مفکر اسلام علامہ قمرالزماں خاں اعظمی
نصف صدی پر محیط ایک تابناک علمی اور دینی سفرآج ( 19 جولائی 2025ء) کا یہ عظیم الشان اجتماع مفکر اسلام حضرت علامہ قمر الزمان اعظمی دامت برکاتہم کی برطانیہ میں پچاس سالہ تبلیغ اسلام کا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیش بہا سرمایہ دین اسلام کی خدمت ، اشاعت سنت اور اُمت کی رہنمائی کے لیے وقف کر دیا اور نصف صدی سے زائد عرصے تک نہ صرف برطانیہ بلکہ دنیا بھر میں عشق رسول ﷺ ، علم دین اور اتحاد امت کا چراغ روشن کیا۔آج سے اکاون (51) برس پہلے یعنی 1974 ء میں علامہ اعظمی صاحب انڈیا سے آئے اور میں پاکستان سے برطانیہ آیا۔ اسی سال ہماری پہلی ملاقات ہوئی اور پھر دین کے معاملات میں مشاورت ، تعاون اور آپس میں محبت و احترام کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ میں آج تک آپ کی شفقت سے مستفیض ہو رہا ہوں ۔اس لیے میں یہاں پر آپ کے کردار اور تبلیغ اسلام کی جو چند جھلکیاں سپرد قلم کر رہا ہوں ، وہ سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ میرے مشاہدات کا نتیجہ ہیں۔نمبر 1 – دعوت و تبلیغعلامہ اعظمی صاحب کی اسلامی خدمات کسی ایک خطے تک محدود نہیں، بلکہ ان کا علمی اور فکری فیضان بہت وسیع ہے، جو برطانیہ اور انڈیا سے لے کر یورپ، ڈنمارک، ناروے، کینیڈا، امریکہ، افریقہ ، مشرق وسطی ، پاکستان اور بنگلہ دیش تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ جہاں بھی گئے ، ایمان و عمل ، محبت و اخلاص ، علم و حکمت کا نور پھیلایا اور ہزاروں افراد کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ اُردو زبان میں آپ کی فصاحت و بلاغت کا عالم یہ ہے کہ جب آپ انڈیا میں اہل زبان سے خطاب فرماتے ہیں تو وہاں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے خطابات میں قرآن وحدیث ، منطق اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔آپ ورلڈ اسلامک مشن جیسے عالمی دینی ادارے کے بانی رہنماؤں میں شامل ہیں، جس کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر میں مساجد، مدارس اور اسلامی مراکز کا قیام عمل میں آیا۔ نیز آپ کی سرپرستی میں برطانیہ میں درجنوں مساجد اور ادارے قائم ہوئے ، جو آج بھی علم ، تربیت اور اصلاح معاشرہ کے مراکز ہیں۔ خاص طور پر مانچسٹر میں انوار الحرمین جامع مسجد کی تعمیر آپ کا بہت نمایاں اور قابل فخر کارنامہ ہے، جس کے لیے آنے والی نسلیں آپ کو سلام تحسین پیش کرتی رہیں گی۔علامہ صاحب کی دعوت کا انداز نرمی ، بصیرت اور محبت سے مزین ہے۔ ان کے خطبات میں جہاں قرآن وسنت کا گہرا فہم ہوتا ہے، وہیں عقلی استدلال، تاریخی حوالہ جات ، روحانی تاثیر اور اخلاقی تربیت بھی نمایاں ہوتی ہے۔ وہ صرف خطیب ہی نہیں بلکہ مصلح قوم ، مربی ملت اور داعی محبت رسول ﷺ ہیں۔دعوت و تبلیغ کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ( پیارے نبی ! آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث ایسے انداز میں کیجیے جو سب سے اچھا ہو۔ ( قرآن : 125:16) مجھے بعض ایسے مواقع کا علم ہے جہاں معاملات بحث و تکرار تک پہنچے مگر علامہ اعظمی صاحب نے ان کو اتنے اچھے طریقے سے نبھایا کہ فریقین آج بھی آپس میں محبت ، دوستی اور اتحاد کر سکتے ہیں، لیکن ایسے مواقع پر اگر جلد بازی اور سخت لہجہ استعمال کیا جائے تو آپس میں ایسی نفرت، عداوت اور تفریق پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ کبھی اتحاد نہیں کر سکتے۔نمبر 2۔ کردار اور حکمتجو چیز علامہ صاحب کو ممتاز بناتی ہے، وہ ان کا خلوص، عاجزی ، حکمت اور بلند اخلاق ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی سے علمی اور فقہی اختلافات کو بغض و عداوت کی بنیاد پر نفرت کا پیغام نہیں دیا، بلکہ ہمیشہ اتحاد، رواداری اور خیر خواہی کو فروغ دیا۔ ان کا کردار ہمیں اسلاف کی یاد دلاتا ہے۔ قبلہ اعظمی صاحب کے مقابلے میں میرا علم و عمل انتہائی محدود ہے مگر آپ نے میرے ساتھ نہ صرف شفقت اور خوردنوازی کا سلوک فرمایا بلکہ مجھے عزت و احترام سے سرفراز فرمایا اور مجھے جہاں بھی موقع ملتا ہے میں آپ کی اس ذرہ نوازی کا برملا اعتراف کرتا ہوں ۔نمبر 3۔ The Muslim 500رائل اسلامک سنٹر ( عمان ، اُردن ) ہر سال ایک بہت ہی خوبصورت اور تحقیقی کتاب شائع کرتا ہے جس میں علم ، مذہب، سیاست، تبلیغ ، روحانیت، سائنس، ٹیکنالوجی ، مشہور شخصیات ،سماج ،فنون ، ثقافت، میڈیا اور کھیل وغیرہ مختلف میدانوں کے 500 با اثر مسلمانوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ آپ کو سُن کر خوشی ہوگی کہ پوری دنیا کے ان 500 با اثر مسلمانوں میں سے ایک حضرت علامہ اعظمی صاحب بھی ہیں۔نمبر 4۔ علم و حکمت کا امتزاجقرآن مجید میں تعلیم کتاب اور تعلیم حکمت کو علیحدہ علیحدہ ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ علم اور حکمت دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ بلا شبہ قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لیے علم ناگزیر ہے۔ حضور رسول رحمت ﷺ نے فرمایا: الْعِلْمُ خَيْرٌ مِنَ الْعِبَادَةِ . علم عبادت (یعنی نماز ، روزہ ، حج وغیرہ) سے بہتر ہے۔(کنز العمال: 28664: ج 10 ص 133) مگر دین کی دعوت کے لیے علم کے ساتھ حکمت بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ.(پیارے نبی ﷺ!) آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے ۔ (قرآن:125:16)يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ.وہ جسے چاہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جسے حکمت عطا کی گئی تو بے شک اسے بہت بھلائی دیدی گئی، اور صرف عقل مند ہی نصیحت قبول کرتے ہیں ۔ (قرآن:269:2)علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں: الْعِلْمُ اِدْرَاكُ الشَّيْءِ بِحَقِيقَتِهِ وَالْحِكْمَةُ إِصَابَةُ الْحَقِّ بِالْعِلْمِ وَالْعَقْلِ. علم کا مطلب ہے کسی چیز کی حقیقت کو سمجھنا اور حکمت کا معنی ہے علم اور عقل کے ساتھ حق تک رسائی حاصل کرنا۔ (المفردات فی غریب القرآن )علامہ شعبی کہتے ہیں: لَا خَيْرَ فِي عِلْمٍ بِلَا عَقْلٍ. عقل کے بغیر علم میں کوئی بھلائی نہیں ۔ ( تاریخ دمشق لابن عساکر : ج 25:ص382)اسی لیے اکابر کہتے ہیں: ایک کلوعلم کے صحیح استعمال کے لیے چالیس کلو عقل کی ضرورت ہے کیونکہ علم کا غلط استعمال نقصان پہنچاتا ہے۔نیز دعوت وتبلیغ میں مخاطبین کے حالات اور عقلی معیار کو ملحوظ خاطر رکھنا بھی ضروری ہے۔ ورنہ سو فیصد صحیح حدیث بھی غلط نہی کا باعث بن سکتی ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:لَا تُحَدِّثُوا أُمَّتِي مِنْ أَحَادِيثِ إِلَّا بِمَا تَحْمِلُهُ عُقُولُهُمْ.میری امت کے سامنے میری کوئی حدیث بیان نہ کرو مگر وہ جس کو ان کے عقل سمجھ سکیں ۔ (کنز العمال: 29284: آداب العالم والمتعلم من الاكمال : ج 10 ص 242) کس حدیث پاک کو کس موقع پر اُمت کے سامنے بیان نہیں کرنا یہ فیصلہ صرف علم نہیں کر سکتا ، اس کے لیے حکمت اور عقل کی ضرورت ہے۔حضرت علی المرتضی وہ بیان کرتے ہیں :حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ، أَتُحِبُّونَ أَنْ يُكَذَّبَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟لوگوں سے ایسی باتیں بیان کرو جو وہ سمجھ سکیں ۔ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ ( تمہاری بے موقع بات سے) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا جائے؟ ( بخاری: کتاب العلم : باب 50 ) کیونکہ مخاطبین کی عقل سے کمتر یا بالا تر بات کسی فتنہ یا غلط نہی کا باعث بن سکتی ہے۔برطانیہ میں علامہ اعظمی صاحب ان علمائے کرام میں سرفہرست ہیں جو اسلام کے بارے میں بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں، زمان و مکان کے اختلاف کو سمجھتے ہیں اور مشکل حالات میں بھی عوامی جذبات سے متاثر ہو کر بے قابو نہیں ہو جاتے بلکہ علم و دانش اور حکمت سے ایسا متوازن بیان جاری کرتے ہیں جیسا کہ مشہور ضرب المثل ہے : ” سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔“علامہ اعظمی صاحب کی سیاسی بصیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تاریخ اسلام اور رسول رحمت ﷺ کی سیاسی حکمت عملی کا خوب مطالعہ کیا ہے۔نیز سونے پہ سہا گہ یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت علامہ شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ سفر و حضر میں کافی وقت گزارا ہے اور ان کا سب سے زیادہ مطالعہ نبی کریم ﷺ کی سیاسی زندگی کا تھا اور 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں بھی ان کا نمایاں کردار تھا۔نمبر 5۔ نوجوان نسل کے لیے مینار ہدایتآج کے دور میں جب نوجوان نسل مادی ترقی ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے زیر اثر ایک مختلف فکری سمت اختیار کر رہی ہے، وہاں علامہ اعظمی صاحب کے خطابات خاص طور پر قابلِ تحسین ہیں، جو نہ صرف عقلی اور منطقی ہوتے ہیں بلکہ جدید ذہن اور نو جوانوں کے فکری رجحانات سے ہم آہنگ بھی ہیں۔ یہی وہ خوبی ہے جس نے نسلوں کے درمیان فکری پل قائم کیا اور دین کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کے دل و دماغ تک پہنچایا۔ آج کے نوجوانوں کے لیے علامہ اعظمی صاحب ایک زندہ مثال ہیں کہ کیسے مغرب میں رہتے ہوئے بھی دین پر قائم رہا جا سکتا ہے، اور کس طرح اپنے اصل سے جڑے رہ کر دنیا کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ دورِ حاضر میں وہ ہمارے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ علم کا مینار، تقویٰ کی علامت اور دعوت دین کا روشن چراغ ہیں۔میری غیر حاضریآج کے پروگرام کے ناظم اعلیٰ اور محترم کرم فرما حضرت مفتی محمد ایوب اشرفی زید مجدہ نے مجھے بھی اس عظیم الشان اجتماع میں حاضر ہونے کی دعوت دی تھی مگر میں اس لیے حاضر نہیں ہوا کہ میری موجودگی سے شاید کچھ علمائے کرام میرے بارے میں بھی چند جملے ارشاد فرما سکتے ہیں مگر میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ میرے متعلق کہے جانے والے چند جملے بھی آج صرف علامہ اعظمی صاحب کے حق میں ہی کہے جائیں کیونکہ آج کا اجتماع علامہ اعظمی صاحب کے اعزاز میں منعقد ہے اور اس میں آپ ہی کی زیادہ سے زیادہ تحسین ہونی چاہیے۔ میں آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت علامہ قمر الزمان اعظمی دامت برکاتہم کو صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور ان کے فیضان کو تا قیامت جاری وساری رکھے۔ آمین!العبد الفقير إلى الرحمن الرحيممحمد امداد حسین پیرزاده : بانی و پرنسپل جامعہ الکرم برطانیہ11 جون 2025ء بمطابق 15 ذوالحجہ 1446ھMufakkir-e-Islam Allama Qamaruzzaman Azmi