اراکین اسمبلی و کونسل کو قومی اساتذہ تنظیم بہار کا مطالباتی خط

Spread the love

اراکین اسمبلی و کونسل کو قومی اساتذہ تنظیم بہار کا مطالباتی خط

اشرف فرید، محمد رفیع، تاج العارفین و محمد تاج الدین کے مشورہ پر ہوا عمل سیشن کے اختتام پر قومی اساتذہ تنظیم بہار منعقد کریگی جائزہ میٹنگ، اراکین اسمبلی و کونسل کی کارکردگی کے مطابق تیار ہوگی حکمت عملی : محمد رفیع

پٹنہ

قومی اساتذہ تنظیم بہار کے زیر اہتمام ” تحریک تحفظ اردو زبان و ادب ” چلائی جا رہی ہے تنظیم میں اردو زبان، اردو اسکول اور اقلیتی فلاح کے لئے کچھ اہم امور کی نشاندہی کر کے اس کی کاپی اراکین اسمبلی و کونسل بہار پٹنہ کو بھیجی گئی ہے، یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہی

انہوں نے بتایا کے سرپرست جناب عبدالسلام انصاری، ایس ایم اشرف فرید صدر تاج العارفین سکریٹری محمد تاج الدین وغیرہ کے مشورے سے مجلس عاملہ قومی اساتذہ تنظیم بہار نے ایک مانگ پتر تیار کیا ہے

جس سے مسلم رہنماؤں کو روبرو کرا دیا ہے اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسمبلی و کونسل میں اس کی بنیاد پر آواز بلند کریں اور حکومت سے ہمارے حقوق دلانے کی جدو جہد کریں۔

وہ تمام امور جس کی نشاندہی کر اراکین اسمبلی و کونسل کو بھیجے گئے ہیں، درج ذیل ہیں اردو ریاست بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اور نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دینے کی ہدایت ہے

وزیر اعلی بہار کے مطابق ہر اسکول میں خواہ وہ اردو ہو یا ہندی سبھی اسکولوں میں کم از کم ایک اردو ٹیچر لازمی طور پر بحال ہو۔سرکاری اسکولوں میں اردو کی لازمیت قدیم طرز پر بحال کی جائے۔ پرائمری سطح پر اردو کی تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔

اردو اسکولوں میں سبھی مضمون کی کتابیں و سوالنامے منظم اور کامل طریقے سے تقسیم کئے جائیں اور ہندی میڈیم کے اسکولوں کے اردو طلبہ کو اردو کی کتابیں مہیا کرائی جائیں۔

اسکولوں کی جانچ کرنے والے افسران اردو زبان سے تعلیم سے متعلق جانکاری ضرور حاصل کریں۔ جانچ رپورٹ میں ” اردو زبان کی تعلیم ہو رہی ہے یا نہیں ” کا کالم شامل کیا جائے تاکہ صورت حال سے محکمہ کو واقف کرایا جا سکے۔

اردو اساتذہ کو اردو میڈیم سے پڑھانے کی ٹریننگ دی جائے نیز FLN ٹریننگ میں اردو زبان کو شامل کیا جائے اور FLN کٹ میں اردو زبان کے TLM بھی تیار کرا کے اسکولوں میں بھیجے جائیں۔ اردو اسکول جس کے پاس اپنی زمین یا عمارت نہیں ہے و زمین و عمارت مہیا کرایا جائے، تاکہ اردو اسکولوں کا تحفظ ہو اور اس کا تشخص باقی رہے

معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سارے اردو اسکول و مکاتب آج بھی مساجد کے صحن و مدارس کے احاطے وغیرہ میں یا پھر ہندی اسکولوں کے احاطے میں چل رہے ہیں۔ اردو ہائی اسکولوں کو بھی پی ایم شری کے تحت ترقی دی جائے اور کثیر اردو آبادی میں جہاں اردو ہائی اسکول نہیں ہے وہاں اردو مڈل اسکول کو سیکنڈری و سینیئر سیکنڈری اسکولوں میں ترقی دی جائے تاکہ اردو میڈیم کے بچے اعلیٰ تعلیم بھی اردو زبان میں حاصل کرسکیں۔

سبھی بلاک میں کم از کم ایک اقلیتی گرلس ہائی اسکول، بچوں اور بچیوں کے لئے الگ الگ اقلیتی ہاسٹل اور اقلیتی رہائشی ہائی اسکول قائم کئے جائیں۔ اردو مترجم کے عہدے پر بحالی کا بڑا کارنامہ ہوا ہے، مختلف زمروں کے 1765 اردو مترجم بحالی کے لئے جن امیدواروں کی کاؤنسلنگ ہو چکی ہے انہیں فوری طور پر تقرری نامہ دیا جائے۔

وزیر اعلی کے حکم کے مطابق سرکاری عمارتوں کے نیم پلیٹ اور سائن بورڈ ہندی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی لکھے جائیں اور گزٹ وغیرہ اردو زبان میں شائع ہوں۔ اردو اور تمام اقلیتی ادارے جو غیر تشکیل شدہ ہیں فوراً تشکیل دئے جائیں۔

اردو زبان سے متعلق سرکاری حکم نامہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تمام اضلاع و بلاک سطح پر نگراں کمیٹی تشکیل دی جائے۔ تمام ضلع کے اردو زبان سیل کو فعال بنایا جائے، اس کی جوابدہی طے کی جائے اور اس سے ضلع انتظامیہ کام لے، سیل کے افسران بھی اسکولوں کا معائنہ کرکے اردو کی معیاری تعلیم کو یقینی بنائے۔

تمام ہندی اسکولوں کے مسلم بچوں کی صحیح تعداد منگائی جائے، کیونکہ یہ بچے اردو زبان کا علم رکھتے ہیں، اسکولوں میں اردو اساتذہ نہ ہونے اور غیر موافق ماحول کی وجہ سے مسلم بچوں کو جان بوجھ کر اردو زبان کی تعلیم سے دور رکھا جا رہا ہے اور محکمہ تعلیم کو بھیجے جانے والے رپورٹ میں کہا جا رہا ہے کہ یہ مسلم بچے غیر اردو داں ہیں جبکہ مسجد اور مکتب میں ہر مسلم بچوں کو اردو کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہ بچے اردو زبان کا علم رکھتے ہیں۔

اس لیے انہیں اردو زبان کی تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اردو اسکولوں میں پرنسپل اور سائنس، ریاضی و سماجیات کے اساتذہ اردو زبان کے جانکار بحال کئے جائیں۔

یو ڈائس پلس میں اردو اسکولوں کے لئے تعلیم کا میڈیم اردو اور سبھی اسکولوں میں مادری زبان کا اردو آپشن بھی دیا جائے اور ویسے پرنسپل پر کاروائی ہو جنہوں نے جان بوجھ کر اردو زبان کے طلبہ و طالبات کے مادری زبان میں اردو کی جگہ ہندی کر دیا ہے۔

کسی بھی پرائیویٹ اسکول کو این او سی دینے سے قبل محکمۂ تعلیم یہ تشفی کر لے کہ وہاں اگر اردو زبان پڑھنے والے بچے ہیں تو اردو کے ٹیچر بحال ہیں یا نہیں تاکہ اردو بچوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت ہو سکے۔

اردو اسکولوں کے لیے الگ تعطیل نامہ جاری کیا جائے جس میں جمعہ و مسلم تہواروں کا خیال رکھا جائے ساتھ ہی ہندی اسکولوں میں بھی عیدالفطر کی تعطیل دو دن اور عیدالاضحیٰ کی تعطیل تین دن کی جائے۔ 2459+1 کے 205 زمرہ کے 98 مدارس اور 609 زمرہ کے 35 مدارس کے اساتذہ کی بقایا تنخواہ کی ادائیگی جلد از جلد کی جائے اور 1646 زمرہ کے مدارس جو کیبنیٹ سے پاس ہیں کی تنخواہ جاری کی جائے اور اس کی منظوری کی تکمیل کی جائے۔ جناب محمد رفیع نے کہا کہ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ تمام سوالات موجودہ سیشن میں حکومت کے روبرو آجائیں گے۔

جناب رفیع نے یہ بھی کہا کہ سیشن کے اختتام اور رمضان المبارک کے مہینہ کے ختم ہو جانے کے بعد پٹنہ میں قومی اساتذہ تنظیم بہار کی مجلس عاملہ کی ایک اہم نشست ہوگی جس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ ہماری کوششوں کا کیا فائدہ ہوا

اراکین اسمبلی و کونسل میں کس نے کتنا حق ادا کیا اور کس نے قوم سے دھوکہ کیا۔ اس کے بعد قومی اساتذہ تنظیم بہار نئی حکمت عملی کے تحت ” تحریک تحفظ اردو زبان و ادب” کے کارواں کو آگے بڑھائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *