جہانگیر پوری واقعہ بے حس حکم ران اور جمہوریت کی نیلامی

Spread the love

از قلم : سید سرفراز احمد، بھینسہ جہانگیر پوری واقعہ بے حس حکم ران اور جمہوریت کی نیلامی

کسی بھی سیکولر ملک کی بقاء کا انحصار جمہوریت پر ہوتا ہےاگر وہی تارتار ہوتا جائے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس ملک کی جمہوریت آخری سانسیں لے رہی ہیں

بالکل یہ پس منظر موجودہ بھارت کا ہے ایک طرف ملک آزادی کا75ویں امرت مہا اتسو منارہا ہے تو دوسری طرف اسی آزادی کے پرخچے اڑائے جارہے ہیں جمہوریت کو داغدار بنایا جارہا ہے آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں

لیکن کسی بھی حکمران کے دل پر اسکا کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے ایسا لگ رہا ہیکہ ہر کسی کو سانپ سونگھ گیا ہے یا پھر یوں سمجھا جائے کہ یہ سب چیزوں کا بھی ہونا ہر کسی کی دلی تمنا بھی تھی کیوں کہ رام نومی جلوس سے جس تیزی کے ساتھ ملک کے مسلمانوں سے جو سفاکی اور ظلم کا سلوک کیا جارہا ہے وہ اسرائیل اور فلسطین کی یاد تازہ کررہا ہے ـ

ویسے تو پچھلے سات سالہ عرصہ میں قابض حکم رانوں کا برتاؤ جو ملک کے مسلمانوں کے ساتھ رہا ہے جس کا نظارہ پوری دنیا دیکھ چکی ہے ان سات سالوں میں مسلمانوں کے خلاف اتنا زہر گھولا گیا کہ اکثریت کی رگ رگ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھر چکی ہے

جس کے نظارے ہم نے رام نومی جلوس پر تشدد کے روپ میں پورے ملک کی بیشتر ریاستوں میں دیکھی ہے جس طرح سے یوپی میں یوگی نے بلڈوزر کی سیاست سے اپنی قسمت کو داؤ پر لگایا تھا اور جیت حاصل کی تھی ان ہی کے نقش قدم پر چل کر مدھیہ پردیش نے مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلایا اور آبادی کوایک جھٹکہ میں سپاٹ کردیا

اسی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے دہلی کے جہانگیر پوری علاقہ میں پہلے تشدد برپا کیا گیا پھر دہلی مونسپل کارپوریشن کی جانب سے رات کی تاریکی میں ایک سرکولر جاری کردیا جاتا ہے

اور دوسرے دن صبح جہانگیر پوری میں ناجائز قابض گھروں پر بلڈوزر چلادیا جاتا ہے

اور دیکھتے ہی دیکھتے انہدامی کاروائی کو انجام بھی دیا جاتا ہے حالاں کہ جمعیت العلماء نے عدالت اعظمی میں کام یاب پیروی کرتے ہوئے اس کاروائی پر روک لگانے کا حکم نامہ حاصل کرلیا تھا

باوجود عدالت اعظمی کے حکم نامہ کے بعد بھی بلڈوزر کی کاروائی مسلسل دو گھنٹے تک جاری رہی اور وہاں کی مسجد کو بھی بیرونی حصہ پر بلڈوزر سے نقصان پہنچایا گیا

 

جس کے بعد کئی سوال دل دماغ میں کھٹکنے لگے ہیں کہ آخر عدالت اعظمی کے روک لگانے کے بعد بھی بلڈوزر کی کاروائی کو کیوں نہیں روکا گیا؟

کیا یہ عدالت اعظمی کے حکم کی توہین نہیں ہے؟

اس طرح سے بلڈوزر کی کاروائی تشدد کے بعد ہی کیوں کی جارہی ہے؟

اور یہ تشدد کون پھیلا رہا ہے؟

یہ دونوں سوالات علحدہ علحدہ نہیں ہے بلکہ ایکدوسرے سے بہت گہرا تعلق رکھتے ہیں پہلے تو اشتعال انگیز بیان بازی کی جاتی ہے اور مسلمانوں کوٹھیس پہنچانے کے لیے مذہبی جذبات کا سہارا لیا جاتا ہے تب بھی اگر مسلمان صبر کرلے تو مساجد کو نشانہ بنایا جاتا ہے پتھراؤ کیا جاتا ہے

اگر چہ مسلمان اپنے دفاع کے لیے زرا سی کیا ہلچل کردے تو مسلمان پر ہی فسادی ہونےکا ٹھپہ لگادیا جاتا ہے اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں خواتین پر پولیس کا ظلم گھروں پر بلڈوزر چالانا یہ سب ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے

اس جہانگیر پوری واقعہ پر نظر ثانی کرتے ہیں تو ارویند کیجروال کا سیکولر چہرہ بھی دوسری بار بے نقاب ہوا ہے جب دہلی فسادات ہوئے تو کیجروال نے نظم و نسق اپنے ہاتھ میں نہ ہونے کا بہانہ بنا کر اپنے کٹر ہونے کا ثبوت دیا تھا

پھر ایک بار کیجروال نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا کہ جب جہانگیر پوری کے غریب مسلم خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلایا جارہا تھا لیکن کیجروال ٹس سے مس نہیں ہوئے اور نہ کسی حکم ران پر جوں رینگی نہ اپوزیشن سیکولر قائدین راجدھانی میں ہوتے بھی راجدھانی کے مسلمانوں کا ظلم اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے

لیکن کسی نے میدان نہیں سنبھالا اور نہ کسی نے ان سسکتی بلبلاتی ماؤں اور بہنوں کا کوئی سہارا بنا جو درد کی سسکیاں ہر آن بھر رہی تھیں

سب سے بڑا سوال دہلی کے وزیر اعلی کیجریوال کی خاموشی پر اٹھتا ہے کہ آکر کیجروال نے اس بستی کو منہدم ہونے سے پہلے اسے روکا کیوں نہیں؟

اگر وہ چاہتے تو بلڈوزر کی کاروائی کو روک سکتے تھے لیکن روکنا تو دور روکنے کی کوشش بھی نہیں کی کیا یہ سیکولر قائد ہوسکتے؟

کیا یہ مسلمانوں کے ہم درد ہوسکتے؟

کیا یہ اچانک انہدامی کاروائی جمہوریت کی نشانی ہے؟

کیا یہ دستور کی خلاف ورزی نہیں ہے؟سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہیکہ اگر ڈی ایم سی غیر قانونی مکانات تعمیر کرنے والوں پر بلڈوزر چلانا چاہتی ہے تو کیوں نہیں پوری دہلی کا سروے کرکے تمام علاقوں میں غیر قانونی قابضین پر بھی بلڈوزر چلانا نہیں چاہتی؟

یا پھرصرف جہانگیر پوری علاقہ ہی غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے یہ سب ایک چال کے تحت ہے مسلمانوں کی املاک کو چن چن کر نشانہ بنایا جائے تاکہ مسلمانوں کی معیشت کو کمزور کیا جا سکے

انھیں ہراساں کرکے اکثریت کے آگے جھکنے پر مجبور کیا جاسکے لیکن ایسے یک طرفہ مسلمانوں سے سفاکانہ برتاؤ نے سیکولرزم کا ڈھونگ رچنے والوں کی قلعی کھول دی ہے جنکے اصلی چہرے بے نقاب ہوچکے ہیں جو نہ کبھی مسلمانوں کے ہم درد رہے ہیں

نہ کبھی رہیں گے بس مسلمانوں کو اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے رکھنا چاہتے ہیں لیکن مسلمانوں کو اور ملی قیادت کو ہوش میں آنا ہوگا اور ملکی سطح پر اپنی ایک سیاسی حیثیت قائم کرنی ہوگی

تب ہی ہم سینہ ٹھوک کر اپنے حقوق حاصل کرسکتے ہیں ورنہ ان سیکولر پارٹیوں نے پچھتر سالوں سے سوائے مسلمانوں کا خون چوسنے اور بغل میں رہ کر چھرا بھونکنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا ـ

فسادات اور شر انگیزی کے اصل مجرمین ہندوتوا حکومتیں اور ہندو مذہبی رہ منا ہیں ہندوتوا حکومتیں تو ایک عرصہ سے نفرت کی بیج بو رہی تھیں جن کی اب شاخیں بھی تنہ ور درخت کےروپ میں ظاہر ہوچکی ہیں

دوسری طرف ہندو مذہبی رہ نما ہیں جن کو ہندو توا حکومتوں نے زہریلے بیانات اور سماج میں اشتعال انگیزی پھیلانے کی آزادی دے رکھی ہے تب ہی انھوں نے اس نفرت کے ایجنڈہ کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کہی،

ملک سے بھگانے کی باتیں کہی، نماز، حجاب،ازان پر پابندی کی باتیں کہی جس سے ہندو طبقہ کے نوجوانوں کو محرکہ مل رہا ہے

اس کو بھی پڑھیں :  حجاب کو القاعدہ سے جوڑنے کی سازش

اور کھلی آزادی بھی تب ہی اس طرح کے تشدد رونما ہورہے ہیں اور تشدد برپا کرنے والوں کو پشت پناہی بھی مل رہی ہے اب یہ حقیقت بھی ہے اور ظاہر بھی ہورہا ہیکہ حکومتیں اس تعلق سے کچھ ٹھوس اقدامات بھی نہیں کررہی ہے

 

لہذا ایسے میں عدالت اعظمی کو حکومتوں سے جواب طلب کرنا چاہیئے اور بے لگام سادھوؤں سنتوں پر لگام کسنا چاہیئے تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں

کہ جمہوریت اس ملک میں باقی رہ سکتی ہے ورنہ عملی طور پر تو ملک میں جمہوریت کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا حکمرانوں پر ہندوتوا کی محبت کا بھوت سوارہے جن پر اتنی بے حسی طاری ہوچکی ہے کہ جنھیں دیکھ کر حیوان بھی شرم سارہوجائے

جمہوریت کی ہرروز کہیں نہ کہیں نیلامی ہورہی ہے جمہوریت کو کچرے کا ڈھیر بناکر رکھ دیا ہے اگر ملک کی عوام جمہوریت کا تحفظ کرنا چاہتی ہو تو اپنے زہنوں کو بدلنا ہوگا نفرت کا بویا ہوا بیج دل دماغ سے نکالنا ہوگا

آپس میں بین مذاہب کے دانش وران سر جوڑ کر ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا ملک سے نفرت کے ماحول کو ختم کرنا ہوگا تب ہی جمہوریت کا کھویا ہوا مقام لوٹایا جاسکتا ہے ورنہ ہر روز گلی سے لے کر دہلی تک ایسے ہی بلڈوزر چلتے رہیں گے اور ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ مظلوم مسلمان کی جگہ کوئی دوسرا بھی جگہ لے سکتا ہے ـ

سید سرفراز احمد، بھینسہ

رابطہ نمبر:-9014820913

2 thoughts on “جہانگیر پوری واقعہ بے حس حکم ران اور جمہوریت کی نیلامی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *