تو نہیں تھا تیرے ساتھ ایک دنیا تھی
___تو نہیں تھا تیرے ساتھ ایک دنیا تھی !! [علامہ ہاشم نعیمی کی تیسری برسی پر خراج تحسین]
مفتی غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
کہتے ہیں علم علما کے ساتھ چلا جاتا ہے، واقعی ہمارے أستاذ گرامی ماہر معقولات پروفیسر علامہ ہاشم نعیمی کے وصال کے بعد ایسا ہی محسوس ہوا
جیسے ان کے ساتھ ساتھ علم کا ایک جہان بھی رخصت ہو گیا….. جامعہ نعیمیہ کے در و دیوار اس علمی رنگ و روغن سے محروم نظر آتے ہیں جو علامہ صاحب کی موجودگی میں گل زار رہا کرتے تھے…… ان کا وجود درس گاہی برکتوں کے ساتھ ساتھ دیگر علمی، فکری اور سماجی امور میں بھی رہبری و رہ نمائی کی ضمانت تھا
انہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ کوئی تو ایسا ہے جو بڑے سے بڑے لا ینحل مسئلے کو سلجھا سکتا ہے….. ان کی موجودگی محفلوں کو لالہ زار بنائے رکھتی تھی….. جو سفر میں بے تکلف دوست نظر آتے تو حضر میں با وقار مربی
مذہبی جلسوں میں ان کی خطابت درجنوں خطابات کا مواد فراہم کرتی تو ان کی فلسفیانہ گفتگو کتنے ہی سوالوں کا جواب بن جاتی…. جن کا خدا داد انداز تفہیم اپنی مثال آپ تھا
جن کی تقریباً ستر سالہ تدریسی زندگی جامعہ نعیمیہ کی بہترین تاریخ اور سرمایہ ہے
جن کے وجود کی کشش سے طلبہ دور دور سے کھنچے چلے آتے تھے….. جو سادگی میں بھی وقار و تمکنت کی تصویر نظر آتے تھے…. جو طلبہ پر ہمیشہ شفیق باپ کی طرح مہربان رہے
لہجے کی کاٹ، چہرے پر کرختگی اور زبان کی سختی جنہیں چھو کر بھی نہیں گزری…..جو ہمیشہ ہی مسکراتے نظر آئے
جنہیں شہرت بھلے ہی منطق و فلسفے کی بنیاد پر ملی مگر ان کی درس گاہ میں تفسیر و حدیث کے نظارے بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے…. ایک ایسی ذات جو زندگی بھر مناصب اور عہدوں سے بے نیاز رہی
جو عہدوں کی کھنیچا تانی پر بڑی بے نیازی سے یہ شعر سنایا کرتے تھے:من و کوئے بے نیازی، کہ بود طریق عاشقز ہوا جدا نشستن، ز ہوس کنارہ کردنجو ہر محفل میں چھا جانے کا فطری ہنر رکھتے تھے…. ادب کی نزاکت ہو یا فقہ کی مہارت، وہ سب کو بڑی نفاست سے نبھاتے…. سیاسی امور ہوں کہ سماجی مسائل ان کی رائے مہارت و اعتدال کا منہ بولتا ثبوت ہوتی تھی
جو لباس کے ساتھ ساتھ دستر خوان پر بھی تہذیب و شائستگی کی بہترین مثال تھے…. جن کی محفل حسرت و یاس کو ختم کرنے والی اور خوشی کو قریب لانے کا ذریعہ ہوتی تھی
انہوں نے کبھی اپنے علمی قد کا گمان کیا نہ کسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی
ہاں کبھی کبھی بہ طور تحدیث نعمت یہ شعر ضرور سناتے تھے؛خود کو منوانے کا مجھ کو بھی ہنر آتا ہےمیں وہ قطرہ ہوں سمندر میرے گھر آتا ہے