ڈاکٹر ریحان غنی غلام سرور ایوارڈ و عبدالسلام انصاری بیتاب صدیقی ایوارڈ سے ہوئے سرفراز
ڈاکٹر ریحان غنی غلام سرور ایوارڈ و عبدالسلام انصاری بیتاب صدیقی ایوارڈ سے ہوئے سرفراز
پٹنہ
یوم اردو تقریب کے موقع پر قومی اساتذہ تنظیم بہار نے اردو کے بے لوث خادم، اردو تحریکوں کی جان، مشہور و معروف صحافی، روزنامہ تصدیق کے مدیر اعلی و نائب صدر اردو ایکشن کمیٹی بہار کو قومی اساتذہ تنظیم بہار نے ان کو تحریکی، صحافتی و سماجی خدمات کے لئے الحاج غلام سرور ایوارڈ سے نوازا۔ ڈاکٹر ریحان غنی 1952میں پھلواری شریف میں پیدا ہوئے ۔
وہیں ہائی اسکول سے 1967میں میٹرک اور پٹنہ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1978 میں شیر بہار غلام سرور کے اخبار سے صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے قبل وہ ان کی اردو تحریک سے جڑ چکے تھے۔
ریحان غنی 1981 سے 1983 تک اور پھر 1985 سے 1991 تک قومی آواز پٹنہ ایڈیشن کے شعبہ ادارت سے وا بستہ رہے۔ درمیان میں محکمہ راج بھاشا کے تحت سہرسہ بلاک آفس میں اردو مترجم کے عہدے پر فائز رہے۔
قومی آواز بند ہونے کے بعد وہ مختلف اخبارات سے وابستہ رہے جن میں انقلاب جدید پٹنہ، نیا اردو سما چار ناگ پور، اقرا کلکتہ، پندار پٹنہ میں بھی صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس وقت وہ روزنامہ تصدیق کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ ان کی اب تک دو کتابیں” قوس قزح”اور ” اردوئے معلیٰ کی ادبی خدمات” منظر عام پر آچکی ہیں۔
ان کا کالم” دو ٹوک ” بہت مشہور ہے۔ ان کی صحافتی خدمات 43 سال پر محیط ہیں۔
دوسری جانب ہردلعزیز و بہت ہی متحرک و فعال افسر و سماجی، ملی خدمت گار، جو اردو، عربی و فارسی زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے فکرمند رہنے والے جناب عبدالسلام انصاری سیکریٹری بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ و ڈپٹی ڈائریکٹر سیکنڈری ایجوکیشن بہار کو عربی، فارسی زبان کے اساتذہ کی بحالی کرانے میں اہم رول ادا کرنے و اردو زبان کی ترقی کے لیے بیتاب رہنے کے اعتراف میں قومی اساتذہ تنظیم بہار نے بیتاب صدیقی ایوارڈ سے نوازہ ہے۔ عبدالسلام انصاری کے والد اسکول میں استاد تھے اور انہوں نے بہت سادہ زندگی گزارا ہے۔
ان کا ہر خواس و عام سے دوستانہ تعلق رہتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیشہ وارانہ زندگی کی شروعات ایک استاد کی حیثیت سے کی تھی پھر وہ عدالت میں پیش کار ہوئے اور اپنی لگن و محنت کے بوتے فارسی زبان کے ساتھ بہار پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا۔
پہلے تو انہوں نے اڈمنیسٹریشن کے شعبہ میں خدمات انجام دئے پھر وہ تعلیمی شعبہ کے افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگے۔
جناب انصاری کو اسی شعبہ میں مقبولیت حاصل ہوئی، اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے انہوں نے بڑے خدمات انجام دئے ہیں۔ عربی زبان کے اساتذہ کی بحالی کی جو روایت بہار میں قائم ہوئی ہے اس کے لئے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع کے ساتھ جناب عبدالسلام انصاری کو بھی اعزاز جاتا ہے۔
وہ سرکاری اسکولوں کے ساتھ ہی پرائیویٹ اسکولوں میں بھی اردو زبان کو لازمی طور پر پڑھوانے کے لیے فکرمند رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ریحان غنی و عبدالسلام انصاری کو کیبنیٹ وزیر اقلیتی فلاح زماں خان و سابق ایم پی راجیہ سبھا ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے مشترکہ طور پر قومی اساتذہ تنظیم بہار کے صدر تاج العارفین ، کنوینر محمد رفیع اور سیکریٹری محمد تاج الدین کی موجودگی میں دی ایوارڈ سے نوازہ، اس موقع پر الحاج ارشاد اللہ چیئرمین بہار سنی وقف بورڈ پٹنہ، امتیاز احمد کریم، پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی اور ایم ایل سی آفاق احمد وغیرہ موجود تھے۔ اردو آبادی میں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے اس فیصلے سے پوری اردو آبادی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ڈاکٹر ریحان غنی و عبدالسلام انصاری کو ایوارڈ ملنے پر ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، امتیاز احمد کریمی، پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی، اشرف فرید، تاج العارفین، محمد رفیع، محمد تاج الدین، ڈاکٹر انوار الھدیٰ، اشرف النبی قیصر، منہاج ڈھاکوی، عبدالباقی صدیقی اور عظیم الدین انصاری وغیرہ نے مبارکباد پیش کی ہے۔