سیاست اور مسلمان
سیاست اور مسلمان
خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں؟ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت کیا ہے؟
جمہورت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کر تے ہیں تو لا نہیں کر تے
جمہوریت میں عقل و خرد نہیں دیکھی جاتی بلکہ سرگنے جاتے ہیں۔
یہاں عقل و خرد اور حق و انصاف پر ذہنی تلون غالب ہوتا ہے اور فیصلہ حق و صداقت پر نہیں بلکہ اکثریت پر ہوتاہے۔
اب اکثریت کا ذہنی تلون اگر حرام پسند ہے تو خواہ اس میں ہزاروں خرابیاں اور نقصانات کیوں نہ ہوں، وہ پارلیمنٹ میں پاس ہوجائے گا، بس اس کے لیے سروں کی گنتی زیادہ ہوجائے۔
جیسے شراب کی اجازت امریکی جمہوریت میں قانوناً ہے ، گرچہ کروڑوں ڈالر خود امریکہ اسکے نقصانات سے آگاہی پر ہر سال خرچ کرتا ہے۔اور ہندستانی جمہوریت میں بھی اسکی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
ہندوستان میں %80 فیصد ہندو ہیں اور ان میں دو فیصد برہمن ہیں۔ ان دو فیصد برہمنوں نے ہندوستان پر برہمنی حکومت قائم کرنے کے لیے 1925ء میں آرایس ایس کی بنا رکھی اور اس کے بعد انھوں نے دوسرے تمام حرکت و عمل کو محدود کر کے، اپنی ساری توجہ لوگوں کے ذہن و فکر کو مسخر کرنے کے لیے، اور اپنے کنبے کی تعلیم و تربیت کے لیے لگا دی۔
آہستہ آہستہ انھوں نے اپنے لوگوں کو چپراسی سے لےکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک، اور وارڈ پارشد سے وزیراعظم کی کرسی تک پہنچا دیا۔ اور 98 سال کی طویل جدوجہد کے بعد آج حکومت کی پوری باگ ڈور ان کے قبضے میں ہے۔
ہندوستان میں مکمل طور پر برہمنی حکومت اور منواسمرتی نظام کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمان ہیں۔
اس لیے انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے کے لیے انھوں نے تین اہداف طے کیے۔
1. مسلمانوں کو الگ تھلگ کرکے سیاسی طور پر کمزور کرنا۔
2۔ اجڈ اور جاہل قوم بنا کر ہریجنو سے بھی نیچے درجے کا شہری بنانا۔
3- مفلوک الحال بنا کر رکھنا تاکہ انہیں دو وقت کی روٹی سے آگے سوچنے کی فرصت ہی نہ ملے۔
اقتدار سے بے دخلی:
سب سے پہلے یہ منصوبہ سازی کی کہ مسلمان پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں کم سے کم پہنچیں۔ اس کے لیے انھوں نے مسلم نام کی ایک ایسی پارٹی کا انتخاب کیا جس کا سربراہ تعلیم یافتہ داڑھی اور ٹوپی والا انٹیلیکچوئل مسلمان ہے۔
پھر بی جے پی اور اس کے درمیان نورا کشتی کا کھیل شروع ہوا، جس سے بی جے پی پورے ملک پر چھا گئی اور مسلمان الگ تھلگ ہو کر عضو معطل ہو گئے۔
یہ الگ بات ہے کہ پوری قوم کی تباہی کے ساتھ وقتی طور پر فلاں صاحب اور ان کے حواریوں کو کچھ فائدے بھی حاصل ہوئے ہیں۔
لیکن نورا کشتی کے اس کھیل نے مسلم وٹروں کی شبیہ کو سخت مسلم ووٹ بینک میں تبدیل کردیا، جس سے دیگر بڑی پارٹیوں کی دلچسپی بھی مسلم ووٹروں سے سوتیلی سی ہوگئی۔ نتیجتاً دوسری پارٹیوں نے بھی مسلم نیتاؤں کو حاشیے پر ڈالنا شروع کیا اور مسلم مسائل پر بات کرنا بھی بندکر دیا۔
ساتھ ہی پارٹی کے مسلم نیتا بھی اپنے اثر و رسوخ سے ہاتھ دھو بیٹھے، اعظم خان اور آزاد وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔
اجڈ اور وحشی قوم ثابت کرنا
جرائم پیشہ لوگ ہر مذہب وملت میں ہیں۔ لیکن ایک منظم منصوبے کے تحت، مسلم کرمنلز کو بھیانک جرائم میں ملوث کیا جاتا ہے اور پھر گودی میڈیا، اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ ایسا کر کے وہ ہندؤں کے ذہن و دماغ میں مسلمان سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔
اور من حیث القوم پوری مسلم سوسائٹی کو ایک نقصان دہ عنصر ثابت کردیا جاتا ہے۔ دہائیوں سے معمولی باتوں پر بلکہ کبھی بلا کسی جرم کے مسلم نوجوانوں کو پکڑ کر جیلوں میں ٹھونسنے کے پیچھے بھی برہمنوں کی ایک بڑی چال کارفرما ہے۔ اور وہ کافی حد تک اس میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔
مسلمانوں کو مزدور بنا کر رکھنا
مذکورہ بالا دونوں ترکیبوں کے علاوہ اور بھی طریقے اور حربے، کے علاوہ مسلمانوں کی ماب لنچنگ بھی ان کے منصوبوں کی رہی سہی کسر کو پورا کرنے کے لیے ہے۔ تاکہ یہ قوم خوف زدہ ہوکر، غریب و افلاس پر ہی قناعت کر کے مزدور بنی رہے۔ بصورت دیگر ، اگر سر اٹھا کر جینے کی کوشش کرے تو دہشت گرد کہہ کر مار دیا جائے، یا یواے پی اے لگاکر پس زنداں کردیا جائے
لمحۂ فکر اور علاج
مسلمانوں کا بھی ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے، جو پوری دنیا کے ساتھ مسلمانوں کے چودہ سو سالہ عروج و زوال کے واقعات و حالات کا تجزیہ کرے اور بہتر سے بہتر منصوبہ بنائے۔
تاکہ ہم مسلمان بھی مومن بن کر، اور سر بلند ہوکر با وقار زندگی گزار سکیں۔ جب دو فیصد برہمن ایسا کرسکتے ہیں تو ہم صاحب ایمان 15/ فیصد مسلمان ایسا کیوں نہیں کرسکتے ہیں؟
دشمن کے ارادوں کو ظاہر ہے اگر کرنا
تم کھیل وہی کھیلو انداز بدل ڈالو
اے دوست کرو ہمت کچھ دور سویرا ہے
اگر چاہتے ہو منزل تو پرواز بدل ڈالو
یہ ہمارا حق ہے کہ ہم دنیا میں حاکم بن کر رہیں۔ اس کے لیے ہمیں منصوبہ بندی کرنی ہو گی۔ عیش و آرام کو چھوڑ کر میدان عمل میں قدم رکھنا ہوگا۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
محمد شہادت حسین فیضی
9431538584
Pingback: احقاق حق کے نام پر جھگڑے ⋆ محمد شہادت حسین فیضی
Pingback: مرکز کے خلاف سازشیں ⋆ اردو دنیا محمد شہادت حسین فیضی
Pingback: عالمی یوم ماحولیات اور اسلام ⋆ محمد شہادت حسین فیضی