قرآنی نغموں کے مترنم لہجوں سے گونجتی رہیں فضائیں
قرآنی نغموں کے مترنم لہجوں سے گونجتی رہیں فضائیں
۔ (بلرام پور) ایسا لگ رہا تھا کہ، پوری زمین رب کے قرآنی نغموں سے سرشار، ہوائیں اپنے موج میں تھیں اور بار بار جھک جھک کرقرآن سنانے والے اور سننے والے کی ہونٹوں کی بلائیں لے رہی تھیں۔
فلک کا ماہتاب زمین کے قریب اترآیا تھا، ستارے آپس میںسرگوشیاں کررہے تھے کہ ابن آدم کے ان بچوں پر اللہ کی آیات تلاوت کرنے کا کیسا جنون طاری ہے۔
جب ساری کائنات خواب میںمست ہے، رات کی تنہائی میں خدا کے چند بے نفس بندے کیوں متوالے ہوئے جارہے ہیں؟
بدن کو یخ کردینے والی ٹھنڈ میں، ایک کم عمر بچہ وضو کرتا ہے، اپنے استاذ حضرت قاری نورالدین رضوی صاحب کے سامنے رات کے تین بجے قرآن لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ آج قرآن کریم نے اس کو یہ حوصلہ دیا ہے کہ وہ ایک ہی نششت میں پورا قرآن زبانی پڑھ جائے۔
اس کے معصوم حوصلوں کو آسمان کی رفعتیں جھک کر سلام کررہی ہیں۔ جامعہ اہل سنت نورالعلوم عتیقیہ مہراج گنج کی درودیوار اس بات کی گواہ بننے جارہی ہے کہ اس چہار دیواری کے اندر ایک کم عمر بچے نے رب کی سب سے بڑی امانت کی مکمل تلاوت کا بیڑا سر پر اٹھا لیا ہے۔
یہ وہی گراں مایہ امانت ہے جس کا بوجھ اٹھانے سے اللہ کی تمام مخلوق نے انکار کردیا تھا لیکن دو پیر والے کمزور انسان نے اس امانت کو اٹھانے اور اسے سنبھالنے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ اسی امانت کا بار اپنے سینے پر اٹھانے کے طفیل اللہ نے انسانیت کو شرف کرامت سے نوازا۔
عزیزم محمد الیاس بن محمد زمان انصاری،عمر چودہ سال متوطن لچھمن پور، شراوستی نے رات تین بجے سے اپنے استاذ حضرت قاری نورالدین رضوی صاحب کو قرآ ن کریم سنانا شروع کیا اور دن کے گیارہ بج کر پچیس منٹ پر قرآن کی آخری آیت تلاوت کرکے پورا قرآن ایک ہی نششت میں سنانے کا اعزازحاصل کیا۔
آج جامعہ اہل سنت نورالعلوم عتیقیہ مہراجگنج بازار ترائی بلرامپورکی انتظامیہ اور اساتذہ کے لیے خوشی کا دن ہے۔ اساتذہ کے چہرے دیدنی ہیں۔ جامعہ میں زیر تعلیم طلبہ کے حوصلے بلند ہیں۔
ہر چہرہ سے بشاشت ٹپک رہی ہے۔ یہ ایک ایسی خوشی ہے جو اہل ایمان کا مقدر ہوتی ہے۔ اس حلاوت اور چاشنی کو صرف اہل ایمان ہی محسوس کرسکتے ہیں۔ دنیا کی ساری دولت ایک طرف اوراس لمحے حاصل ہونے والی خوشی ایک طرف۔ اس خوشی کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی ہے یہ فرحت، یہ سرور انمول ہیں۔
عزیزم محمد الیاس سلمہ کے اعزاز میں پرنسپل جامعہ علامہ ضمیر احمدلطیفیؔ کی صدارت میں ایک نششت رکھی گئی، جس میںتمام اساتذہ، طلبہ اور جامعہ کی انتظامیہ نے شرکت کی۔ محفل کو خطاب کرتے ہوئے حضرت علامہ محب الرسول اشرفی صاحب قبلہ نے کہا کہ ” تلاوت قرآن بہت بڑا اعزاز ہے اور قرآن کی تلاوت اس امت پر فرض ہے، قرآن کا حفظ کرنا بھی اس امت پر فرض کفایہ ہے۔
آج کے زمانے میں اس کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ مسلم قوم اور ان کے بچے قرآن کی تعلیم اور حفظ قرآن سے دور ہورہے ہیں۔ قرآن پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ لائق مبارک باد ہیں آپ طلبہ، کہ آپ دین کا اورقرآن کا علم حاصل کررہے ہیں۔
مولانا فیاض احمد مصباحی نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جب پوری دنیا قرآن کے خلاف پروپیگینڈہ میں مصروف ہے اور مسلمانوں کے ایک طبقے نے قرآن سے اپنا دامن جھاڑ لیا ہے ایسے ماحول میں ایسے بچے ہمارے لیے اور پوری امت مسلمہ کے لیے خدا کی نعمت ہیں۔
ساتھ ہی مصباحی صاحب نے یہ بھی کہا کہ۔ حافظ قرآن کوئی عام بند ہ نہیں ہوتا ہے۔ جس پر اللہ کا کرم ہوتا ہے اسی کے سینے میں پورا قرآن داخل ہوتا ہے۔ آج سے آپ کو اپنے دماغ میں یہ بات بٹھا لینا چاہیے کہ آپ اللہ کے خاص بندے ہیں۔ لوگوں کی نظر آپ پر ہوگی لوگ آپ سے پیار کریں گے۔
محبت کی نظر سے دیکھیں گے آپ کی تعظیم کریں گے۔ ساتھ ہی آپ کا کوئی بھی قدم جو قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہوگا آپ کا وقار گرادے گا۔ آپ کی عزت مجروح ہوجائے گی۔
اس لیے اللہ کی بارگاہ میں دعا بھی کرتے رہیں کہ اللہ آپ کو ثابت قدم رکھے۔
جامعہ کے ناظم اعلی وصدراعلی کے ساتھ انتظامیہ کمیٹی نے اس عظیم خدمت پہ شعبہ حفظ کے استاذ حضرت قاری نورالدین رضوی کو مبارکباد دیا۔جامعہ کے اساتذہ مولاناذاکر حسین مصباحی، مولاناعبدالرقیب مصباحی، قاری ساجد علی اشرفی، مولاناخورشیداحمد، مولانامحمد شمیم، مولانافاروق، مولاناشیرعلی ثقافی، مولاناابراہیم نوری، قاری شفاعت اللہ رضوی، قاری شہادت علی قادری،مولانارجب علی نعیمی، مولاناسلمان رضااشرفی، مولاناغلام ربانی، ماسٹرعبدالقادر، ماسٹر شاداب خان ماسٹر جیلانی اورعلاقے کے مسلمانوں نے بھی قاری نورالدین رضوی کو اور متعلم جامعہ حافظ محمد الیاس کودعائیں دے کر حوصلہ افزائی کی۔
اس کو بھی پڑھیں : دارالعلوم رضائے مصطفیٰ چاند نگرکوسہ ممبرا کے ایک طالب علم نے ایک نشست میں مکمل قرآن سنانے کا شرف حاصل کیا
جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار
معزز علماے اہل سنت سے مودبانہ گزارش
مجاہد آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی
ہندوستان کی آزادی اور علامہ فضلِ حق خیرآبادی
جنگ آزادی 1857ء کا روشن باب : قائد انقلاب علامہ فضل حق خیرآبادی
جنگ آزادی میں علماے کرام کی سرگرمیاں
جنگ آزادی میں مسلمانوں کی حصہ داری