عشق رسول اور اعلیٰ حضرت
عشق رسول اور اعلیٰ حضرت
تحریر محمد زاہد علی مرکزی
چیئرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
راہِ نبی میں کیا کمی فرشِ بیاض دِیدہ کی
چادرِ ظل ہے مَلْگجی زیرِ قدم بچھائے کیوں
سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان(1856،1921) کی شاعری کمال کی ہوتی ہے اس سے پہلے والی قسط میں ہم نے آقا علیہ السلام کے “پاؤں” مبارک کو موضوع سخن بنایا تھا، آج پھر اس کی دوسری قسط لکھ رہے ہیں، تشبیہات و استعارات آپ کے یہاں جس اعلیٰ سطح کے پائے جاتے ہیں انھیں دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ تشبیہات و استعارات سرکار اعلیٰ حضرت کی شاعری میں اپنی معراج کو پہنچے ہوے تھے، چلیے شعر کی جانب چلتے ہیں آج کا شعر ہے
راہِ نبی میں کیا کمی فرشِ بیاض دِیدہ کی
چادرِ ظل ہے مَلْگجی زیرِ قدم بچھائے کیوں
ویسے تو دیگر شعرا نے اپنے محبوبوں کے متعلق بڑی جاں فشانی اور عرق ریزی کی ہے اور اپنی بساط بھر کوشش کی ہے لیکن محبوب کے استقبال کے لیے مجھے مذکورہ شعر سے زیادہ اچھا شعر ابھی تک نہیں ملا، ہم پہلے کچھ کچھ اشعار دنیاوی شعرا کے پیش کرتے ہیں پھر سرکار اعلیٰ حضرت کے شعر کو موضوع سخن بنائیں گے۔
ایک شاعر محبوب کے استقبال پر کہتا ہے
یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے
بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں
کیا تمہیں پتہ ہے اے گلشن مرے دل بر آنے والے ہیں
کلیاں نہ بچھانا راہوں میں ہم دل کو بچھانے والے ہیں
شعرا کبھی آنکھیں بچھاتے ہیں تو کبھی دل و جگر، کوئی اپنے محبوب کے لیے پھول اور کلیاں بچھاتا ہوا نظر آتا ہے تو کوئی اپنے محبوب کے لیے چاند کی چاندنی کا فرش بچھاتا نظر آرہا ہے، آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے محبوب، ممدوح کے لیے کہیں ریڈ کارپٹ بچھاتے ہیں تو کہیں پھول اور کلیاں، مگر سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ نہیں محبوب دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ساری چیزیں بے کار ہیں، چاندنی کا فرش تو بہت پرانا ہو چکا ہے اور پُر داغ بھی ہے یعنی چاند پر جو داغ ہے اس کا اثر اس کی روشنی پر بھی جا بجا پڑ رہا ہے اس لیے اس کی چاندنی بھی داغ دار ہی ہے، لہٰذا آقا علیہ السلام کے استقبالیہ میں چاندنی کا فرش بھی نہیں بچھایا جا سکتا، قصیدہ معراجیہ کے ایک شعر میں سرکار اعلیٰ حضرت چاندنی کے فرش کے متعلق فرماتے ہیں
پرانا پُر داغ مل گجا تھا، اٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجوم تار نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش بادلے تھے
چاندنی کا فرش تو اٹھا دیا لیکن مصرع ثانی میں کیا کمال کی بات کی ہے فرماتے ہیں کہ ہم عشاق نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی راہ میں یہی لاکھوں سال پرانا، پُر داغ، مَل گجا سا فرش نہ بچھائیں گے بل کہ ہم عشاق تو اپنی آنکھوں کی روشنی کو کام میں لائیں گے اور اس قدر لائیں گے کہ وہ کوسوں یعنی میلوں تک قدم قدم فرش کا کام کرے گی، یعنی عشاق کی آنکھوں سے نکلنے والی روشنی کا ہجوم (تار نگہ) روشنی کا بھی کام کرے گا اور فرش کا بھی کہ روشنی سے زیادہ صاف شفاف اور کیا چیز ہو سکتی ہے؟
مذکورہ شعر ایک بار پھر پڑھیے اور عشق امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو محسوس کیجیے
پرانا پُر داغ مل گجا تھا، اٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجوم تار نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش بادلے تھے
اب اس شعر کی طرف آتے ہیں جو اس تحریر کا مقصد ہے
راہ نبی میں کیا کمی فرش بیاض دیدہ کی
چادر ظل ہے مَل گَجی زیر قدم بچھائے کیوں
فرماتے ہیں کہ کہ دنیا کے عشاق اپنے محبوب کے استقبال کے لیے نہ جانے کیا کیا بچھاتے ہیں جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، پھول، کلیاں، ریڈ کارپٹ، دودھیا سفید، چمچماتے فرش، مگر آپ فرماتے ہیں یہ سب بھی دنیا داروں کے ہاتھ لگنے سے مَل گجے ہوگئے ہیں، نیز “چادر ظل” یعنی سائے کی چادر بھی مَل گجی ہوگئی ہے، جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ جب دھوپ پورے شباب پر ہوتی ہے تو اس کی روشنی صاف ہوتی ہے، سب کچھ صاف دکھائی دیتا ہے، لیکن جب دھوپ ہلکی ہو جیسے بادل ہوگیا ہو یا پھر جہاں سایہ ہوتا ہے وہاں دھوپ کے مقابلے روشنی کچھ مَل گجی یعنی میلی میلی سی لگتی ہے
لہٰذا اس سائے کی چادر بھی مل گجی ہے ،جیسا کہ چاند کی چاندنی مَل گجی ہوگئی تھی، اسے بھی آقا علیہ السلام کے قدموں کے نیچے نہیں بچھایا جا سکتا ۔اگر ایسا ہے تو تو پھر کیا بچھایا جائے اور محبوب کا استقبال کیسے کیا جائے؟ کیا کسی دنیا دار عاشق کی طرح یہ کہ کر پلہ جھاڑ لیا جائے کہ انھیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ مرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے نہیں! یہ تو بے اعتنائی ہو گئی اور محبوب کی قدر ہی گھٹ گئی یعنی آپ محبوب سے ایسی محبت نہیں کرتے جس سے آپ کے دل میں اس کی عظمت ہو، ورنہ کہنے والوں نے تو یہ بھی کہا ہے کہ وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں سرکار اعلیٰ حضرت عاشقوں کے امام یوں ہی نہیں بن گئے، جس طرح ان کا محبوب عالی جاہ، معظم و مکرم، سید کونین ہے اسی طرح ان کا عاشق بھی عاشقی میں اکمل و اتم ہے، فرماتے ہیں
“راہ نبی میں کیا کمی فرش بیاض دیدہ کی”
اللہ کے نبی کی راہ میں کسی اور طرح کے پرانے، پُر داغ، مل گجے فرش بچھانے کی ضرورت نہیں ہے، اگر سفید فرش ہی بچھانا ہے تو پھر اس سے بہتر کوئی چیز نہیں کہ ہم عشاق کی آنکھوں کی سفیدی کو اکٹھا کر کے فرش بنایا جائے اور محبوب دو جہاں کے قدموں کے نیچے بچھا دیا جائے اور کہ دیا جائے
سرکار! ہم کمینوں میں طرز ادب کہاں
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے
یہ ہیں اعلیٰ حضرت اور یہ ہے ان کا عشق، اپنے محبوب کے استقبال کے لئے نہ تو لاکھوں سال پرانے چاند کی چاندنی بچھانا گوارا ہے اور نا ہی سائے کی چادر بچھانا روا سمجھتے ہیں، اگر کچھ قابل قدر سمجھتے ہیں تو وہ عشاق کی آنکھوں کی قدرتی سفیدی کو فرش بنانے کی بات کرتے ہیں، سچ فرمایا آپ نے
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں