آزادی کے پنچھی
آزادی کے پنچھی
اظفر منصور
بات تقریباً سو دوسو سال پرانی ہے، مگر تاریخ کے اوراق پر اس طرح درج ہے جیسے ابھی کل کا ہی واقعہ ہو
سلمانوں کی سلطنت کا جب زوال شروع ہوا تو مالک المک نے ایک غیر ملکی و غیر مذہبی جماعت کو مسلمانوں کے مقابلے کے لیے بھیج دیا، جس سے زور آزمائی کر کے ایک طرف اپنی عزت بچانی تھی تو دوسری طرف تخت و سلطنت، لیکن ہر قوم کا ایک نہ ایک دن زوال ہوتا ہے، حکومت و سلطنت کے بال و پر نوچ لیے جاتے ہیں، اور یہاں بھی ایسا ہی ہوا، ویسے مسلمانوں نے تو خوب دل و جان سے ملک کے لیے ان غیر ملکی قابضوں سے پنجہ آزمائی کی، میسور میں ٹیپو سلطان ان سے میدان جنگ میں برسر پیکار تھے
تو ادھر مغلیہ سلطنت کے آخری چراغ بھی ٹمٹماتے لہجوں میں ان سے ملک کے لیے جان بازی لگا رہے تھے، لیکن ملک کی قسمت میں تو کچھ اور ہی لکھا تھا، ہر جگہ وقفے وقفے سے ان کے حقیقی مالکوں سے انکی زمینیں چھینی گئیں
اور پھر پورے ملک پر ایک غیر ملکی جماعت جو صرف تجارت کی غرض سے ہندوستان آئی تھی قابض ہوگئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے سیاق وسباق کی مالک بن گئی، رات پر اپنے پہرے بٹھا دئیے تو دن کو غریب نہتے باشندگان ہند پر ناروا سلوک، اور آفاقی اسلامی تمدن، بین المذاہب کی بھائی چارگی کو ختم کرنے کا ہدف عین سمجھ لیا
غرض کہ اسی طرح ظلم و ستم کے سائے میں دھڑکتے دلوں کے ساتھ کئی ماہ و سال بیت گئے، اور ان گذرے دنوں نے چند چنیدہ قلوب پر خواب آزادی کے کچھ نقوش بھی چھوڑے، جو بعد میں چنگاری، چنگاری سے آگ، آگ سے شعلہ، شعلہ سے شعلہ جوالہ بنتے ہوئے کئی آنکھوں نے دیکھے، کئی دماغوں نے محسوس کیا
اور اس طرح شہریوں کو بغاوت کی تپش نے گرمایا اور پھر الہلال نے حقیقت حال سے آگاہ کر دلوں کو تڑپایا، سوئی روحوں کو جگایا، نامراد ہستیوں کو سوز دروں سنا سنا کر بتایا کہ میاں ملک اب نئی راہ پر گامزن ہوچکا، ذہنوں نے اپنی آزادی کا بگل بجا دیا
جو غیر اصولی طرز پر ہم پر قادر ہیں، ان کیخلاف جہاد کا فتویٰ صادر کر دیا ہے، چنانچہ پھر کیا تھا، مسلمان! جس سے حکومت و سلطنت چھینی گئی تھی، جسے سب سے زیادہ مظلوم و محکوم بنایا گیا تھا، میدان حرب و جنگ میں کودے، ظالمین قابضین کو للکارا، ہم جلیس قوموں کو پکارا کہ آؤ قدم سے قدم ملا کر وطن کے لیے آج جان کی بازی لگاتے ہیں،
چناں چہ دنیا نے دیکھا مؤرخین نے لکھا، کہ کیسے مسلمان علما ہنستے مسکراتے پھانسی کے پھندے پر لٹکائے گئے، سوروں کے کھالوں میں بند کر کے ندیوں میں بہائے گئے، گرم گرم تیل کی کڑاہی میں پکائے گئے، توپوں سے اڑائے گئے، لیکن مجال کہ عزم و ہمت صبر و استقلال میں ارادتاً بھی کمی آئے
لہذا ایک بار پھر دنیا نے دیکھا کہ کیسے سن ۱۹۴۷ء میں سیاہ فاموں کے پاؤں اکھڑے، خیمے ہواؤں میں اڑے، کڑی محنت مشقت کے بعد لٹیرے سیاہ فام بھاگتے ہوئے نظر آئے، اور وطن عزیز دوبارہ خود مختار اور آزاد ملک بن گیا، پھر آزادی کی پنچھی دوبارہ اپنے ملک واپس آ گئی،
لیکن آج 74سال بعد ایسا لگتا ہے کہ پھر آزادی کی چڑیا جس کو حاصل کرنے کے لیے سو سال سے زائد کی قربانی لگی اڑ گئی یا عنقریب اڑنے والی ہے، موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ملک سے آزادی یا ڈیموکریسی کا تصور ختم ہو رہا ہے، جوکہ مستقبل میں ہمارے لیے نہایت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے
اس سے قبل کہ قائدین اخلاص و عزم و حوصلہ کا لبادہ اوڑھ کر قیادت کے لیے میدان میں آئیں، ورنہ کیا ممکن ہے کہ آزادی کی پنچھی اڑ جائے اور ملک دوبارہ اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں غلام بن جائے، اور ملک سسک سسک کر پکارے
اڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں
اظفر منصور
مدیر ماہنامہ سراغ زندگی
8768916854
Pingback: نفاذ جمہوریت سے استحصال جمہوریت تک ⋆ اظفر منصور
Pingback: دہلی کی جامع مسجد نقوش و تاثرات ⋆ اظفر منصور
Pingback: گورکھ پور کا ایک یادگار سفر اور تاثرات و تجربات ⋆ ظفر منصور
Pingback: مدارس اسلامیہ اور عصری تقاضے دور حاضر کی بہترین کتاب ⋆ محمد رفیع