رندوں کو تسلی تھی کہ میخانے میں تم ہو
رندوں کو تسلی تھی کہ میخانے میں تم ہو !
اظفر منصور
(نائب مدیر ماہنامہ سراغ زندگی)
یہ دنیا فقط خسارے کی دنیا ہے، نہایت ہی چالباز اور حیلہ باز دنیا ہے۔ یہاں کسی بھی شئے کو قرار نہیں، ذی روح کو فرار نہیں۔
یہاں سب ایک افسانہ ہے، ہجوم فرد و بشر محض فریب و باغیانہ ہے، روز ایک بڑی تعداد آتی ہے اور دوسری بڑی تعداد اپنی بےکیف تمناؤں کو سر راہ چھوڑ جاتی ہے، یہ سلسلہ جاری ہے
خود ساختہ ربوبیت کے مدعیان سے لے کر دسیوں کمرے میں قید ہوجانے والوں کو بھی اس فانی جہاں سے لافانی جہاں تک کا سفر کرنا پڑا، ارسطو، افلاطون نام تو بہت سنا ہے لیکن ہیں کہاں؟ چند بالشت کے وسیع و عریض باغات میں یا تنگ و تاریک کوٹھری میں؟
پس ثابت ہوا کہ کل نفس ذائقۃ الموت تو ایسا کیسے ممکن تھا کہ ہمارے پیر و مرشد، استاذ و مربی، ناظم و صدر، قائد و مصنف، شفیق و کریم مرشد الامت و جانشین مفکر ملت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کو قرار آتا، پیام اجل بعید از بعید آتا، مگر جس ماحول میں آیا، جس طرز پر آیا، وہ قلب مکسور کو رنجیدہ، سیال آنکھوں کو نمدیدہ، ساکت جسم کو لرزہ بر اندام کرنے والا ہے۔
حسین صورت، منور آنکھیں، کشادہ جبیں، سفید و نورانی داڑھی کے مالک آخر یہ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کون ہیں، جن کی جدائی و فرقت کا غم اس امت کو نڈھال کر گیا۔ یہ کون ہے جس کا جانا کئے ادارے کو یتیم، کئی تنظیموں کو بے دست و پا کر گیا۔
آج ۲۱ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی یہ پر رونق رات کیوں مایوس ہے؟ ندوۃ کی چہار دیواری سے لے کر ہر ایک زندہ جسم کے قلوب کیوں ارتعاش کا شکار ہیں، آخر دنیا کی اس بھیڑ میں کسے اس قدر اہمیت دی جا رہی ہے ملک و بیرون ملک کے تمام ہی افراد غم کا اظہار کر رہے ہیں؟ سارا ہی منظر سوگوار ہے۔
آخر یہ کون ہیں جو بچھڑا تو رت ہی بدل گئی ہے؟ یہ ضرور کوئی عبقری شخصیت ہوگی، ضرور خالق جن و انس نے انہیں اپنے مقربین میں سے بنایا ہوگا، خاص اپنے کام کے لیے منتخب کیا ہوگا تبھی دیکھئے نہ بغیر کسی مسلک و مذہب کے تصادم کے ان کی وفات پر ملال پر تعزیتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
جی ہاں اس عظیم اور فقید المثال شخصیت مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی پیدائش یکم اکتوبر 1929 اترپردیش کے ایک مردم خیز علاقہ تکیہ کلاں رائے بریلی کے ایک علمی خانوادہ میں ہوئی، آپ کی ابتدائی تعلیم خاندانی مکتب رائے بریلی میں ہی ہوئی، اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے ماموں مکرم مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کی سرپرستی میں دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ گئے
اور یہاں سے 1948 میں جب کہ ملک دو سو سالہ تاریکی چھٹ چکی تھی، اور ملک آزادی کی ٹھنڈی و خوش گوار فضا میں سانس لے رہا تھا آپ کی تعلیم مکمل ہوئی، دوران تعلیم 1947ء میں آپ نے دارالعلوم دیوبند میں بھی ایک سال بغرضِ تعلیم گذارا (بحوالہ: مختصر حالات زندگی
حضرت رابع حسنی ندوی خدمات مفکر اسلام علامہ سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کی تربیت، فکر اور تحریک کا مکمل عکس جمیل تھے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی، آپ کی شخصیت اوائل عمر ہی سے تحریکی تھی
چناں چہ ندوۃ العلماء سے فارغ ہوتے ہی 1949ء میں آپ کا بحیثیت معاون استاذ عربی ادب تقرر ہوگیا، البتہ 1950-1951ء ایک سال آپ نے حجاز مقدس کے کئی علما، ادبا و کتب خانوں کی خاک چھانی، پھر 1952ء میں ندوۃ آئے، اور تین سال عربی ادب کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور رہے
پھر 1955ء شعبہ عربی ادب کے صدر منتخب کئے گئے، 1970ء میں دارالعلوم ندوۃ العلما کے عمید کلیۃ اللغۃ العربیہ منتخب ہوئے، 1993ء منصب اہتمام پر فائز ہوئے، 31 دسمبر 1999ء میں ناظم ندوۃ العلما مفکر اسلام علامہ علی میاں ندوی کے انتقال کے بعد جنوری 2000ء یعنی نئی صدی میں ندوۃ العلما کو نیا ناظم آپ کی شکل میں ملا، یہ تو آپ کی علمی خدمات کا مختصر خاکہ ہے اس کے علاوہ آپ نے بیشمار معرکۃ الآراء عربی و اردو تصنیف فرمائیں جو کہ مقبول خاص و عام ہے
بعض کتابیں ندوۃ العلماء اور اس کی کئی شاخوں میں زیر نصاب بھی ہیں، نیز آپ کی خدمات کا دائرہ ندوۃ العلماء کے علمی ماحول سے نکل کر مسلمانوں کے ملی مسائل کو بھی عبور کئے ہوئے ہے
چناں چہ 22 جون 2002 میں آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسی مسلمانوں کی مضبوط متحدہ جماعت کے متفقہ طور پر صدر بنائے گئے
اسی طرح تحریک پیام انسانیت کے علاوہ بیشمار اداروں، تنظیموں ، سوسائٹی، اکیڈمیوں کو اپنے گرانقدر خدمات دے کر نمایاں کیا جو کہ یقیناً آپ ہی کا حصہ تھا، لیکن اب یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیش کے لیے بند ہوگیا کہ وہ جو کئی دماغوں کا ایک دماغ تھا وہ خموش ہوا۔
مولانا اپنی زندگی میں سب سے زیادہ جس شخصیت کے اثرات کو پاتے تھے وہ آپ ہی کے چھوٹے ماموں حضرت مفکر اسلام کی شخصیت ہے، مفکر اسلام نے یوں تو اپنے پیچھے پوری جماعت چھوڑی تھی جو اس امت کو تمام تر انتشار و افتراق سے نجات دلانے کے لیے ہمہ تن تیار تھی
لیکن اس میں سے زیادہ نمایاں حضرت رابع حسنی ندوی علیہ الرحمتہ کی ہی ذات گرامی ہے، اس تجربہ آپ اس چیز سے لگا سکتے ہیں کہ 94 سال کی عمر گذار دی مگر کبھی زبان پر ایک حرف اختلاف کا نہیں آیا،
یہی وجہ ہے کہ آپ تمام مذاہب و مسالک میں یکساں مقبول تھے۔ آپ کی ذات اس موجودہ ناگفتہ بہ دور میں مسلمانوں کے لیے ایک حوصلے کی ذات تھی، مسلمانوں کو امید تھی کہ ان کے درمیان جب تک آپ کی عظیم المرتبت شخصیت موجود ہے انہیں کچھ نہیں ہو سکتا
لیکن افسوس امیدوں کا یہ روشن چراغ ۱۳ اپریل ۲۰۲۳ء دوپہر ہمیشہ کے لیے گل ہوگیا۔ رندوں کو تسلی تھی کہ میخانے میں تم ہو