سپریم کورٹ نے مساجد سے لاؤڈاسپیکر نکالنے کا حکم نہیں دیا ہے
از : محمد یوسف رضا قادری سپریم کورٹ نے مساجد سے لاؤڈاسپیکر نکالنے کا حکم نہیں دیا ہے
سپریم کورٹ نے مساجد سے لاؤڈاسپیکر نکالنے کا حکم نہیں دیا ہے
ان دنوں بعض لوگ مساجد سے لاوڈاسپیکر نکالنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ مساجد میں لاوڈاسپیکر لگانا اور اس کا استعمال کرنا سپریم کورٹ کی خلاف ورزی ہے یہ سراسر بےبنیاد بات ہے سپریم کورٹ نے جو حکم جاری کیاہے یا لاوڈاسپیکر کے سلسلے میں جو قانون ہے اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ان باتوں کا لحاظ رکھاجائےتاکہ کسی کو شرانگیزی کاموقع نہ ملے
1 ۔ رات میں دس بجے سے صبح 6بجے تک لاوڈاسپیکر کا استعمال منع ہے اس میں مسجد کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔۔مسجد مندر گرجا گردوارہ یا کسی بھی مذہبی غیر مذہبی پروگرام میں رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک لاوڈاسپیکر کا استعمال نہیں کیاجاسکتا
2۔۔فجر میں بھی لاوڈاسپیکر کے استعمال کی کوئی ممانعت سپریم کورٹ نے نہیں کی ہے صرف یہ ہے کہ جب فجر کی اذان صبح 6 بجے سے پہلے دینی ہوتولاوڈاسپیکر کا استعمال نہیں کیاجاسکتا ۔۔ہاں صبح چھ بجے کے بعد اذان دینی ہوتو کوئی حرج نہیں ہے
3 ۔۔الگ الگ علاقوں میں اور الگ الگ موسم میں فجر کا وقت بدلتا رہتا ہے جیسے ابھی ممبئی واطراف میں مئی کے مہینے میں ابتدا میں چھ بج کر نو منٹ اور مہینے کے آخر میں چھ بجے تک فجر کا وقت ہی ختم ہوجاتاہے لھذا مئی جون جولائی اگست کے ماہ میں ممبئی واطراف میں فجر کی اذان میں لاؤڈسپیکر کااستعمال نہیں کیاجاسکتا
4۔۔البتہ ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل میں چھ بجے کے بعد بھی فجر کاوقت باقی رہتاہے اس لئے چھ بجکر ۱ منٹ پر اذان لاوڈاسپیکر سے دی جاسکتی ہے
5 ۔ ۔ ممبئ واطراف میں ستمبر میں چھ بجے کے بعدفجرکا وقت کم رہ جاتاہے ایسی صورت میں چھ بج کر ایک منٹ پر اذان لاوڈاسپیکر سے دی جایے اور پانچ دس منٹ یا وقت کے حساب سے جماعت کا نظم کرلیاجائے صرف اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ اگر نماز میں کوئی خرابی واقع ہوتو طہارت ۔کرکے دوبارہ ترتیل کے ساتھ چالیس سے ساٹھ آیتیں پڑھ سکے
6۔۔ دوسری پابندی جولگائی گئی ہے وہ یہ ہےکہ لاوڈاسپیکر کی آواز کتنی ہو۔۔
تو رہائشی علاقوں میں 55 ڈیسیبل
تجارتی علاقوں میں 65 ڈیسیبل
سائیلینس زون میں 50 ڈیسیبل
صنعتی علاقوں میں 75 ڈیسیبل
ہوناچاہیے اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں بھی قانونی کاروائی ہوسکتی ہے لھذا ڈیسیبل کو سیٹ کرکے رکھاجایے
7۔۔ڈیسیبل کیاہے۔۔۔جس طرح سے ہر چیز کاپیمانہ ہوتا ہے اسی طرح سےآواز کو ناپنے کا بھی پیمانہ ہوتاہے اسے ڈیسیبل کہاجاتاہے اس کی ایک مشین آتی ہے جس کی قیمت تقریبا پچیس ہزار ہے اس سے آواز کو حسب منشا سیٹ کیاجاسکتا ہے ۔
اذان کے وقت اس مشین کو چالو کردیجئے مشین خود بتادے گی کہ آواز کا ڈیسیبل لیول کیا ہے۔بلکہ اس کا پرنٹ بھی نکالا جاسکتاہے یہ بالکل ویساہی ہوتاہے جیسا دل کا کارڈیوگرام.یہ پلے اسٹور سے بھی دستیاب ہوجاتاہے
مگر وہ معتبر نہیں ہوتااور اس کی کارکردگی بھی سو فیصد صحیح نہیں ہوتی اس لیے اس کی جو خاص مشین آتی ہے اسی سے ڈیسیبل سیٹ کیاجائے۔
ان دنوں پولیس بھی یہ خدمات پیش کررہی ہے آپ لوگ مقامی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کریں ان کا آدمی آکر آواز کا ڈیسیبل سیٹ کردیگا
8۔۔رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک ۔۔وقت کا اور آواز کے ڈیسیبل کا۔۔ لحاظ ضرور رکھاجائے۔۔۔اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کاروئی ہوسکتی ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں پانچ سال تک کی قیداور ایک لاکھ روپیہ جرمانہ ہوسکتاہے
9۔۔ایک پابندی یہ بھی ہے کہ اسکول ہاسپٹل اور عدالتوں کے اطراف سومیٹر تک لاوڈاسپیکر مطلق استعمال نہیں کیاجاسکتا
10۔ لاوڈاسپیکر کے استعمال کے یہ اصول کئی سال قبل سپریم کورٹ نے بتا دیئے مگر ابھی تک اس پر سختی سے عمل نہیں ہورہا تھا اس لیے کہ ہر مذہب اور پارٹی کے لوگ اس کا استعمال ان اصولوں کے خلاف کررہے تھے
مگر اب کچھ لوگ اس پر شور مچارہے ہیں اس لیے اب پولیس ان اصولوں پر عمل کرانے کے لیے سختی کررہی ہے ۔۔
مگر اب سیاسی لیڈران بھی جلسوں اور جلوسوں میں لاؤڈسپیکر پر شور شرابہ نہیں کرسکیں گے ان اصولوں کا لحاظ ہر جلسے جلوس میں چاہے مذہبی ہو یا سیاسی سب کو کرنا ہوگا
11۔۔اب ہر عبادت گاہ پر لاوڈاسپیکر کے استعمال کے لیے پولیس پرمیشن کوبھی لازمی کیا جارہاہے اب تک تو یونہی چل رہاتھامگر اب اس سلسلے میں بھی انتظامیہ سختی کررہی ہے لھذا جن علاقوں میں پرمیشن لیناناگزیر ہوجائے وہاں پرمیشن لےلیاجائے۔
اس پرمیشن کی مدت کیاہوگی یہ مستقل ہوگا یااس کی کوئی مدت ہوگی اس سلسلے میں انتظامیہ کی طرف سے کوئی حتمی بات نہیں بتائی جارہی ہے
12۔۔جن دنوں میں فجر کی اذان لاوڈاسپیکر سے نہیں دی جائے۔ ان دنوں میں یاددہانی کے لیے عشاء کے وقت فجر کی جماعت کے وقت کا اعلان کردیاجائے
محمد یوسف رضا قادری
رکن جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء نئی دہلی و تنظیم علماے اہل سنت بھیونڈی