نشہ ایک خاموش تباہی
نشہ ایک خاموش تباہی ، بکھرتے گھر، مرتی انسانیت اور ہماری ذمہ داری
از: اوشین شوکت (جموں کشمیر)
آج کا دور سائنسی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور بدلتی دنیا کا دور کہلاتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اسی ترقی یافتہ معاشرے میں ایک ایسی خاموش تباہی بھی جنم لے چکی ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ یہ تباہی “نشہ” ہے۔ نشہ صرف ایک عادت یا وقتی سکون کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا زہر ہے جو انسان کی سوچ، کردار، صحت، خاندان اور مستقبل سب کچھ برباد کر دیتا ہے۔
چاہے وہ منشیات ہوں، شراب ہو، چرس، ہیروئن، آئس، افیون، سگریٹ، گٹکا، نشہ آور گولیاں یا کوئی بھی ایسی چیز جس سے انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے….ہر وہ چیز جو انسان کو حقیقت سے دور لے جائے، تباہی کی طرف دھکیلتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں نشہ ایک فیشن، اسٹیٹس اور وقتی خوشی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل سوشل میڈیا، فلموں، غلط صحبت، ذہنی دباؤ، بے روزگاری اور ڈپریشن کی وجہ سے اس دلدل میں تیزی سے پھنستی جا رہی ہے۔
ابتدا میں لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ صرف “شوق” کے لیے یا “ٹینشن کم” کرنے کے لیے نشہ کر رہے ہیں، مگر آہستہ آہستہ یہی شوق ان کی زندگی کا سب سے بڑا عذاب بن جاتا ہے۔ نشہ انسان کے جسم کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔
ایک صحت مند انسان چند سالوں میں کمزور، بیمار اور ذہنی طور پر تباہ ہو جاتا ہے۔ جگر خراب ہو جاتا ہے، دل کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، دماغی توازن بگڑ جاتا ہے، انسان غصے، بے چینی، ڈپریشن اور خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔ کئی نوجوان اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، کئی لوگ نوکریاں کھو دیتے ہیں، اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے بکھر جاتے ہیں۔
سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج نشہ صرف چھپ کر نہیں بلکہ کھلے عام فروخت ہو رہا ہے۔ گلیوں میں منشیات بیچنے والے موجود ہیں، نوجوانوں کو آسانی سے نشہ آور چیزیں فراہم کی جا رہی ہیں، اور کئی جگہوں پر شراب کے ٹھیکے اور وائن شاپس عام نظر آتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر منشیات انسان کو تباہ کرتی ہیں تو کیا شراب اس تباہی کا حصہ نہیں؟ اگر چرس، ہیروئن اور آئس خطرناک ہیں تو شراب کیسے نقصان دہ نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کے دماغ، جسم اور عقل پر اثر ڈالے، وہ نشہ ہے۔
آج شراب کی دکانیں عام ہوتی جا رہی ہیں، کئی جگہوں پر انہیں ایک کاروبار کی طرح قبول کر لیا گیا ہے، حالاں کہ انہی جگہوں سے کتنے گھر برباد ہوتے ہیں، کتنے بچے اپنے والدین کی محبت سے محروم ہوتے ہیں، کتنی عورتیں گھریلو تشدد کا شکار بنتی ہیں، اور کتنے لوگ سڑک حادثات میں اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔
شراب کے نشے میں انسان اپنی پہچان، اخلاق اور شعور تک کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہزاروں جرائم، لڑائیاں، قتل اور حادثات نشے کی حالت میں پیش آتے ہیں۔ نشہ صرف ایک فرد کو نہیں مارتا بلکہ پورے خاندان کو اذیت دیتا ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کو مرتا دیکھتی ہے
ایک باپ اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے روتا ہے، بہن بھائی شرمندگی اور خوف میں زندگی گزارتے ہیں۔ کئی بچے ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں روزانہ لڑائی، چیخ و پکار اور تشدد ہوتا ہے۔ نشہ انسان سے اس کا سکون، عزت اور انسانیت سب کچھ چھین لیتا ہے۔
صرف نشہ کرنے والے ہی قصوروار نہیں بلکہ وہ لوگ بھی اتنے ہی مجرم ہیں جو نشہ فروخت کرتے ہیں، لوگوں کو اس طرف مائل کرتے ہیں، یا اس برائی کو عام کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ منشیات فروش دراصل قوم کے دشمن ہیں کیونکہ وہ نوجوان نسل کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قوانین، فوری کارروائی اور کڑی سزائیں انتہائی ضروری ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم بیدار ہوں۔ والدین کو اپنے بچوں پر توجہ دینی چاہیے، ان کے دوستوں اور عادات کو سمجھنا چاہیے۔ نوجوانوں کو اچھی صحبت اختیار کرنی چاہیے اور ہر اس ماحول سے دور رہنا چاہیے جہاں نشہ آور چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہو۔
تعلیمی اداروں میں نشے کے خلاف آگاہی پروگرام ہونے چاہئیں تاکہ طلبہ کو اس کے نقصانات کے بارے میں مکمل شعور حاصل ہو سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف قانون بنانے تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے۔
منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی ہو، شراب اور دیگر نشہ آور چیزوں کی آسان دستیابی کو روکا جائے، بحالی مراکز قائم کیے جائیں، اور نوجوانوں کے لیے تعلیم، کھیل اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مایوسی اور غلط راستوں کی طرف نہ جائیں۔
میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر نشے کو “اسٹائل” اور “کول” بنا کر پیش کرنا نوجوان ذہنوں کو متاثر کرتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا نشے کے اصل تباہ کن اثرات دکھائے تاکہ لوگ حقیقت کو سمجھ سکیں۔
ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اصل طاقت نشے میں نہیں بلکہ مضبوط ارادے، علم، شعور اور محنت میں ہے۔ ایک صحت مند نوجوان ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر ہماری نوجوان نسل نشے کی دلدل میں پھنس گئی تو قوم کا مستقبل اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔
آئیے! آج ہم سب مل کر یہ وعدہ کریں کہ اپنے آپ کو، اپنی نسلوں کو اور اپنے معاشرے کو اس خاموش زہر سے بچائیں گے، کیوں کہ زندگیاں تباہ کرنا آسان ہے مگر انہیں سنوارنے کے لیے پوری عمر لگ جاتی ہے۔
از: اوشین شوکت (جموں کشمیر)
اس کو بھی پڑھیں : بچوں کی تین بہترین عادات