اردو زبان کے حروف تہجی اور کچھ ضروری اصولوں کے بارے میں معلومات
اُردو زبان کے حروف تہجی اور کچھ ضروری اصولوں کے بارے میں معلومات !
نئے اردو سیکھنے والوں کے لیے
تحریر : سیدہ مریم
اُردو اِس وقت دنیا کی جدید ترین زبانوں میں سے ایک ہے ۔ دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہے بشمول ہندی کیونکہ اردو بولنے کا لہجہ ہندی کا ہے الفاظ عربی ، فارسی ، ہندی ، ترکی ، انگریزی ، پنجابی اور پشتو کے زیادہ استعمال ہوتے ہیں زیادہ الفاظ عربی اور فارسی کے ہیں جو تقریباً 98٪ ہیں ۔ جبکہ ہندی زبان میں 99٪ سنسکرت زبان کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہندی کا رسم الخط بھی دیوناگری ہے ۔بہندی میں فارسی سے محاورت ،اور بہت سے الفاظ بھی لیے گئے ہیں ۔ اُردو عربی رسم الخط اور نستعلیق فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے ۔ پہلے مرقع اُردو بھی رائج تھی ۔
قدیم اردو رسم الخط میں نون غنہ نہیں لکھی جاتی تھی بلکہ مکمل ن لکھا جاتا تھا ۔ گول ہ کی جگہ دو چشمی ھ لکھی جاتی تھی ۔
بدقسمتی سے اردو کو بھی نقصان اپنے بولنے والوں نے پہنچایا رومن رسم الخط کے ذریعے جیسے پشتو زبان کو اُردو رسم الخط کے ذریعے پشتونوں نے پہنچایا ہے ۔ جب جدید ٹیکنالوجی کا آغاز ہُوا تو کمپیوٹرز اور موبائل میں صرف رومن رسم الخط استعمال کیا جاتا تھا وہاں سے لوگوں میں یہ بگاڑ پیدا ہُوا جو آج تک جاری ہے حالانکہ اب کمپیوٹر اور موبائل میں ہر زبان شامل ہو چکی ہے لکھنا بھی آسان ہے مگر لوگوں کی اکثریت اپنانے کے لیے تیار نہیں ہو رہی ہم لوگوں کو منانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
اُردو اِس وقت انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی اہم زبان بن چکی ہے ۔ اِس پر کام جاری ہے ۔ اُردو میں بڑی خوبی یہ ہے کہ فارسی اور عربی سیکھنے والوں کے لیے بہت مدد گار ہے ۔
The Urdu Alphabet
Alif ا
Be ب
Pe پ
Te ت
Te ٹ
Se ث
Jim ج
Che چ
He ح
Khe خ
Dal د
Dal ڈ
Zal ذ
Re ر
Re ڑ
Ze ز
Zhe ژ
Sin س
Shin ش
Swad ص
Zwad ض
Toe ط
Zoe ظ
Àin ع
Ghain غ
Fe ف
Qaf ق
Kaf ک
Gaf گ
Lam ل
Mim م
Nun ن
Wao و
He ہ
Hamza ء
Ye ( chhoti ) ی
Ye ( bari ) ے
ا : اب ۔ ابو ۔ امی
ب : بعد ، بس ۔ بستہ
پ : پھول ، پل ، پاک
ت : تب ، تن ، تم
ٹ : ٹوپی ، ٹانگ، ٹھیک
ث : ثواب ، ثبوت ، ثالث
ج : جوتا ، جوراب ، جواب
چ : چار ، چالیس ، چیز
ح : حاصل ، حمایت ، حکومت
خ : خوش ، خود ، خراب
د : دنیا ، دروازہ ، درود
ذ : ذخیرہ ، ذبح ، ذریعہ
ر : رات ، ران ، ریشم
ڑ : اردو میں یہ شروع میں نہیں لکھا جاتا درمیان اور آخر میں لکھا جاتا ہے
ز : زیور ، زخم ، زرد
ژ : ژرف ، ژالہ ، ژوب
س : سب ، سکون ، سانپ
ش : شہر ، شیر ، شب
ص : صرف ، صاف ، صاحب
ض : ضرب ، ضلع ، ضائع
ط : طور ، طویل ، طوطا
ظ : ظاہر ، ظالم ، ظروف
ع : علی ، عینک، عمل
غ : غصہ ، غسل ، غلام
ف : فارسی ، فاسد ، فرقان
ق : قرآن ، قوم ، قاصد
ک : کا ، کی ، کے ، کرسی
گ : گاڑی ، گڑھی ، گمان
ل : لڑکی ، لڑکا ، لفظ
م : محمد ، محبت ، مخلص
ن : نعت ، نغمہ ، نعمت
و : واحد ، وجود ، وہ
ہ : ہمت ، ہم ، ہمارا
ء : اردو میں یہ شروع میں نہیں لکھا جاتا درمیان اور آخر میں لکھا جاتا ہے
ی : یہاں ، یہ ، یکجا
ے :
اردو مین ہندی کے مفرد حروف تہجی جو عموماً اردو میں مرکب حروف سمجھے جاتے ہیں ۔ وہ یہ ہیں ۔ اِن حروف میں مفرد حروف تہجی کے ساتھ دو چشمی ” ھ ” استعمال کی جاتی ہے ۔ یہ حروف اب اردو کے باقاعدہ حروف تہجی میں شامل کر لیے گئے ہیں مگر کچھ ماہرین انہیں مستقِل اُردو کے حروفِ تہجی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے ۔
بھ ۔ پھ ۔ تھ ۔ ٹھ ۔ جھ ۔ چھ ۔ دھ ۔ رھ ۔ ڑھ ۔ ڈھ ۔ کھ ، گھ۔ لھ ۔ مھ ۔ نھ
1۔ اُردو زبان میں تین بڑے حروفِ علّت ( واولز ) کے حروف تہجی ہیں جن میں ( ا ، و ، ی، ے ) ہیں ۔
2۔ اردو میں تین چھوٹے واولز کی علامات بھی ہیں جن میں زبر Zabar ، زیر Zer اور پیش Pesh ہیں ۔ زبر حرف کے اوپر لگتا ہے بَ ba
زیر حرف کے نیچے لگتی ہے بِ bi
پیش حرف کے اوپر لگتا ہے بُ Bu
3۔ جب ا و ی ے کے ساتھ زبر زیر اور پیش ( حرکات ) لگتے ہیں تو یہ حروف ساکن ہوتے ہیں بطور علامت کے پھر حرکت کرتے ہیں ا سے اَ ،اِ، اُ
ی سے یِ، یَ، یُ
و سے وُ ،وَ، وِ
4۔ اُردو میں تشدید ّ بھی استعمال کیا جاتا ہے جو ایک حرف کا دو بار ہونا بتاتا ہے ۔ پہلی بار ساکن ہوتا ہے دوسری بار حرکت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ بچَّہ Bachcha
5۔ اُردو میں جزم Jazam بھی استعمال ہوتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ یہ حرف واول نہیں ہے ساکن ہے جیسے مَرد٘
6۔ اُردو میں دو چشمی ھ عمومآ بھاری ہندی آوازوں کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے ۔ جیسے کھانا ، کھودنا ، گھومنا
7۔ اردو میں مد لمبی الف کو ظاہر کرتی ہے آ سے آپ
8۔ اُردو میں نون غنہ کے لیے ن سے نقطہ ہٹا کر الگ علامت ” ں ” قائم ہے ۔
9۔ اردو میں گول ” ہ ” عمومی الفاظ کے ساتھ ساتھ کی جاتی ہے ۔
10۔ اُردو میں حروف اضافے جیسے کا ، کی ، کے کے استعمال میں اسم ،فعل کو دیکھنا پڑتا ہے اسم اگر مذکر ہے تو فعل بھی مذکر ہو گا مفول بھی اور دونوں کو جوڑنے والا حرف بھی جیسے
اُس کا گھر یہاں گھر مذکر ہے تب حرف ” کا ” ساتھ لگا
اُس کی کتاب یہاں کتاب مؤنث ہے اس لیے یہاں ” کی ” لگا
اب اگر ہم کسی کو احترام دیں یا جمع بنائیں گے تو کہیں گے
اُس کے گھر یہاں ” کے ” دو معنوں میں لیا جا سکتا ہے
احترام ، جمع مذکر
اگر افراد زیادہ ہوں تو اُن کے گھر کہیں گے ۔ اگر افراد تو زیادہ ہوں مگر گھر سب کا ایک ہو تو ہم کہیں گے اُن کا گھر ،
اُس کی کتابیں ۔ اُن کی کتابیں
11۔ اُردو میں مفعول کے لیے حرف ” کو ” اور مجہول ” ے ” استعمال کی جاتی ہے ۔ جیسے
مجھے( مجھ کو ) معلوم ہے
کرنے والا یا کرنے والی
مارا گیا ( مراد مجھے یا اسے )
12۔ بے جان چیزوں کی تذکیر و تانیث کی بحث اُردو میں بہت پیچیدہ ہے زیادہ تر سماعی ہی ہیں ۔ جیسے
میرا کمرہ ۔ میری چپل ، میرے کپڑے
13۔ اُردو میں تمام زبانیں مؤنث ہیں ۔ تمام لہجے اور کتابیں مؤنث ہیں ۔ تمام ممالک کے نام عموماً مذکر ہیں ۔ تمام دریاؤں کے نام مذکر ہیں ۔ تمام معدنیات عموماً مذکر ہیں ۔