سحری میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے
سحری میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے
دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آغاز ہونے والا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس مرتبہ روزے کا دورانیہ تقریبا 15 گھنٹے سے زائد ہوگا جب کہ موسم بھی انتہائی گرم ہوگا ۔
اور اس کو دیکھتے ہوئے سحری کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ ویسے بھی سحری کھا تا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور باعث برکت بھی مانی جاتی ہے جو صحت کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔
مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سحری میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے ؟
ویسے یہ ضرور جان لیں کہ سحری میں بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے ورنہ معدے کے مختلف مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سحری میں کیا نہیں کھانا چاہیے؟
ایسی غذاؤں سے گریز کریں جو بہت زیادہ مرچوں یا مصالحے دار ہوں، ان کے استعمال سے سینے میں جلن اور بدہضمی کا خطرہ بڑھتا ہے سحری میں زیادہ چائے پینے سے گریز کرنا چاہیے کیوں کہ کیفین سے جسم میں پانی کی سطح کم ہونے سے پیاس بڑھتی ہے۔
اسی طرح نمکین غذاؤں سے گریز کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے جسم میں پانی کی کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ زیادہ میٹھی اشیاء کھانے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیوں کہ یہ بہت تیزی سے ہضم ہوتی ہیں جس سے کچھ گھنٹے بعد ہی بھوک لگنے لگتی ہے
سحری میں کیا کھانا چاہیے؟
سحری کے وقت کاربوہائیڈریٹس سے بھر پور غذائیں جیسے روٹی اور آلو وغیرہ فائدہ مند ہوتی ہیں جو کہ ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتی ہیں جب کہ جسمانی توانائی کو دیر تک برقرار رکھتی ہیں ۔ فائبر سے بھر پور پھل اور اجناس جیسے کیلے، سیب اور جو وغیرہ بھی دیر تک پیٹ کو بھرے رکھتے ہیں۔
جب کہ قبض سے بچانے میں بھی مدد دیتے ہیں ، تاہم ان کی زیادہ مقدار کھانے سے گریز کرنا چاہیے، ور نہ پیاس زیاد لگتی ہے۔
پروٹین سے بھر پور غذا کو بھی سحری کا حصہ بنانا چاہیے جن میں انڈے، چکن ، دہی اور دالیں وغیرہ قابل ذکر ہیں ، پروٹینز روزے دار کو جسمانی طور پر متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ جسمانی توانائی کو بھی برقرار رکھتے ہیں ۔
زیادہ پانی والی غذائیں اور مشروبات وغیرہ بھی سحری کا حصہ بنائے جاسکتے ہیں ، کھیرے، ٹماٹر اور پانی وغیرہ دن بھر میں جسمانی طور پرست نہیں ہونے دیتے۔
بحوالہ: روزنامہ سیاست 2, اپریل 2022