملی میٹر ریکائل لیس گن کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی جنگی حکمتِ عملی سے دشمن کے ٹینکوں پر اچانک حملے کیے، ہر حملے کے بعد اپنی پوزیشن تبدیل کی اور دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ ان کی بے مثال نشانہ بازی کے نتیجے میں متعدد پاکستانی پیٹن ٹینک تباہ ہوئے، جن میں کم از کم تین ٹینکوں کی تباہی تاریخی طور پر مستند سمجھی جاتی ہے۔ ان کی اس غیر معمولی بہادری نے دشمن کی پیش قدمی روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور ہندوستانی فوج کے حوصلوں میں نئی جان ڈال دی۔
جنگ کے دوران عبدالحمید نے اپنی جان کی کوئی پروا نہیں کی۔ ان کا واحد مقصد اپنے وطن کا دفاع تھا۔ وہ مسلسل دشمن کے سامنے ڈٹے رہے اور ہر بار پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ حملہ کرتے رہے۔ ان کی بہادری نے ہندوستانی فوج کے دوسرے جوانوں کے حوصلے بلند کیے اور اسل اُتر کے محاذ پر دشمن کی پیش قدمی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس معرکے کے بعد اس علاقے میں بڑی تعداد میں پاکستانی پیٹن ٹینک تباہ یا قبضے میں آئے، جس کے باعث یہ علاقہ بعد میں پیٹن نگر کے نام سے بھی مشہور ہوا۔
10 ستمبر 1965 کو ایک بار پھر وہ دشمن کے ٹینکوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے ایک اور دشمن کے ٹینک کو کامیابی سے تباہ کیا، لیکن اسی دوران دشمن نے ان کی پوزیشن کا اندازہ لگا لیا۔ شدید گولہ باری میں ان کی جیپ نشانہ بن گئی۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آخری لمحے تک دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔ بالآخر وہ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی شہادت نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا اور ہر ہندوستانی کے دل میں حب الوطنی اور قربانی کے جذبے کو مزید مضبوط کیا۔
ویر عبدالحمید کی اس بے مثال قربانی کے اعتراف میں حکومت ہند نے انہیں بعد از شہادت ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز، پرم ویر چکر، سے نوازا۔ یہ اعزاز صرف انہی فوجیوں کو دیا جاتا ہے جو میدان جنگ میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر غیر معمولی شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کریں۔ عبدالحمید نے ثابت کر دیا کہ جدید ہتھیاروں سے زیادہ اہم مضبوط ارادہ، درست حکمت عملی اور وطن سے سچی محبت ہوتی ہے۔
ان کی شہادت کے کئی عشروں بعد بھی ان کی یادیں ہندوستان کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کے آبائی گاؤں دھامو پور میں ان کی یادگار قائم کی گئی ہے، جہاں ہر سال یکم جولائی کو ان کی یومِ پیدائش اور 10 ستمبر کو یومِ شہادت کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ انہیںخراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں سڑکیں، اسکول، پارک اور دیگر عوامی مقامات ان کے نام سے منسوب کیے گئے ہیں۔ ان کی بہادری کے واقعات ہندوستانی فوج میں ایک مثال کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں تاکہ نئی نسل کے فوجیوں میں فرض شناسی، قربانی اور حب الوطنی کا جذبہ مزید مضبوط ہو۔
ویر عبدالحمید کی زندگی آج کے نوجوانوں کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے۔ وہ یہ سبق دیتے ہیں کہ عظمت صرف بڑے وسائل رکھنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ مضبوط کردار، ایمانداری، محنت، ہمت اور وطن سے محبت انسان کو ہمیشہ کے لیے امر بنا دیتی ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک عام گھرانے کا نوجوان بھی اپنی محنت، صلاحیت اور قربانی سے پوری قوم کے لیے قابل فخر مثال بن سکتا ہے۔
آج جب دنیا جدید ٹیکنالوجی، تیز رفتار ترقی اور بدلتے ہوئے حالات کے دور سے گزر رہی ہے، تب بھی ویر عبدالحمید کی داستان اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ وطن کی حفاظت اور قومی مفاد ہر ذاتی مفاد سے بڑھ کر ہے۔ قومیں صرف جدید ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایسے بہادر، مخلص اور فرض شناس سپاہیوں کی قربانیوں سے مضبوط بنتی ہیں۔
ویر عبدالحمید کا نام ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ عزت، فخر اور احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔ ان کی بہادری، ایثار اور حب الوطنی آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہے اور رہے گی۔ جب بھی وطن کی خاطر قربانی دینے والوں کا ذکر ہوگا، ویر عبدالحمید کا نام ہمیشہ نمایاں اور روشن ستارے کی طرح تاریخ کے صفحات میں جگمگاتا رہے گا۔
شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
9716518126