اے ایمان والو اللہ کے مددگار بنو

Spread the love

كُونُوْا أَنْصَارَ اللّه(  اے ایمان والو اللہ کے  مددگار بنو  !) (قسط:۱)

مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

اللہ تعالیٰ پر ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرنے کا دعویٰ کرنے والے ہر شخص سے اللہ کا مطالبہ ہے کہ ’’كُونُوا أَنصَارَ اللّهِ‘‘ ’’اللہ کے مدد گار بنو‘‘ یہ مدد کس طرح کی جائے اس کی مثال ‘ یوں کہ جس طرح حضرت مریمؑ کے بیٹے حضرت عیسیٰؑ نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مدد گار بنے؟

جواب میں حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راہ میں مدد گار ہیں، اس طرح یہ بات بتلادی گئی کہ دین کی اقامت میں اللہ کے نبی کی مدد کرنا اللہ کی مدد کرنا ہے۔

حضرت عیسیٰؑ کی دعوت و پکار پر ان کے چاہنے والے ، ان سے خالص محبت کرنے والے اور کسی طرح کا کھوٹ اپنے اندر نہ رکھنے والےحواریوں نے لبیک کہا اور بلا کسی جھجک، بغیر کسی ملاوٹ کے صاف و شفاف طریقہ سے حضرت مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھ دیا اور اللہ نے انہیں باطل پر غلبہ عطا فرمایا یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جو ایمان نہ لائے تھے انہیں ایمان لانے والوں کے ہاتھوں مغلوب کردیا۔

مذکورہ آیت کریمہ سورۃ صف کی آیت 14 کا ابتدائی حصہ ہے، جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے مددگار بنو۔ اس پوری سورہ ’’الصف‘‘ میں جن باتوں کی طرف اشارات آئے ہیں اور جن باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ غالباًجنگ اُحد کے متصل بعد نازل ہوئی ہے

ذرا ہم جنگ اُحد کے بعد کے حالات پر بھی سرسری نگاہ ڈالیں تاکہ اللہ کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک کو معلوم ہوجائے کہ کن حالات سے قیام خیر و فلاح ‘ نیکیوں کو فروغ دینے برائیوں اور ظلم وستم کو مٹانے اور اللہ کی مرضی کو اللہ کے بندوں اور اس کی زمین پر نافذ کرنے ‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثال قیادت میں برپا ہونے والی تحریک آزمائش سے دوچار تھی۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں حق و باطل کی معرکہ آرائیوں میں معرکہ اُحد بھی بہت مشہور ہے۔

اسلام کا پہلا اور کام یاب معرکہ ’’جنگ بدر‘‘ ہے۔ اس میں مشرکین مکہ کے کئی بڑے بڑے سردار مارے گئے، جس کا بدلہ لینے کے لیے مشرکین مکہ نے پوری تیاری کے ساتھ سن 3 ہجری کی ابتداء میں مسلمانوں سے انتقام کی آگ اپنے سینوں میں لے کر تین ہزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ آور ہوئے اور نبی کریمؐ نے بھی اپنے ایک ہزار صحابہ کو لےکر احد کے لیے نکل پڑے جن میں ایک ظاہری ایمان رکھنے والا عبداللہ بن ابی بھی تھا

لیکن مقام احد تک پہنچنے کے دوران عذر لنگ کرتے ہوئے اپنے تین سو ہمنوائوں کو لے کر واپس ہوگیا۔ اب صرف (700) سات سو کی تعداد رہ گئی اور معرکہ اُحد گرم ہوا‘ ابتداء میں اسلامی لشکر کو کام یابی حاصل ہوئی

لیکن اس موقع پر چند لوگوں سے ایک بڑی سہو ہوگئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کا باعث تھی جس کی وجہ سے جیتی ہوئی جنگ ایک طرح سے ہار میں بدل گئی۔

یہ اور بات ہے کہ (اللہ کی طرف سے)ایک غیبی نصرت مسلمانوں کو حاصل ہوئی کہ کفار مکہ اپنی جیتی ہوئی جنگ کو چھوڑ کر مکہ بھاگ گئے۔ اس طرح جنگ احد کے بعد مدینے میں عجیب حالات پیدا ہوگئے ، ایک طرف سچے اہل ایمان تھے ، دوسری جانب ظاہری مسلمان اور تیسری جانب ضعیف الایمان ، لیکن جو قوی الایمان جماعت صحابہؓ کی تھی وہ تو ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارہ پر اپنی جان عزیز خدا کی محبت اور اس کے رسولؐ کی الفت میں لٹادینے کو تیار رہا کرتے تھے۔

لیکن جن لوگوں کا ایمان ابھی کمزور تھا انہیں ،اسلام سے بد دل کرنے کی کوششیں منافقین کی جانب سے کی جانے لگیں اور اس میں وہ کسی طرح کام یاب بھی ہوتے دیکھائی دے رہے تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نور اللہ مرقدہ نے اس سلسلہ میں یوں تحریر فرمایا۔

مسلمانوں میں جو لوگ کمزور ایمان والے تھے، وہ اس حادثہ سے بد دل ہوگئے اور ان کی اس بد دلی سے منافقین نے فائدہ اٹھاکر ان کے دلوں میں اسلام، اسلام کے مستقبل اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مختلف قسم کے وسوسے بھرنے شروع کردیئے۔ یہود کو بھی اس حادثہ سے بڑی شہ ملی وہ ازسر نو اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں سرگرم ہوگئے۔

قریش کو بدر کی شکست سے جو ضرب پہنچی تھی اس کا زخم گویا اس واقعہ سے مندمل ہوگیا اور وہ پھر یہ حوصلہ کرنے لگے کہ اسلام کو زک پہنچائی جاسکتی ہے۔ (تدبرقرآن)

جنگ اُحد کے ان حالات کے بعد سورۃ الصف میں اہل ایمان کے صالح اوصاف کی تعریف کی گئی اور عمومی طور پر ضعیف الایمان مسلمانوں کی تربیت کا سامان بھی کیا گیا اور پھر منافقین کے اعمال اور ان کے طرز عمل پر گرفت کی گئی۔

جنگ اُحد کے بعد کے چند حالات معلوم ہونے کے بعد ہم اب اصل بات کی طرف آتے ہیں، جو سورۃ الصف کی آخری آیت کریمہ 14 میں بیان ہوئی ہے جو رہتی دنیا تک اہل ایمان کو تاکید کرتی ہے۔

اور پچھلی 13 آیات کریمہ کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی کہ تکبیر رَب، دعوتِ توحید، تبلیغ دین اور نور ہدایت کی شمع روشن کرتے ہوئے دنیا کو منور کرنے ؛ حق کے عملم برداروں کو کن اوصاف کی ضرورت ہے، کس طرح کا اخلاص درکار ہے، خدا کی راہ میں جدوجہد کرنے والے کیسے ہوتے ہیں وغیرہ ۔

قرآن حکیم اس جانب متوجہ کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ نے اپنے حواریوں سے سوال کیا کہ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللّهِ‘‘ ’’کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مدد گار؟ اس کے جواب میں (حق سے محبت کرنے والے) حواریوں نے فوری جواب دیا: *نَحْنُ أَنصَارُ اللّهِ* ’’ہم ہیں اللہ کے مدد گار‘‘ اس طرح نبی وقت عیسیٰ علیہ السلام کی قیادت اور ان کے دست و بازو بننے والے حواریوں (انصار کار کنان) کی اپنے نبی سے سچی محبت و الفت اور اپنے نصب العین {اقامت دین} سے سچی لگن نے انہیں وہ دن بھی دکھا دیئے کہ مسیح علیہ السلام پر ایمان نہ لانے والے یہود پر “عیسائی” ( یعنی عیسیٰؑ پر ایمان لانے والے مسلمان) غالب آگئے۔

اب یہی مطالبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کے سامنے رکھا جارہا ہے کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو ’’کونو انصار اللہ ‘‘ اللہ تعالیٰ کسی کی نصرت کا محتاج نہیں ہے، وہ (معاذاللہ) ضعیف نہیں ہے کہ اسے کسی کی مدد کی احتیاج ہو۔

بایں ہمہ اگر بندۂ مومن اس کے دین کے غلبے کے لیے سعی کررہا ہو‘ اس کے دین کی سربلندی کے لیے جان اور مال کھپارہا ہو۔

اس کے رسول کے مشن کی تکمیل کے لیے جسم و جان کی توانائیوں کو صرف کررہا ہو، اپنے مال و اسباب اور وسائل وذرائع کو اس راہ میں خرچ کررہا ہوتو اللہ تبارک تعالیٰ ایسے بندوں کی اس قدر قدردانی فرماتا ہے کہ ان کے سارے اعمال کو اپنی مدد سے تعبیر فرماتا ہے، بندہ مومن کے لیے اس سے بڑھ کر دنیا میں اونچا مقام اور کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ اپنی مخلوق (اہل ایمان) کو اپنا مددگار کہتے ہوئے عزت سے نوازے۔

مختصر یہ کہ بندہ ہوکر معبود کا مددگار قرار پانا بہت بڑی سعادت ہے۔ اس طرح اللہ کی مددکرنے کا مطلب اس کے دین کے غلبہ کے لیے اس کے رسولؐ کی مدد ہے۔ اقامت دین اور اس کی جدوجہد کو اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے رسولؐ کی نصرت سے تعبیر فرمایا ہے۔

اسلامی تاریخ اس بات پر شاہد کہ اللہ کے اس حکم: *يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنصَارَ اللّهِ کے جواب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی متبرک قیادت میں چلنے والی تحریک کے عظیم و مقدس کارکنان نے اپنے قول و فعل سے اس کا جواب یہی دیا نَحْنُ أَنصَارُ اللّهِ پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئی اور جنگ اُحد کے پانچ سال بعد سن 8 ہجری میں مکہ فتح ہوگیا

اس طرح ملک عرب سے شرک کا خاتمہ ہوچکا اور توحید کا پرچم پوری آب و تاب کے ساتھ لہرانے لگا۔ ہر طرف امن و سکون کی کھیتیاں لہرا اٹھیں 

آج بھی یہ یقین دہانی ہمارے لیے حوصلہ و ہمت کے لیے کافی ہے ، اگر ہم اللہ تعالیٰ کے دین کی اقامت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی حفاظت ، سارے عالم میں امن وشانتی کا پیغام پہنچانے اور اللہ کے بندوں کو جہنم سے بچانے کے لیے کوششیں کریں تو پھر وہ دن دور نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہ نظارے ، ’’یَد خُلُونَ فی دین ِ اللہ اَفواجا ‘‘ ضرور کراے گا۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم نحن انصار اللہ کے معیار پر پورا اتریں۔۔۔۔۔!!!

یہ کام پورے جزبہ اخلاص ولِلٰہیت کا

متقاضی ہے۔

امید ہے کہ نباہیں گے امتحاں

جواس قدر متقاضی ہے امتحاں

مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

سینئر کالم نگار حیدرآباد

Cell:9849099228

One thought on “اے ایمان والو اللہ کے مددگار بنو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *