مدارس کے طلبہ اور کتابوں سے دوری

Spread the love

مدارس کے طلبہ اور کتابوں سے دوری
از ——- انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

استاذ و ناظم تعلیمات جامعہ خوشتر رضائے فاطمہ گرلس اسکول سوار ضلع رامپور یوپی

مکرمی ! کتاب انسان کی روحانی اور فکری غذا ہے۔ یہ نہ صرف علم و فہم کا سرچشمہ ہے بلکہ تہذیب، تربیت، اور تعمیرِ شخصیت کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جن قوموں نے کتاب سے دوستی کی، انہوں نے دنیا پر حکمرانی کی، اور جنہوں نے کتاب کو طاق پر رکھ دیا، وہ زوال و انحطاط کا شکار ہو گئیں۔
آج مدارسِ دینیہ کے طلبہ کا کتاب سے تعلق محدود ہوتا جا رہا ہے۔ وہ کتب جن سے اہلِ علم نے معرفت کے چراغ روشن کیے، آج ان پر گرد جمی ہوئی ہے۔ کتابوں سے بڑھتی ہوئی یہ دوری ایک فکری بحران کی علامت ہے، جس کا جائزہ لینا نہایت ضروری ہے۔

کتاب سے دوری — ایک افسوسناک رجحان

مدارس کے اکثر طلبہ صرف درسی کتابوں تک محدود ہو چکے ہیں۔ ان کی علمی دنیا محض سبق، سبق یاد کرنے، اور امتحان دینے تک سمٹ چکی ہے۔ غیر نصابی مطالعہ — خواہ وہ سیرت کی کتاب ہو، تاریخ کا کوئی معتبر ماخذ، یا ادب کا کوئی شاہکار — اب ان کے فکری دائرے سے باہر ہے۔

علامہ اقبال نے اسی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے
“نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

مگر یہ “رختِ سفر” وہی حاصل کرتا ہے جو کتاب سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

اسبابِ دوری

  1. ڈیجیٹل عہد کی یلغار
    موبائل فون، انٹرنیٹ، اور سوشل میڈیا نے طلبہ کی توجہ منتشر کر دی ہے۔ یوٹیوب کی ویڈیوز، انسٹاگرام کی چکا چوند، اور مختصر معلوماتی کلپس نے گہرے اور سنجیدہ مطالعے کی عادت کو ماند کر دیا ہے۔
    امام شافعی کا قول ہے
    “علم، یکسوئی اور خاموشی کا طالب ہے۔”
    اور یہ یکسوئی آج کے طالب علم کے پاس باقی نہیں رہی۔
  2. نصاب کا دباؤ اور محدودیت
    مدارس میں طلبہ کو کثیر مضامین اور تفصیلی درسیات کا سامنا ہوتا ہے۔ اس دباؤ کے تحت وہ مطالعے کو محض “امتحان کی تیاری” تک محدود کر دیتے ہیں، اور مطالعہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔
  3. اساتذہ کی عدم رہنمائی
    اگر اساتذہ خود کتاب دوست نہ ہوں، تو طلبہ میں شوق کیسے پیدا ہو؟ استاد محض معلومات دینے والا نہیں، بلکہ ذوق پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ اساتذہ اگر مطالعے کی تلقین کریں، خود کتب کا حوالہ دیں، اور کتاب دوستی کو علمی تہذیب کا حصہ بنائیں، تو ماحول بدل سکتا ہے۔
  4. مطالعہ کا ناموافق ماحول
    کتب خانے غیر فعال ہو چکے ہیں، مطالعے کے لیے خاموش، پر سکون جگہ کا فقدان ہے۔ بعض جگہوں پر کتابیں تو ہیں، مگر طلبہ کو ان تک رسائی حاصل نہیں۔
    • مقصدِ تعلیم کا بگاڑ
      آج تعلیم کا مقصد علم کا حصول نہیں، بلکہ سند کا حصول اور روزگار بن چکا ہے۔ یہ نظریہ تعلیم کو روح سے خالی کر دیتا ہے۔
      مولانا حالی نے اس کیفیت پر خوب کہا
      “گئے وہ دن کہ کہتے تھے خُدا کے فضل سے سب کچھ
      اب یہ ہے حال کہ دعویٰ ہے، مگر شوقِ طلب کچھ بھی نہیں”

نتائج اور اثرات
کتاب سے یہ دوری کئی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے:
فکری سطحیت: مسائل کا فہم سطحی ہوتا جا رہا ہے۔
زبان و بیان کی کمزوری: مطالعہ ہی وہ ذریعہ ہے جس سے زبان میں روانی، تاثیر، اور وسعت آتی ہے۔
تحقیق و تنقید کی کمی: جب طلبہ تحقیق سے دور ہوں گے، تو نئے نظریات کیسے جنم لیں گے؟
فکری انجماد: مدارس کے طلبہ صرف مروجہ خیالات کو دہراتے ہیں، نئی فکری جہات پر خاموشی طاری ہے۔

حل اور اصلاح کے اقدامات

  1. کتاب دوستی کی باقاعدہ تحریک

مدارس میں “ہفتہ کتاب”، “ماہِ مطالعہ” اور “کتاب دوست طالب علم” جیسے پروگرامز منعقد کیے جائیں۔

  1. فعال لائبریریوں کا قیام
    کتب خانوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ وہاں خاموشی، روشنی، اور سہولتوں کا اہتمام ہو۔
  2. اساتذہ کا عملی نمونہ بننا
    اساتذہ خود بھی مطالعہ کریں، کلاس میں کتابوں کا حوالہ دیں، اور طلبہ کو مختلف موضوعات پر مطالعے کے لیے تحریک دیں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے
“علم دولت سے بہتر ہے، علم تمہاری حفاظت کرتا ہے، دولت کو تمہیں بچانا پڑتا ہے۔”

غیر نصابی مطالعہ کا باقاعدہ نظام
طلبہ کو ہر ماہ کم از کم ایک غیر نصابی کتاب پڑھنے اور اس پر تحریری خلاصہ دینے کا پابند کیا جائے۔

ڈیجیٹل مواد کا محدود اور باوقار استعمال

اگر جدید وسائل کو مکمل ترک کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم ان کا استعمال تعلیمی دائرے میں محدود کر دیا جائے۔

تاریخی مثالیں
امام بخاری نے بچپن سے ہی علمِ حدیث کی جستجو میں سفر شروع کیا اور چھ لاکھ احادیث کا مطالعہ کیا
ابنِ جوزی کہتے ہیں: “میں نے چالیس سال دن رات ایک کر کے مطالعہ کیا، میرے کمرے میں کبھی چراغ گل نہ ہوا۔”
یہ سب اہلِ علم اس لیے بلند مرتبہ ہوئے کہ ان کا دل، دماغ، اور زندگی کتاب سے جڑا ہوا تھا۔
کتاب سے دوری محض ایک تعلیمی خلا نہیں، بلکہ ایک فکری المیہ ہے۔ مدارس کے طلبہ اگر کتاب سے دور ہو گئے، تو وہ علم، بصیرت، اور قیادت سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ اب وقت ہے کہ ہم “کتاب دوستی” کو تحریک بنائیں، تاکہ مدارس دوبارہ علم، تحقیق، اور فہم کے قلعے بن سکیں۔
اقبال نے کہا تھا
“افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

جب طالب علم کتاب کا عاشق ہوگا، تب ہی وہ ملت کا رہبر بنے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *