اصلاحِ معاشرہ ایک فکری و عملی جائزہ
اصلاحِ معاشرہ ایک فکری و عملی جائزہ
لمحۂ خیال: اجمل حسین (کٹیہار، بہار)
متعلّم؛ جامعہ امجدیہ گھوسی مئو (یوپی)
معاشرہ انسانوں کے مجموعے کا نام ہے، جہاں افراد، خاندان، برادریاں اور طبقات مل جل کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے عمل، کردار اور سوچ کے ذریعے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب ایک معاشرے کے افراد سچائی، نیکی، عدل، امانت، حسنِ اخلاق اور باہمی محبت کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔
تو ایسا معاشرہ فلاح، ترقی اور سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جب خود غرضی، بدعنوانی، جھوٹ، ظلم اور اخلاقی زوال عام ہو جائے، تو معاشرہ انحطاط، بگاڑ اور تباہی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اصلاحِ معاشرہ کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ وہ انسانیت کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کی راہ پر گامزن کریں اور اخلاق و کردار کی تعمیر کریں
اصلاحِ معاشرہ کا مطلب یہ ہے کہ معاشرتی بگاڑ اور برائیوں کا سدّ باب کیا جائے اور معاشرے میں بھلائی، خیر خواہی، عدل، امن اور پاکیزگی کو فروغ دیا جائے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“وَ لۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ أُمَّةٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَیَأۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَیَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ ۚ وَ أُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ” (سورۃ آل عمران) “اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی دعوت دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔”
معاشرتی بگاڑ کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ جب دین سے دوری بڑھتی ہے اور دینی تعلیمات کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تو انسانی ضمیر کمزور ہو جاتا ہے، اور نتیجتاً برائیاں جنم لینے لگتی ہیں۔ اخلاقی پستی، جیسے جھوٹ، حسد، فحاشی، لالچ، بددیانتی اور خودغرضی، پورے معاشرتی ماحول کو مسموم کر دیتی ہے۔ عدل و انصاف کے فقدان، ظلم، ناانصافی، حقوق تلفی اور بدعنوانی جیسے عوامل معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ جب قانون بے اثر ہو جائے، رشوت عام ہو، اور تعلیم و تربیت کا معیار گرتا چلا جائے، تو معاشرہ تیزی سے بگاڑ کی جانب بڑھتا ہے
ایسے حالات میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے انفرادی و اجتماعی سطح پر سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلا ذریعہ تعلیم و تربیت ہے۔ دینی و دنیاوی تعلیم کا توازن برقرار رکھتے ہوئے، افراد کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت کی جائے تاکہ وہ باکردار انسان، دیندار مسلمان اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔ ہر فرد کا فرض ہے کہ نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے، جیسا کہ قرآن و سنت کا حکم ہے۔
گھر اور خاندان معاشرتی تربیت کا پہلا ادارہ ہے۔ والدین اور سرپرستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کا اہتمام کریں، تاکہ نیک اور صالح افراد پروان چڑھیں۔
علماء، مشائخ اور دینی راہنما اصلاحِ معاشرہ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کردار صرف وعظ و نصیحت تک محدود نہ ہو بلکہ وہ اپنے عمل، کردار اور طرزِ زندگی سے ایک عملی نمونہ پیش کریں۔ اسی طرح عدل و انصاف کا قیام، حکومتی شفافیت، مساوات اور قانون کی بالادستی بھی اصلاحِ معاشرہ کے لیے لازمی ہے۔ اگر ریاستی ادارے خود کرپشن، جانبداری اور ناانصافی میں ملوث ہوں، تو اصلاحِ معاشرہ محض خواب بن کر رہ جائے گی
موجودہ دور میں میڈیا بھی ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ اگر میڈیا اصلاحی پیغامات، دینی تعلیمات، سیرتِ نبوی، اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داریوں کو عام کرے، تو لاکھوں دلوں میں مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کا میڈیا بیشتر اوقات فتنہ، فحاشی، تعصب اور بے راہ روی کو فروغ دے رہا ہے، جو اصلاح کے بجائے مزید بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو زندگی کے ہر شعبے کی رہنمائی کرتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔” (صحیح مسلم)
یہ حدیثِ مبارکہ اصلاحِ معاشرہ کے لیے ایک فطری، جامع اور تدریجی حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے، جو ہر فرد کو اس کی استطاعت کے مطابق اصلاحی کردار ادا کرنے کی تلقین کرتی ہے۔
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اصلاحِ معاشرہ کوئی وقتی نعرہ یا عارضی مہم نہیں، بلکہ ایک ہمہ وقت جاری رہنے والا فریضہ ہے، جو ہر فرد سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی ذات کی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی فلاح کی فکر بھی کرے۔ معاشرتی برائیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ حسنِ اخلاق، عدل، رواداری، بھائی چارہ اور محبت کو فروغ دیا جائے۔ جب ہر فرد اپنی اس ذمہ داری کو پہچانے گا، تب ہی ہم ایک صالح، فلاحی، پرامن اور مہذب معاشرہ تشکیل دے سکیں گے
زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم ترین مالی فریضہ