سابق وزیر اعلی عبدالغفور کو بہار کی سرکردہ شخصیات نے پیش کیا خراج عقیدت

Spread the love

اکیسویں یوم وفات پر سابق وزیر اعلی عبدالغفور کو بہار کی سرکردہ شخصیات نے پیش کیا خراج عقیدت

عبدالغفور انسانیت کے پیکر، انہوں نے شرافت اور خوداری کی مثال قائم کی : ڈاکٹر احمد اشفاق کریم

محمد ارشاد اللہ، عبدالسلام انصاری، اشرف فرید، عبدالمالک، اظہار عالم، محمد رفیع و منہاج ڈھاکوی نے کیا خطاب

پٹنہ، 10/ جولائی، 70 کی دہائی میں جب جے پی تحریک عروج پر تھی اور بہار میں وزیر اعلی کے بدلنے کا سلسلہ چل رہا تھا۔ ملک میں ایمرجنسی جیسی حالت بن رہی تھی ایسے وقت میں عبدالغفور صاحب کا وزیر اعلی بننا بہت بڑی بات تھی۔ اس سے بھی مشکل تھا دو سال تک اپنی کرسی کو بچائے رکھنا۔

یہ باتیں عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے سرپرست اعلیٰ و عبدالغفور مرحوم کے 21 ویں یومِ وفات کے موقع سے یادگاری تقریب کے صدر ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، سابق ایم پی راجیہ سبھا، چانسلر الکریم یونیورسٹی و بانی ڈائریکٹر کٹیہار میڈیکل کالج کٹیہار اپنے صدارتی خطبہ میں بیان کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتے تھے۔ ایمانداری و خودداری کی انہوں نے جو مثال قائم کی ہے وہ قابل ستائش ہے قابل تقلید ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بہار جناب نتیش کمار نے اب تک کی تاریخ میں سب سے زیادہ اقلیتوں کی تعلیم و روزگار کے لئے کام کیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے تمام اضلاع میں اقلیتی ہاسٹل و اقلیتی تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ پٹنہ میں انجمن اسلامیہ کی شکل میں انہوں نے ایک شاہکار نمونہ قائم کیا ہے۔ جناب کریم نے کہا کہ آخر مسلمانوں کے بچے کیوں نہیں پڑھتے ہیں، کس نے پڑھنے سے روکا ہے۔

کرسچن سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے کہ کس طرح اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ آج جو اقلیتوں کا ہمدرد بنا ہے اور سیکولر کہلاتا ہے سال 2004 میں جب غفور صاحب کا انتقال ہوا تو اس وقت انہیں سیکولر جماعت کی حکومت تھی

لیکن ان کے جنازہ میں سرکار کا ایک نمائندہ بھی نہیں گیا۔ انہوں نے حکومت بہار سے مانگ کی ہے کہ جس طرح کرپوری ٹھاکر و دیگر رہنماؤں کی یومِ پیدائش و یومِ وفات سرکاری سطح پر منائی جاتی ہے ویسے ہی سابق وزیر اعلی بہار عبدالغفور مرحوم کی بھی منائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پتا ہے، ہمارے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے۔

ہمیں متحد ہو کر احتجاج کرنا چاہئے ، وزیر اعلی سے ملاقات کر اپنی بات رکھنی چاہئے۔ جناب ارشاد اللہ صاحب نے کہا کہ غفور صاحب کیا بے باک رہنما تھے‌، میری ان سے تین بار ملاقات ہوئی تھی، وہ ایسے ایماندار تھے کہ اپنے بیٹا عبدالمنان کو کہتے تھے کہ تم گوپال گنج جاؤ یہ سرکاری مکان و گاڑی تمہاری نہیں ہے۔

اس موقع پر عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے سیکریٹری و ریاستی کنوینر قومی اساتذہ تنظیم بہار محمد رفیع نے کہا کہ بہار ہی نہیں ہندوستان کا مسلمان آج خود کا اعتماد کھو چکا ہے جسے بحال کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ عبدالغفور مرحوم ہمارے لئے آئیڈیل ہیں۔ ان سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اگر ہم صحیح سمت میں بڑھتے ہیں تو وزیر اعلی کی کرسی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

جناب رفیع نے مزید کہا کہ اس کے لئے ہمیں اپنے کردار کو بلند کرنا ہو گا اور ایثار و قربانی کے جذبہ سے سرشار ہونا پڑے گا۔ عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے صدر نے فاؤنڈیشن کے مقاصد سے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ عظیم مقاصد کی حصول یابی کے لیے عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن قائم کیا گیا ہے۔

جس کے تحت جہاں ملت کو عبدالغفور مرحوم کی انقلابی اور عظیم شخصیت، ان کی سیاسی بصیرت، سادگی و متانت، حکمت و تدبر، حق گوئی و بے باکی سے روشناس کرایا جائے گا وہیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلمانوں میں تعلیمی ترقی، سیاسی بیداری اور سماجی و معاشی انقلاب پیدا کرنے کی سمت میں بھی کام کیا جائے گا۔

قومی تنظیم کے مدیر اعلی و سرپرست قومی اساتذہ تنظیم بہار جناب ایس ایم اشرف فرید نے کہا عبدالغفور صاحب نے گوپال گنج کے گاؤں میں سال 1918 میں پیدا ہوئے ، تعلیم کے لیے انہوں نے پٹنہ اور علی گڑھ کا رخ کیا۔ انہوں نے ایمانداری کی ایسی مثال قائم کی کہ وہ وزیر اعلی کے عہدہ سے ہٹتے ہی سرکاری سہولیات سے انکار کر دیا اور رکشہ سے اپنے گھر گئے۔

سابق ایم ایل اے جناب اظہار عالم نے کہا کہ ڈاکٹر احمد اشفاق کریم آج بہار کے سرسید ہیں۔ اور انہوں نے سابق وزیر اعلی عبدالغفور کی شخصیت کے تشہیر کا جو ذمہ لیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔

جناب عبدالسلام انصاری، سیکریٹری بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ و ڈپٹی ڈائریکٹر سیکنڈری ایجوکیشن بہار جناب عبدالسلام انصاری نے کہا کہ عبدالغفور صاحب کو سچی خراج عقیدت تب ہوگی جب ہم ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں اور تعلیم حاصل کریں۔

ڈاکٹر انوار الھدیٰ نے عبدالغفور صاحب سے اپنے والد کی دوستی اور روزنامہ اردو اخبار کو ان کے تعاون کا ذکر کیا اور کہا کہ آج ڈاکٹر احمد اشفاق کریم جو کام کر رہے ہیں وہ اب تک تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

اشرف النبی قیصر، مولانا شبلی قاسمی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن قائم کرنے اور ان کی شخصیت کو زندہ کرنے کا جو بڑا کام کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔
پروگرام کے شرکاء میں عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے خزانچی قاضی نقیب ایکتا، قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی صدر تاج العارفین، سیکریٹری محمد تاج الدین، ریاستی مجلس عاملہ کے رکن نسیم اختر، عظیم الدین انصاری، کنوینر چھپڑا ابرار عالم، سیتامڑھی کنوینر محمد ربانی منہاج، گوپال گنج جنرل سیکریٹری رفیع احمد، میڈیا انچارج محمد علی ظفر، محمد شہنشاہ عرف عبداللہ، ذاکر علی انصاری، حافظ رضوان اللہ، عرفان احمد دلکش، رضی احمد فیضی، راشد احمد، شعبان، انعام الحق، مکھیا فاروق اعظم، تحسین ندیم، محمد اسماعیل، آصف نسیم، للن مانجھی، اوم پرکاش۔ پروگرام کا آغاز قاری انوار کے تلاوت قرآن پاک اور شمع روشن کر ہوا۔ صدارت ڈاکٹر احمد اشفاق کریم اور نظامت کے فرائض محمد رفیع نے انجام دئے۔

پروگرام قاضی نقیب ایکتا کے اظہار تشکر کے ساتھ ہوا۔ آج کی اس تقریب بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین جناب امتیاز احمد کریمی کو عبدالغفور ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس موقع پر انہوں نے عبدالغفور صاحب کے حوالے سے تعلیم کی حصولیابی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے امت کو ایک چیز اقراء ملا جو کامیابی کی کنجی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *