بھوکے فلسطینی اور خاموش ضمیر
بھوکے فلسطینی اور خاموش ضمیر
از: محمد اقبال، آگرہ
اگر آپ کا پڑوسی بھوکا ہو تو قیامت کے دن اس کا سوال آپ سے کیا جائے گا” یہ صرف ایک حدیث نہیں بلکہ انسانیت کا ضمیر جھنجھوڑ دینے والا پیغام ہے۔
مگر کیا اس ضمیر کی کوئی بازگشت غزہ کی برباد بستیوں تک پہنچ رہی ہے؟ جہاں معصوم بچے، مائیں، بزرگ صرف بھوک سے مر رہے ہیں — نہ دوا، نہ پناہ، اور نہ روٹی۔دنیا کی آنکھوں کے سامنے غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
فضائی راستے سے جو امداد ڈالی جا رہی ہے، وہ بھی “موت” کی ایک اور شکل بن گئی ہے۔ کبھی امدادی سامان گر کر بچوں کو کچل دیتا ہے، اور کبھی وہ اشیاء چند ہاتھوں میں پہنچ کر فساد اور افراتفری کا باعث بن جاتی ہیں۔ اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ امداد بھی اسرائیل کی “اجازت” سے ہی ڈالی جا رہی ہے
ایک ظالم سے اجازت لے کر مظلوم کو سانس دینے کی کوشش!زمینی راستہ کیوں نہیں کھولا جاتا؟
کیا کوئی طاقتور ملک یا مسلم حکمران ایسا نہیں جو اسرائیل سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکے کہ “بس بہت ہو چکا!”؟
کیا یہ سوال قیامت کے دن ہم سب سے نہیں پوچھا جائے گا — “تم نے اپنی لاپرواہی سے غزہ کے بھوکے بچوں کو مرنے کیوں دیا؟
مسلم دنیا کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی آج ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ جو اندھے بنے بیٹھے ہیں، جو گونگے ہو چکے ہیں، جو بہرے ہو کر اسرائیل کے قدموں میں بیٹھے ہیں
کیا وہ سب اپنے رب کے سامنے حاضر نہ کیے جائیں گے؟ یہ وقت صرف دعا کا نہیں، جرآت ، قیادت اور غیرت کا مطالبہ کرتا ہے۔