مفتیان کرام ذرا توجہ دیں

Spread the love

مفتیانِ کرام ذرا توجہ دیں

تحریر: توصیف القاسمی (مولنواسی) مقصود منزل پیراگپور سہارن پور واٹسپ نمبر 8860931450

برصغیر پاک بھارت اور بنگلہ دیش کے پس منظر میں مساجد کے ذمے داران متولیان حضرات اکثر و بیشتر ناخواندہ ہوتے ہیں ، پھر ان کمیٹیوں میں خاندانی اور مقامی رقابت و رسہ کشی کا بھی بہت بڑا دخل ہوتا ہے مزید یہ کہ موجودہ اور سبک دوش کمیٹی کے درمیان بھی مقابلہ آرائی کا ماحول رہتا ہے

ایسے میں اگر کسی فریق کو امام سے کوئی ناراضگی ہوجائے تو وہ فتوی لینے کے لیے دارالافتاء پہنچ جاتا ہے ، دارالافتاء کے مفتیان کرام ”بر بناء احتیاط و استحباب“ فتوی دے دیتے ہیں کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔

مکروہ ایک فقہی اصطلاح ہے جس کا معنی مطلب اہل علم جانتے ہیں کہ نماز تو ہو جاتی ہے بس بہتر نہیں مگر عوام کی نگاہ میں یہ مکروہ حرام ہونے کے معنی میں یا ناجائز ہونے کے معنی میں بدلب جاتا ہے اور اس فتوے کو اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے کہ امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں اور یہ دیکھو فتوی ! نتیجتا امام کے حمایتی لوگ جو اکثر و بیشتر حالات میں اکثریت میں ہوتے ہیں فتوے کا نام سن کر خاموش ہو جاتے ہیں اور یوں یہ سطحی فتویٰ امام صاحب کی سبک دوشی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔

اگر غور کیا جائے تو اس معاملے میں ساری غلطی دارالافتاء کے مفتیان کرام کی ہے ، جنہوں نے قرآن و سنّت کا اور سماج کی حقیقی صورت حال کا گہرائی سے جائزہ نہیں لیا ، بسم اللہ کے گنبد میں بند ان مفتیان کرام کو چاہیے تھا کہ وہ معاملے کی گہرائی میں جاتے اور سمجھتے کہ یہ حرام و حلال کا مسئلہ نہیں ہے نہ ہی کراہت و استحباب کا معاملہ ہے بلکہ یہ کمیٹی اور امام کے درمیان یا محلے کے اوباش قسم کے لوگوں اور امام صاحب کے درمیان کشمکش کا معاملہ ہے جس میں عدل وانصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر اور دونوں فریق کو سن کر کوئی معتدل فتویٰ دینا چاہیے تھا

مگر ہمارے محترم مفتیان کرام ایسا نہیں کرسکے ۔ مفتیان کرام پر لازم تھا کہ وہ سماج کی نفسیات کو جانتے ، کمیٹیوں کی آپسی کشمکش سے آگاہ ہوتے اور قوم کو اس حدیث پاک سے سبق سکھاتے جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (صل خلف كل بر وفاجر) یعنی ہر فاسق و فاجر کے پیچھے نماز پڑھو یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے مگر مختلف طرق سے احادیث کی کتابوں میں آئی ہے ۔ دوسرے تمام اہل علم متفقہ طور پر اس حدیث کے معنی کو صحیح سمجھتے ہیں اور نماز کی صحت کا حکم بھی لگاتے ہیں ۔

راقم الحروف نے اس سلسلے میں پچاسوں فتاویٰ کا مطالعہ کیا ہے ،حیرت کی بات یہ ہے کہ تمام فتوؤں میں ائمہ حضرات کو ہی مسجد چھوڑنے کو کہا گیا ہے یا پھر نماز کے مکروہ ہونے کی بات کہی گئی ہے ۔ کسی ایک فتوے میں بھی صبر ، برداشت ، صلح وصفائی ، معافی و درگزر کرنے کی بات نہیں کہی گئی ہے ۔ مفتیان کرام کو حق ہے کہ وہ یہ قانونی و فقہی عذر پیش کریں کہ” ہم تو پیش کردہ سوال کے پابند ہیں “ ۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے مفتیان کرام کو فتویٰ دینے کا کوئی حق نہیں جو سماج کی اور مسائل کی گہری واقفیت نہ رکھتے ہوں ، ایسے مفتیان کرام کے فتوے سماج میں پیچیدگی تو پیدا کرسکتے ہیں مگر کوئی تعمیری کردار نہیں کرسکتے ۔

قارئین کرام! اگر غور وفکر کیا جائے تو یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسا امام متعین کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ جس سے سب خوش ہوں اور وہ پیغمبرانہ تقوی کا حامل ہو ، تمام مقتدی حضرات اس سے خوش ہوں ، مزید یہ کہ کوئی بھی انسان مکمل طور پر گناہوں سے پاک ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا تو ایسی صورت میں استحباب کی بنیاد پر فتویٰ دینا ائمہ حضرات کے لیے ننگی تلوار ثابت ہوتا ہے

اس فتویٰ کی موجودگی میں نہ معافی ہوسکتی ہے اور نہ ہی صلح صفائی ۔ جب فتوے نے بربنائے استحباب و احتیاط نماز کے نہ ہونے کا حکم لگادیا تو محلے کے انصاف پسندوں کے بھی اور امام صاحب کے دیگر حمایتی حضرات کے بھی ہاتھ کٹ جاتے ، یہ سطحی فتویٰ ان حضرات کی حمایت پر مبنی تمام محنتوں پر بھی پانی پھیر دیتا ہے، یہ فتویٰ بے رحم تلوار بن کر ائمہ حضرات کی گردنوں کو کاٹ دیتا ہے ۔

آخری بات مفتیانِ عظام سے درخواست ہے کہ وہ قوم کے افراد میں صلح و صفائی ، معافی و درگزر کی روش پیدا کریں ، ہر معاملے کو جائز یا نا جائز کے نظریہ سے نہ دیکھیں بلکہ سماج اور سماج کے نالائق لوگوں کے درمیان پھنسے ائمہ حضرات کی روزی روٹی کو بھی ذہن میں رکھیں ۔

محترم مفتیان کرام ! آپ سے پوچھا جانے والا ہر مسئلہ استفتاء و فتویٰ نہیں ہوتا خواہ اس کی شکل وصورت اور بظاھر سائل کے الفاظ ”استفتاء“ کے ہی ہوں ۔ بہت سے سماجی مسائل کی حقیقی نوعیت عدل وانصاف اور فیصلوں کی ہوتی ہے ، امام صاحب اور کمیٹی کے معاملات میں بھی آپ حضرات فتویٰ نہ دیکر فیصلے دیں ، خیال رہے کہ فیصلہ کرنے کے لئے دونوں فریق کا موقف سننا ضروری ہوتا ہے جب کہ فتویٰ دینے کے لئے صرف سوال کا سامنے ہونا ضروری ہے ۔

فیصلہ میں اس بات کی گنجائش ہوتی ہے کہ فریقین مانیں یا نہ مانیں ؟ مگر کم از کم عوام کی نگاہ میں فتویٰ کا معاملہ بالکل الگ ہے ، عوام فتوے کا مطلب قرآن و سنّت کا ایسا مستند حکم سمجھتی ہے جس سے انحراف و انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

اور یوں بہت آسانی سے فتویٰ کی بنیاد پر امام صاحب کا بستر بندھ جاتا ہے ۔ جو کام محلے کے شیاطین صفت اور فتنہ گر لوگ اپنی طاقت کی بنیاد پر یا اپنی بے وزن حیثیت کی بنیاد پر نہیں کر پا رہے تھے وہ کام فتوے کی آڑ میں بہت آسانی سے کردیتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *