زبان اردو
زبان اردو
مضمون نگار :حافظ محمد شارق خان
معلم: یو، ایم، ایس، سید آباد، ضلع جہاں آباد موبائل نمبر : 8409306943
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے سینکڑوں اور بھی دنیا میں زبانیں ہیں مگر جس پہ مرتی ہے فصاحت وہ زباں ہے اردو چرچا ہر ایک جہان ہے اردو زبان کا گرویدہ کل جہان ہے اردو زبان کا اردو ہمارے ملک ہندوستان کی ایک اہم اور خوب صورت زبانوں میں سے ایک ہے اور آۓ دن اس زبان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے
حالانکہ اس زبان پر فارسی اور عربی کے اثرات زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ہندی زبان کی طرح ہی ہند آریائی زبان ہے جو اسی ملک میں پیدا ہوئی ہے یہ ایک جدید ہند آریائی زبان ہے جس کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ زبان دہلی اور دہلی کے گرد و نواح میں پیدا ہوئی۔
اور یہیں سے ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل گئی شعر و ادب کی محفلوں سے لے کر محلہ بازار گھر اسکول اور ہر جگہ اس کی جادو بیانی کا سکہ سر چڑھ کر بول رہا ہے اور اپنی ایک منفرد پہچان بنائے ہوئے ہےہمارے ملک ہندوستان کے کونے کونے میں کسی نہ کسی حیثیت سے اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے اور اس زبان سے محبت کرنے والے مل جاتے ہیں
خصوصی طور پر دہلی لکھنو حیدرآباد بھوپال ممبئی اور پٹنہ اس کے خاص مراکز ہیں اردو زبان و ادب میں مختلف زبان کے الفاظ ملتے ہیں جس میں خصوصیت کے ساتھ عربی فارسی عبرانی انگریزی تمل پنجابی گجراتی اور ہندی کے الفاظ پائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ زبان ہندوستان کے کسی علاقے کے لیے بھی اجنبی محسوس نہیں کی جاتی ہے اردو زبان و ادب کے نشونما میں بلا کسی امتیاز مذہب کے تمام قوموں کا اشتراک حاصل رہا ہے
مختلف قوم اور نسلوں کے اشتراک سے یہ زبان اور بھی پیاری ہو گئی ہے اور صحیح معنوں میں ہمارے ملک کی مشترکہ تہذیب کے لیے اپنی ایک مثال رکھتی ہے خاص طور پر اردو شاعری اپنے آغاز سے ہی ایک مشترکہ تہذیب کی امین رہی ہے تصوف اور بھگتی تحریک نے اس زبان پر اپنے گہرے نقوص چھوڑے ہیں بلاشک و شبہ یہ زبان مذہب و ملت کی تفریق کو مٹانے میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے
اردو شاعری نے خصوصیت کے ساتھ ہندو مسلم مذاہب کے میلان کا کام انجام دیا ہے اگر ہم اردو شاعری کے ارتقائی مراحل پر ایک سرسری نظر ڈالیں گے تو ہمیں یہ بخوبی اندازہ ہوگا کہ تصوف اور بھگتی تحریک نے اردو شاعری کو کس طرح متاثر کیا ہے تیرہویں صدی میں دہلی میں ایک مرکزی سلطنت قائم ہو چکی تھی
اور اسی دور میں تصوف اور بھگتی تحریکیں پروان چڑھیں اکبر اعظم کا دور صحیح معنوں میں ہندو مسلم تہذیبوں کے میل ملاپ کا دور تھا ان کے عہد میں مشترکہ تہذیب نے پھلنے پھولنے کا پورا موقع حاصل کیا تصوف اور بھکتی تحریک کے اس میل ملاپ سے اردو شاعری کو فروغ حاصل ہوا
اس میں ایک طرف اگر ترکی فارسی اور عربی الفاظ کی آمیزش ہوئی تو دوسری طرف تلسی داس اور ملک محمد جائسی نے اودھی زبان میں لافانی ادب تخلیق کیا بہمنی عہد میں ہندوستانی تہذیب نے دکن میں بھی فروغ حاصل کیا دکنی عادل شاہی اور کتب شاہی دور میں شعر و ادب کے ذریعے مشترکہ تہذیب کو بہت فروغ ہوا ہندو مسلم تہذیبی اشتراک سے دکنی اردو عوام میں بے حد مقبول ہوتی گئی یہاں تک کہ قلی قطب شاہ کے عہد میں اس زبان نے ادبی درجہ حاصل کر لیا
عادل شاہی اور قطب شاہی دور میں دکنی زبان و ادب کا کافی عروج ہوا قلی قطب شاہ کے دیوان میں ہندوستانی موسموں تہواروں رسم و رواج اور ہندو دیو مالا کے حوالے ملتے ہیں ان حوالوں سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح دکن میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے تہذیبی اشتراک سے ایک نیا معاشرہ وجود میں آرہا تھا
شمالی ہند کے اولین شعرا میں بھی اس تہذیبی اشتراک کے نقوش بہت واضح طور پر ابھرتے نظر آتے ہیں غزل ہو یا نظم مثنوی ہو یا قصیدہ یہاں تک کہ مرثیوں میں بھی مشترکہ ہندوستانی تہذیب سمائی ہوئی ہے مثنویوں اور قصیدوں میں خصوصیت کے ساتھ ہندوستانیت کے عناصر بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں جیسا کہ ہم تمام جانتے ہیں
کہ اردو زبان کسی محدود اور مخصوص خطے کی زبان نہیں بلکہ پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور ہندوستان کے دستور میں 15 قومی زبانوں میں اردو زبان بھی شامل ہے
زبان کے استعمال طباعت اور اشاعت کے اعتبار سے اس کا شمار ہندوستان کی اہم زبانوں میں ہوتا ہے اردو قومی زبان کی حیثیت رکھنے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی آبادی کے ایک بڑے حصے کی مادری زبان بھی ہے
اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ مادری زبان ہی بچے کی پہلی زبان ہوتی ہے جسے وہ اپنی ماں کی گود میں سیکھتا ہے اور اسی زبان کے ذریعے وہ اپنے گرد و نواح کے ماحول سے شناسائی حاصل کرتا ہے اور مادری زبان کے ذریعہ ہی خارجی لوگوں سے بآسانی رابطہ پیدا کر سکتا ہے
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے ماہرین اس بات سے متفق ہیں کہ بچے کی تعلیم خصوصیت کے ساتھ ابتدائی تعلیم مادری زبان کے ذریعے ہونی چاہئے مادری زبان کے ذریعے حاصل کی ہوئی تعلیم نہ صرف مستحکم ہوتی ہے
بلکہ مؤثر بھی ہوتی ہے اس لئے صحیح معنوں میں تعلیم کے امکانات اسی وقت روشن ہوں گے جب مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے گا
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خوب صورت زبان کو زندہ اور جاوید بنائے رکھنے کے لئے پوری ایمانداری کا ثبوت دیتے ہوئے اور اس خوبصورت زبان کو امانت سمجھتے ہوئے اگلی نسلوں میں اس خوبصورت زبان کو منتقل کر نے کے جو بھی طریقے کار ہوں اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔۔۔