مشاعرہ اردو زبان و ادب کے تحفظ کا بہترین ذریعہ ہے
مشاعرہ اردو زبان و ادب کے تحفظ کا بہترین ذریعہ ہے ، اسے عام ہونا چاہیے : عبدالسلام انصاری
مشاعرہ ادب نوازوں، ادب کی محفل ہے، شعراے کرام نے احساسات، جزبات، درد و کرب اور رومانیت کا بہترین مظاہرہ کیا : محمد رفیع
گرین گلوبل اسکول و قومی اساتذہ تنظیم گوپال گنج کے اشتراک سے ہوا آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد گوپال گنج، 17/ اگست, اردو زبان کے تحفظ، ترویج و اشاعت کے لیے ہم لوگوں نے بہت سارے تقریبات کا انعقاد کیا ہے۔
لیکن مشاعرہ اردو زبان و ادب کے تحفظ کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ باتیں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے سیکریٹری و ڈپٹی ڈائریکٹر سیکنڈری ایجوکیشن بہار جناب عبدالسلام انصاری نے آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئی کہی۔
جناب عبدالسلام انصاری نے یہ بھی کہا کہ چوں کہ مشاعرہ اردو زبان و ادب کو فروغ دینے کا بہترین طریقہ ہے اس لءے مشاعرہ کو خاص نہیں ہونا چاہیے بلکہ عام ہونا چاہیے۔
مشاعرہ میں شعراء کرام ہمارے آپ کے دل کی باتوں کو اس چاشنی سے پیش کرتے ہیں کہ آپ ساری رات اپنی جگہ چپکے رہ کر مشاعرہ کا مزہ لینے کو مجبور ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اردو زبان کی اس طرح بھی ہم خدمات انظام دے سکتے ہیں۔ جناب ایس ایم اشرف فرید نے کہا شعری نشست ثقافتی سرگرمیوں کو پیدا کرتی ہیں اور اس سے اردو زبان کا فروغ ہوتا ہے۔
میں مختلف پلیٹ فارم جس میں اردو ایکشن کمیٹی بھی شامل ہے اردو زبان کی بقاء و تحفظ کے لیے کوششیں کرتا رہتا ہوں جس سے اردو زبان فروغ پاتی ہیں۔
مہمان خصوصی قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر، خادم اردو و سیکریٹری عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن، تحریک تحفظ اردو زبان و ادب کے روح رواں جناب محمد رفیع نے خصوصی خطاب میں مختصر طور پر قومی اساتذہ تنظیم بہار کی کارکردگی اور جناب عبدالسلام انصاری و اشرف فرید صاحبان کے ذریعہ کئے گئے اردو زبان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادب نوازوں کی، ادب کی محفل ہے۔
یہاں جو شعراء کرام ہیں وہ مرزا غالب، میر تقی میر، علامہ اقبال، فیض احمد فیض کی طرح اپنے جزبات و احساسات کے ساتھ ہی درد و کرب کو اپنے کلام کے ذریعہ آپ تک پہنچانے کا کام کریں گے۔
جناب رفیع نے کہا کہ ہر وقت شعراء کرام کا ذہن اور دل سماجی، ملی و قومی مسائل کو لے کر مشغول رہتا ہے۔ انہیں میں کچھ ایسے شاعر ہوں گے جو مرزا غالب کی طرح فلسفیانہ و رومانی گفتگو کریں گے، کچھ علامہ اقبال کی طرح قومیت و مذہبی اظہار خیال پیش کریں گے، کچھ فیض احمد فیض کی طرح انقلابی ہوں گے تو کچھ جون ایلیا کی طرح جدیدیت پسند ہوں گے۔
ایک صنف کے مختلف پہلوؤں کے شعراے کرام ہمارے درمیان موجود ہیں جو ساری رات آپ کو سونے نہ دیں گے۔
اس موقع پر تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے مشاعرہ کے کنوینر اشرف الاسلام ندوی نے مشاعرہ کے مقاصد کا ذکر تفصیل سے کیا اور قومی اساتذہ تنظم، گرین گلوبل اسکول کی خدمات و اردو کے مسائل پر گفتگو کیا۔
اس عظیم الشان آل انڈیا مشاعرہ وکوی سمیلن و تحفظ اردو زبان و ادب پروگرام کے شعری نشست کی صدارت کرتے ہوئے استاد شاعر جناب فہیم جوگا پوری نے کہا کہ سالوں سے تنظیم سے جڑے افراد کی کد و کاوش سے میں واقف ہوں تنظیم کو عبدالسلام انصاری، ایس ایم اشرف فرید چیف ایڈیٹر روزنامہ قومی تنظیم و سرپرست قومی اساتذہ تنظیم بہار,محمد رفیع وغیرہ جیسے قوم کے سچے ہمدرد، متحرک و فعال،بیدار مغز اور باوقار و سنجیدہ مزاج کے حامل افراد کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل ہے
یقیناً یہ تحریک صوبہ بہار میں عنقریب ایک تاریخ رقم کرے گی اور اردو کو اس کا واجب حق دلاکر آنے والی نسلوں کے لیے مثال قائم کرے گی۔ پروگرام کو اے ڈی ایم سعد الحسن صاحب نے بھی خطاب کیا، انہوں نے اپنے غزل کے چند اشعار بھی پڑھ کر سنایا جسے لوگوں نے خوب پسند کیا۔
پروگرام میں مہمانان اعزازی کی حیثیت سے ضلع تعلیمی افسر یوگیس کمار سنگ، عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے صدر جناب منہاج ڈھاکوی، قومی اساتذہ تنظیم بہار کی ریاستی مجلس عاملہ کے رکن نسیم اختر، قومی اساتذہ تنظیم گوپال گنج کے جنرل سکریٹری رفیع احمد وغیرہ شامل تھے۔ مشاعرہ کی صدارت جناب عبدالسلام انصاری و نظامت کے فرائض قومی اساتذہ تنظیم گوپال گنج کے میڈیا انچارج محمد علی ظفر نے ادا کئے۔
آخر میں گرین گلوبل اسکول کے ڈائریکٹر صبر عالم کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔ اس پروگرام کے منتظمین جناب صبر عالم صاحب ڈائریکٹر گرین گلوبل اسکول، اشرف الاسلام ندوی، نبی اللہ احسن صاحب، میڈیا انچارج قومی اساتذہ تنظیم گوپال گنج محمد علی ظفر صاحب، وکاش کمار صاحب (پرنسپل گرین گلوبل اسکول)، ارشد عالم صاحب، مولانا سید الرحمن صاحب وغیرہ نے بہترین نظم کیا ہے۔
جن شعراء کرام نے اپنے کلام سے ساری رات سامعین کو جگائے رکھا ان میں مخصوص ہیں
اپنے کاندھوں کے فرشتوں یہ تعجب ہے مجھے
کیسے رہ لیتے ہیں مجھ جیسے گنہگار کے ساتھ
رضی احمد فیضی
امن پر یلغار ہے تو کیسی آزادی میاں
زندگی دشوار ہے تو کیسی آزادی میاں
معراج الدین
تشنہ ہم تم سے صنم شادی تو تتکال کریں گے
پنڈت کو اس وقت یہاں کال کریں گے تنگ
عنایت پوری
میں سمجھتا تھا کہ وہ تہمت پرانا ہو گیا
آج پھر اس کی نظر کا میں نشانہ ہو گیا
سنجئے مشر سنجئے
عمر کا بزرگی سے کچھ نہ کچھ تعلق ہے
خودکشی کا رسی سے کچھ نہ کچھ تعلق ہے
سمیع بہواروی
اس کے علاوہ جن لوگوں نے اپنے کلام پیش کئے ان میں سنیل کمار تنگ، نظیر احمد نظیر، فہیم جوگا پوری، بادشاہ پریمی، مشتاق راز، وسیم مظہر، ستمودا شرما صاحبہ، روبی گپتا صاحبہ، گیتا رانی صاحبہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔