صاحبِ عرس قاسمی کون ہیں
صاحبِ عرس قاسمی کون ہیں ؟
تحریر: محمد تفسیر القادری احمدی پیلی بھیت
خاندانِ برکات کی بکھرتی ہوئی روایات کو از سرِ نو شیرازہ بند کرنے والے، مجددِ برکاتیت، احیاگرِ سننِ آبائی، حضرت قاسم البرکات، شاہ ابوالقاسم سید اسمعیل حسن شاہ جی میاں قدس سرہٗ، ۳ محرم الحرام ۱۲۷۲ھ کو مارہرۂ مطہرہ میں پیدا ہوئے۔
آپ کی کنیت ابوالقاسم اور لقب شاہ جی، آپ کے جدِّ امجد حضرت خاتم الاکابر سید شاہ آلِ رسول احمدی قدس سرہٗ نے تجویز فرمایا۔
نانا جان سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم نے نام اسمعیل حسن رکھا۔ سلسلے میں بعد ازاں آپ حاجی میاں کے لقب سے بھی مشہور ہوئے۔حسب و نسب حضرت سید شاہ ابو القاسم اسماعیل حس قدس سرہٗ کا سلسلہ نسب سیدنا امام حسین علیہ السلام کی شہادت گاہِ وفا سے ہوتا ہوا، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
یہ سلسلہ چالیس سے زائد طبقات پر محیط ایک طویل اور روشن شجرہ ہے، جس میں ہر ہر نام اپنی جگہ تاریخِ روحانیت کا درخشاں مینار ہے۔یہاں صرف یہ کہنا کافی ہے کہ آپ کی ذاتِ گرامی مشائخِ مارہرہ، ساداتِ بلگرام اور ساداتِ واسطہ کے پاکیزہ خون کا حسین امتزاج ہے۔
تعلیم و تربیت
رسمِ بسملہ خوانی حضرت خاتم الاکابر سید شاہ آلِ رسول احمدی نے خود فرمائی۔ابتدائی تعلیم والدِ ماجد کے سایۂ شفقت میں ہوئی اور بعد ازاں متعدد جید علما کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیے۔
آپ کے اساتذہ کرام
مولوی عبدالشکور صاحب مہامی مولوی محمد علی صاحب لکھنوی مولوی محمد حسن صاحب سنبھلی شیعی مولانا شاہ عبدالقادر بدایونی مولوی فضل اللہ صاحب فرنگی محلی حفظِ قرآن اگرچہ آپ نے دیگر کتبِ درسِ نظامی کے ساتھ قرآن کریم بھی بچپن میں پڑھا، مگر حفظِ قرآن کا شوق چالیس برس کے قریب عمر میں از خود پیدا ہوا
۔ ۱۳۰۰ھ کے حجِ بیت اللہ کی روحانی لذتوں نے یہ شوق مزید پختہ کیا اور آپ نے ازسرِنو قرآن مجید حفظ فرمایا۔اختتامِ حفظ پر والدِ ماجد نے آپ کی فرمائش پر سیتا پور میں خوب صورت مسجد تعمیر کروائی۔روحانی تربیت
طریقت و سلوک کی تکمیل احضرت خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدیسید السالکین سرکار نور سید شاہ ابو الحسین احمد نوریوالد ماجدمولانا عبدالقادر بدایونی قدس اسرارہمآپ علمِ جفر، علمِ تکسیر اور دیگر مخفی علوم میں منفرد مقام رکھتے تھے۔سخن آرائی سے بھی شغف تھا اور “شیدا” تخلص فرماتے تھے۔
عائلی زندگی
آپ کا عقد مسنون ماموں زاد بہن سیدہ منظور فاطمہ بنت سید نور المصطفیٰ کے ساتھ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں عطا فرمائیں۔
صاحبزادگان:1.حضرت سید غلام محی الدین فقیر عالم صاحب2.حضرت تاج العلما سید اولاد رسول محمد میاں فخر عالم علیہ الرحمہ صاحبزادیاں:زاہد فاطمہ، اعجاز فاطمہ، حمیرا فاطمہ اور اکرام فاطمہ۔اکرام فاطمہ ہی شہر بانو، والدہ ماجدۂ حضرت سید العلما و حضرت احسن العلما ہیں۔
حضرت سید غلام محی الدین فقیر عالم صاحب۳ ربیع الآخر ۱۳۰۲ھ مارہرہ میں پیدا ہوئے۔حافظِ قرآن، جید عالم، بلند پایہ مصنف، اور خلافت یافتہ والد ماجد و سرکار نور تھے۔
ان کی مؤثر تصانیف میں:مباحثِ امامت عقائد نامہ منظوم طرد المبتدعینیہ وہ کتب ہیں جن پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ نے تقریظات بھی تحریر فرمائیں۔آپ ۲۸ برس کی عمر میں ۱۳۳۰ھ میں وصال فرما گئے اور سرکار نور کے پہلو میں دفن ہوئے۔
اعلیٰ حضرت نے آپ کے وصال پر عربی زبان میں مرثیہ تحریر فرمایا۔تاج العلما سید اولاد رسول محمد میاں فخر عالم علیہ الرحمہ پیدائش: ۱۳ رمضان المبارک ۱۳۰۹ھ، سیتا پور۔قرآن برادر بزرگ سے حفظ کیا۔اپنے والد ماجد اور سرکار نور کے خاص تلامذہ میں سے تھے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ سے گہری محبت رکھتے تھے۔
آپ فرماتے تھے:> فقیر کو اگرچہ تلمذِ رسمی حاصل نہیں ہے مگر فقیر اُن کو اپنے اکثر اساتذہ سے برتر استاد مانتا ہے۔اپنی مشہور منقبت میں محبتِ امام احمد رضا یوں بیان فرماتے ہیں:تیری الفت میرے مرشد نے مجھے دی ہے گھٹی میں پلا، احمد رضالاکھ حاسد کچھ بکیں لیکن فقیرتیرا تیرا ہے ترا
احمد رضاتاج العلما نے خاندانِ برکات کی منتشر روایات کو اپنے قلم سے مرتب کیا، محفوظ کیا اور نسلوں کے لیے ایک شاندار علمی و تاریخی ورثہ چھوڑا۔
چالیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن میں:اصح التواریختاریخ خاندان برکاتخصوصی شہرت رکھتی ہیں۔شاعری میں “فقیر” تخلص فرماتے تھے اور مسدس شوکتِ اسلام آپ کی اعلیٰ شعری یادگار ہے۔مولانا سید محمد اشرف صاحب قبلہ “یادِ حسن” میں تحریر فرماتے ہیں:> “حضرت احسن العلما بزرگوں کا تذکرہ خصوصاً تاج العلما کا نام لیتے ہوئے اکثر آبدیدہ ہوجاتے۔
مرضِ وصال میں جب پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ کس کی یاد آتی ہے؟فرمایا: بَبّا خاندان برکات میں اس نام سے حضور تاج العلما کو یاد کیا جاتا تھا۔”اخلاق و اوصافصاحبِ عرس حضرت سید شاہ ابو القاسم اسماعیل حسن شاہ جی میاں علیہ الرحمۃ سادہ طبیعت، باحوصلہ، پرخلوص اور ہمدرد بزرگ تھے۔
فکری ژولیدگی آپ کو چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ دین و سنیت پر استقامت، اکابر کی روایات کا احترام و تحفظ، اعتدالِ فکر اور ثباتِ عمل آپ کی بنیادی خوبیاں تھیں۔
حضرت تاج العلما کے بقول:”حضرت مرشدی و مولائی والد ماجد دامت برکاتہم العالیہ کی سیرت کریمہ جو اس زمانۂ پر شور و شر میں بھی جبکہ طبائع نماز فرائضِ پنجگانہ کی عبادت سے بھی کسل اور کاہلی کی طرف مائل ہیں، اگلے بزرگانِ دین کی نفس کشانہ اور والہانہ طاعت و عبادت کی یاد دلاتی ہے۔ فقیر ان شاء الکریم جلّ مجدہ تفصیل سے اپنی بڑی کتاب میں درج کرے گا۔
مختصر یہ کہ حضرت صورتاً و سیرتاً بزرگانِ سلف کا نمونہ ہیں اور اُن کے صفاتِ حمیدہ و فضائلِ پسندیدہ کے حامل و وارث تھے۔“(تاریخ خاندانِ برکات، ص ۶۰)
علم پروری، صاف معاملگی، جرات مندی، کنبہ پروری اور خاندانی روایات کو اخلاف تک پہنچانے میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔
دنیاوی رعب کو بالکل قبول نہ کرتے تھے۔ صحت اچھی تھی۔ آپ دراز قد، گندمی رنگ، ستواں باریک ناک، باریک لب، خوب صورت چھوٹے دانت اور کشادہ شانہ رکھتے تھے۔ شمشیر زنی، گھڑ سواری اور تیراکی میں ماہر تھے۔ بڑے گھر کے شہتیر سیتا پور سے ندیوں میں تیروا کر لائے تھے۔
آثار و تبرکات سے خصوصی دل چسپی رکھتے تھے۔ ۱۳۰۰ھ میں حج بیت اللہ سے مشرف ہوکر واپس تشریف لائے تو مدینۂ طیبہ سے عجوا کھجور کا بیچ لائے اور حویلی کے صحن میں لگایا۔ یہ مبارک درخت آج بھی موجود ہے اور اس کی عمر ۱۲۶ برس ہو چکی ہے۔
بیعت و خلافت
حضرت شاہ قاسم کو بیعت و خلافت اپنے نانا سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم قدس سرہ سے حاصل تھی۔ والد ماجد سید شاہ محمد صادق، سرکار نور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری، سید شاہ ظہور حسین چھوٹے میاں اور مولانا شاہ عبدالقادر بدایونی قدس اسرارہم نے بھی اپنی خلافتوں سے نوازا تھا۔
شجرۂ بیعت
شجرۂ بیعت آپ کا شجرۂ بیعت حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ اور پھر وہاں سے سلسلہ وار حضور سید المرسلین ﷺ تک پہنچتا ہے۔اسی طرح آپ کو خاندانی بزرگوں سے تیرہ سلاسل اور قرآن و حدیث، مسلسلات و مصافحات کی تمام اجازتیں عطا ہوئیں۔
اس کی تفصیلات رسالہ النور والبہا لاسانید الحدیث و سلاسل الاولیا میں موجود ہیں۔سجادگیوالد ماجد خاتم الاسلاف سید شاہ محمد صادق قدس سرہ کے وصال (۲۴ شوال ۱۳۲۶ھ) کے چالیس دن بعد حضرت شاہ قاسم مسندِ برکاتیہ و سجادۂ غوثیہ کے سجادہ نشین ہوئے۔
حضرت تاج العلما فرماتے ہیں:”بعد وصال حضرت جدی حضرت کے چہلم کے روز حسب دستورِ قدیمِ خاندانی حضرت والد ماجد قبلہ و کعبہ دامت برکاتہم العالیہ زینت افزائے سجادہ غوثیہ برکاتیہ احمدیہ کے فیوض و برکات حضرت سے بفضلہ تعالیٰ جاری ہیں اور حضرت اپنے اسلافِ کرام کی یادگار ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت کا سایہ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے۔ آمین”(تاریخ خاندانِ برکات، ص ۲۰)
مجددِ برکاتیت
حضرت خاتم الاسلاف سید شاہ محمد صادق قدس سرہ نے خاندان کی علمی ودینی تربیت کا جو سلسلہ جاری کیا تھا، اس کی تکمیل ان کے جانشین حضرت ابو القاسم سید شاہ محمد اسماعیل حسن شاہ جی میاں قدس سرہ کے ہاتھوں ہوئی۔آپ نے:اسلاف کی روایات تازہ رکھیں۔افراد خاندان کے دینی رشتے مضبوط کیے۔خاندانی تبرکات امانت داری سے منتقل فرمائے۔
عظیم الشان کتب خانہ محفوظ کیا۔حفظ قرآن کی سنت جاری کی۔خاندان کے اکثر افراد کو حافظ قرآن بنانے میں محنت فرمائی۔انہی خدمات کی بدولت آپ کو “مجددِ برکاتیت” کا لقب عطا ہوا۔
حضرت تاج العلما لکھتے ہیں:”دورِ تاریکی و جہالت میں علم و عمل کی روشنی حضرت قبلہ کی ذات نے پھیلائی… بہتوں کو قرآن مجید حفظ کرایا… اپنے بزرگوں کے طریقے پر چلانے میں جدوجہد کی… اسی وجہ سے آپ کے بزرگ جو ظاہری حیات میں تھے اور جو پردہ فرما چکے تھے دونوں جانب سے آپ پر نوازشیں نازل ہوتیں۔”(تاریخ خاندان برکات، ص ۶۰–۶۱)
وصالِ پرملال
صاحبِ عرس حضرت ابو القاسم سید شاہ محمد اسماعیل حسن قادری برکاتی قدس سرہ کا وصال یکم صفر المظفر ۱۳۴۷ھ کو مارہرہ شریف میں ہوا۔